Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

علی اقتدار شاہ دارا، جنہوں نے پاکستان کو ’ہاکی کی سپر پاور‘ بنایا

علی اقتدار شاہ دارا ہٹلر کے سامنے جرمنی کی ٹیم کو شکست دینے والی ہندوستانی ہاکی ٹیم کا حصہ تھے۔ (فوٹو: فلکر)
انڈین میڈیا میں یہ خبر گردش کر رہی ہے کہ ملائیشیا میں کھیلے جانے والے ہاکی کے سالانہ ٹورنامنٹ اذلان شاہ ہاکی ٹورنامنٹ میں پاکستان کو رواں برس دعوت نہیں دی گئی ہے حالانکہ پاکستانی ٹیم گذشتہ برس کی فائنلسٹ تھی اور اس نے نقرئی تمغہ جیتا تھا۔
پاکستانی ٹیم کی عدم موجودگی کی کوئی قطعی وجہ تو سامنے نہیں ہے آئی البتہ پاکستان کو ہرا کر طلائی تمغہ جیتنے والی جاپانی ٹیم کو بھی جاری کردہ شیڈول میں جگہ نہیں ملی ہے۔
بہرحال ہم یہاں اذلان شاہ ٹورنامنٹ پر نہیں بلکہ پاکستان کے پہلے ہاکی کپتان علی اقتدار شاہ دارا کی بات کر رہے ہیں جو جرمنی کے آمر ہٹلر کے سامنے جرمنی کی ٹیم کو شکست دینے والی ہندوستانی ہاکی ٹیم کا حصہ تھے۔
علی اقتدار شاہ آج سے کوئی 110 سال قبل یکم اپریل 1915 کو مغربی پنجاب میں پیدا ہوئے تھے۔
انہیں یہ اعزاز بھی حاصل ہے کہ وہ پاکستان کے سب سے زیادہ عرصے تک مینیجر رہے اور شاید دنیائے ہاکی میں اس کی نظیر نہیں ملتی۔
آزادی سے پہلے ہندوستان نے اپنا آخری سونے کا تمغہ سنہ 1936 میں برلن میں جیتا تھا۔ ابتدا میں دارا ٹیم کا حصہ نہیں تھے کیونکہ ان کی فوج کی یونٹ نے انہیں فارغ کر دیا تھا۔
لیکن جب ہندوستانی ہاکی ٹیم اپنا پہلا پریکٹس میچ جرمنی کے خلاف ہار گئی تو فوری طور پر دارا کو بلایا گیا اور انہوں نے انڈین ٹیم کے لیے فارورڈ کے طور پر دو میچوں میں شرکت کی اور انڈیا کو جرمنی کے خلاف ایک کے مقابل آٹھ گول سے شکست دینے والی ٹیم کا حصہ رہے۔
دوسری عالمی جنگ کی وجہ سے 1940 اور 1944 کا اولمپکس نہیں ہو سکا اور جب سنہ 1948 میں اولمپکس منعقد ہوا تو وہ ایک نئے ملک پاکستان کی ٹیم کے کپتان تھے۔ اور ان کے مخالف وہ انڈین ٹیم تھی جس کا وہ کبھی حصہ تھے۔
علی اقتدار شاہ دارا کے سر پاکستان کو ہاکی کی ’سپر پاور‘ بنانے کا سہرا جاتا ہے۔ فوج میں ہونے کی وجہ سے انہوں نے دوسری جنگ عظیم میں حصہ لیا اور وہ ملائیشیا میں جاپانیوں کے ہاتھوں پکڑے گئے اور جیل بھی گئے۔ اس زمانے میں انہوں نے ہندوستان کے سرکردہ رہنما سبھاش چندر بوس کی آئی این اے یا آزاد ہند فوج میں شمولیت اختیار کی تھی تاکہ برطانیہ کا ہندوستان سے تسلط ختم کیا جا سکے۔
لیکن برطانیہ نے ازخود ہندوستان کو آزاد کرنے کا فیصلہ کیا جس کی صورت میں ایک نیا ملک پاکستان وجود میں آیا۔ مغربی پنجاب سے تعلق رکھنے کی وجہ سے سنہ 1947 میں تقسیم ہند کے بعد انہوں نے پاکستان میں ہی رہنے کا فیصلہ کیا۔

علی اقتدار شاہ دارا نے سنہ 1956 کے اولمپک کھیلوں میں چاندی کا تمغہ جیتنے والی پاکستانی ٹیم کو تربیت دی۔ (فائل فوٹو: ایلیٹ سپورٹس)

جب 1948 کے لندن اولمپکس میں ٹیم بھیجنے کی بات سامنے آئی تو دارا ٹیم کو تیار کرنے اور اس کی قیادت کے لیے پہلی پسند ٹھہرے۔ اگرچہ ان کی ٹیم کوئی میڈل نہ جیت سکی لیکن انہوں نے لندن اولمپکس میں ٹیم کو باوقار حیثیت دلائی۔
پاکستان کی ٹیم گروپ سی میں تھی اور اس نے نیدرلینڈ، بیلجیئم، فرانس اور ڈنمارک کو شکست سے دوچار کیا اور ٹیبل میں پہلے نمبر پر رہی۔ اس نے چار میچوں میں 20 گول کیے جبکہ اس کے خلاف صرف تین گول ہوئے۔
پاکستانی ٹیم اس ٹورنامنٹ میں کانسی کا تمغہ جیتنے سے محروم رہی اور چوتھے نمبر پر آئی۔ سیمی فائنل میں وہ انگلینڈ سے صفر کے مقابلے دو گول سے ہار گئی جبکہ کانسی کے لیے اس کا مقابلہ اسی نیدرلینڈ سے تھا جسے اس نے گروپ میچ میں ایک کے مقابلے چھ گول سے ہرایا تھا لیکن اس فیصلہ کن میچ میں وہ پیچھے رہ گئی۔
یہ میچ پہلے ایک ایک گول سے برابر رہا پھر جب دوسرے دن میچ ہوا تو پاکستانی ٹیم ایک کے مقابلے چار گول سے ہار گئی۔ گروپ میچ میں علی اقتدار شاہ دارا نے نیدرلینڈز کے خلاف چار گول کیے تھے۔
سنہ 1952 کا اولمپکس گیمز ہیلسنکی میں منعقد ہوا۔ کوارٹر فائنل میں پاکستان نے فرانس کو صفر کے مقابلے چھ گول سے روند ڈالا۔ لیکن سیمی فائنل میں وہ نیدرلینڈ سے ایک گول سے ہار گئی اور جب کانسی کے تمغے کے لیے انگلینڈ سے مقابلہ ہوا تو ایک بار پھر اسے ناکامی ہاتھ لگی اور وہ انگلینڈ سے دو ایک سے ہار گئی۔
اس کے بعد دارا ٹیم کے کوچ بن گئے۔ انہوں نے سنہ 1956 کے اولمپک کھیلوں میں چاندی کا تمغہ جیتنے والی ٹیم کو تربیت دی۔ میلبرن میں ہونے والی اس گیمز میں انڈیا اور پاکستان کی ٹیمیں فائنل میں پہنچی تھیں۔ انڈیا نے ایک صفر سے کامیابی حاصل کی اور سونے کا تمغہ حاصل کیا۔

انڈیا میں ’ہاکی کے جادوگر‘ کہے جانے والے دھیان چند، علی اقتدار شاہ دارا کے اچھے دوست تھے۔ (فائل فوٹو: ممبئی مررز)

علی اقتدار شاہ دارا نے اس کا بدلہ سنہ 1960 کے روم اولمپکس میں لے لیا جب ان کی ٹیم نے انڈیا کی ہاکی پر جاری اجارہ داری کو چیلنج کرتے ہوئے اسے شکست سے دوچار کیا اور پاکستان کے لیے گولڈ میڈل جیتا۔
انڈیا میں ’ہاکی کے جادوگر‘ کہے جانے والے دھیان چند ان کے اچھے دوست تھے۔ کبھی دونوں نے ایک ساتھ ہاکی کھیلی تھی لیکن اب وہ ایک دوسرے کے مخالف تھے تاہم ان میں اچھی دوستی تھی۔
دھیان چند کے بیٹے اور معروف ہاکی کھلاڑی اشوک کمار بتاتے ہیں کہ دونوں ایک دوسرے کی بہت عزت کرتے تھے۔ انہوں نے انڈیا ٹائمز کے ساتھ ایک خصوصی انٹرویو میں بتایا کہ دونوں کی 26 سال بعد انڈیا میں اس وقت کی وزیراعظم اندرا گاندھی کے بنگلے پر ملاقات ہوئی تھی اور ایسا لگا کہ یہ 26 سال کی دوری ان کی زندگی میں تھی ہی نہیں۔
اشوک کمار کے مطابق ان کے والد بھی دارا کی طرح فوج میں تھے۔ ان کے والد سنہ 1935 میں کوئٹہ میں تعینات تھے اور انہیں جو تنخواہ ملتی تھی وہ وہاں کے بینک میں جمع ہوا کرتی تھی۔
سنہ 1947 میں آزادی کے بعد ان کے والد کے 13 ہزار روپے بینک میں پھنس گئے۔ لاکھ خط و کتابت کے باوجو وہ انہیں نہ مل سکے۔ جب دارا سے اندرا گاندھی کے بنگلے پر ان کی ملاقات ہوئی تو دھیان چند نے کہا ’یار دارے، جب سے میں نکلا ہوں میرا فوج کا پیسہ اس بینک میں جمع ہے، وہاں سے نہیں نکل سکا ہے۔‘
اشوک کمار کا کہنا تھا کہ ’مجھے پتہ نہیں کہ دارا نے وہاں کیا کیا لیکن انہوں نے اتنا یقینی بنایا کہ میرے والد کا پیسہ میرے والد کے انڈیا والے اکاؤنٹ میں پہنچ جائے۔ انہوں نے ہمارے لیے یہ بڑا کام کیا اور ہمارے گھر کی ضروت پوری ہو سکی۔‘

علی اقتدار شاہ دارا نے شبھاش چندر بوس کی آزاد ہند فوج میں شمولیت اختیار کی تھی۔ (فائل فوٹو: دی ویک)

اشوک کمار بذات خود ہاکی کے نامور کھلاڑی رہے ہیں اور انہوں نے سنہ 1975 کے ورلڈ کپ میں پاکستان کے خلاف گول کر کے انڈیا کو گولڈ میڈل جتایا تھا جس کے بعد اب تک انڈیا کو ورلڈ کپ میں کوئی گولڈ میڈل نہیں ملا ہے۔
بہرحال آج دارا کی قائم کردہ لیگیسی پاکستان میں شرمسار ہے کہ اسے ایک زمانے سے ہاکی کی دنیا میں پسپائی ہی مل رہی ہے۔

 

شیئر: