وزیراعظم شہباز شریف اور قائد حزب اختلاف راجہ ریاض نے بلوچستان عوامی پارٹی کے رہنما سینیٹر انوار الحق کاکڑ کو نگران وزیراعظم نامزد کر کے سیاسی و صحافتی حلقوں کو سرپرائز دے دیا ہے۔
اس کی وجہ یہ ہے کہ گذشتہ دو ماہ میں نگران وزیراعظم کے لیے جتنے بھی امیدواروں کے نام سامنے آئے سینٹر انوار الحق کاکڑ کا نام ان میں شامل نہیں تھا۔
سنیچر کو وزیراعظم شہباز شریف اور قائد حزب اختلاف راجہ ریاض کے درمیان فیصلہ کن مشاورتی ملاقات ہوئی۔ اس ملاقات کے بعد وزیراعظم ہاؤس سے جاری ہونے والے اعلامیہ میں بتایا گیا کہ وزیراعظم اور قائد حزب اختلاف نے بلوچستان سے سینیٹر انوار الحق کاکڑ کو بطور نگران وزیراعظم تعینات کرنے پر اتفاق کیا ہے۔
مزید پڑھیں
-
سینیٹر انوارالحق کاکڑ نگراں وزیراعظم ہوں گے، صدر نے منظوری دے دیNode ID: 787046
-
نگراں وزیر اعظم کے لیے نامزد انوار الحق کاکڑ کون ہیں؟Node ID: 787056
بعد ازاں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے راجہ ریاض نے بھی اس امر کی تصدیق کی۔ راجہ ریاض نے کہا کہ باقی پانچ نام جن پر مشاورت کی گئی تھی اس حوالے سے فیصلہ ہوا ہے کہ انہیں منظر عام پر نہیں لایا جائے گا۔
قومی سیاسی افق پر انوار الحق کاکڑ کا نام پہلی مرتبہ مارچ 2018 کے سینٹ انتخابات کے وقت سامنے آیا۔ جب وہ بلوچستان عوامی پارٹی کے منتخب سینٹرز کی سربراہی کرتے ہوئے اسلام آباد پہنچے تھے۔
اس وقت پاکستان پیپلز پارٹی اور تحریک انصاف کی جانب سے پہلے انہیں چیئرمین سینٹ بننے کی پیشکش کی گئی تھی لیکن بعد ازاں صادق سنجرانی کو چیئرمین سینٹ نامزد کیا گیا۔
انوار الحق کاکڑ کو ایک ایسے وقت میں وزیراعظم نامزد کیا گیا ہے جب اس دوڑ میں درجن بھر امیدوار شامل تھے جن میں سے کچھ مبارکبادیں تک وصول کر چکے تھے۔ خود وزیراعظم اور قائد حزب اختلاف یہ بات تسلیم کر چکے ہیں کہ انہوں نے تین تین افراد کو نامزد کیا تھا جن میں ایک انوار الحق کاکڑ کا نام سامنے آیا ہے، جبکہ باقی پانچ کے نام صیغہ راز میں رکھے گئے ہیں، تاہم وزیر خزانہ اسحاق ڈار سابق سیکریٹری خارجہ جلیل عباس جیلانی سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی سابق وزیر خزانہ حفیظ شیخ چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی فواد حسن فواد جسٹس خلیل الرحمن رمدے جسٹس تصدق جیلانی ڈاکٹر باکر رضا احد چیمہ سمیت متعدد افراد کے نام وزارت عظمی کے لیے میڈیا کی زینت بنتے رہے۔
یہ بھی محض اتفاق ہے کہ گذشتہ ایک ماہ سے ہر دوسرے دن نگران وزیراعظم کا ایک مضبوط امیدوار سامنے آتا اور 24 گھنٹے بعد اس کا نام ٹی وی سکرین سے غائب ہو جاتا تھا، جبکہ کسی دوسرے امیدوار کا نام مضبوط امیدوار کے طور پر سامنے آجاتا تھا۔ آٹھ اگست کو سابق سیکریٹری خارجہ جلیل عباس جیلانی کو وزارت عظمی کا مضبوط ترین امیدوار قرار دیا گیا۔ ان کے ساتھی اور سابق سفیر عبدالباسط نے ٹویٹر پر انہیں مبارکباد بھی پیش کر دی۔

اس کے علاوہ بھی ان کے دوستوں کی جانب سے میسجز اور کالز پر انہیں مبارکبادیں پیش کی جاتی رہیں۔ ذرائع کے مطابق انہوں نے ان مبارکبادوں کے جواب میں شکریہ کے کلمات کہے۔ اس سے قبل سابق وزیر خزانہ اسحاق ڈار کا نام بھی وزارت عظمی کے لیے سامنے آیا تھا۔ پیپلز پارٹی اور دیگر جماعتوں کی جانب سے اس پر تحفظات کا اظہار کیا گیا لیکن نون لیگ نے واضح طور پر ان کے نگران وزیراعظم بننے کے حوالے سے کوئی تردید نہیں کی تھی۔
سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے بھی اپنے نگران وزیراعظم بننے کے حوالے سے یہ کہا تھا کہ اگر انہیں یہ ذمہ داری ملی تو وہ اسے نبھائیں گے۔
انوار الحق کاکڑ واحد شخصیت ہیں جن کا نام آج اعلان ہونے سے قبل وزارت عظٰمی کے لیے کسی طور بھی سامنے نہیں آیا تھا۔ گذشتہ شام جب وزیراعظم کی صحافیوں سے الوداعی ملاقات ہوئی تو اس وقت بھی صحافیوں نے وزیراعظم سے متعدد بار نگراں وزیراعظم کا نام پوچھنے کی کوشش کی، لیکن انہوں نے نام لینے سے گریز کیا۔ تاہم ملاقات کے بعد وہاں موجود اعلی ترین حکومتی ذرائع نے اردو نیوز کو یہ بتایا تھا کہ جو نام اب تک ٹی وی چینلز پر چل رہے ہیں ان میں سے کوئی بھی وزیراعظم نہیں ہوگا۔
