Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

سعودی اور انڈین سفیروں کا ولی عہد کے دورے اور جی 20 میں شرکت کی اہمیت پر زور

انڈین سفیر کا کہنا تھا کہ ولی عہد کا یہ دورہ جی 20 سربراہی اجلاس اور دو طرفہ تعلقات کے لیے انتہائی اہمیت کا حامل ہے (فوٹو: ایس پی اے)
سعودی عرب میں انڈیا کے سفیر سہیل اعجاز خان نے ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کے دورۂ انڈیا اور جی 20 سربراہی اجلاس میں ان کی شرکت کی اہمیت پر زور دیا ہے۔
عرب نیوز نے سعودی پریس ایجنسی (ایس پی اے) کے حوالے سے لکھا کہ سہیل اعجاز خان کا کہنا تھا کہ یہ دورہ جی 20 سربراہی اجلاس اور دو طرفہ تعلقات کے لیے انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔
انہوں نے ان مختلف ملاقاتوں پر روشنی ڈالی جن میں مملکت نے انڈیا کی جی 20 کی صدارت کے دوران شرکت کی۔ ان ملاقاتوں میں توانائی، معیشت اور جی 20 سے متعلق سرگرمیوں سمیت مختلف موضوعات کا احاطہ کیا گیا۔
عالمی تعاون کے لیے انڈیا کی وابستگی واضح تھی کیونکہ اس نے 60 شہروں میں 220 سے زیادہ اجلاسوں کی میزبانی کی، جس میں 115 سے زیادہ مختلف ممالک کے 18 ہزار مندوبین کا خیرمقدم کیا گیا۔
سہیل اعجاز خان نے کہا کہ جی 20 کی انڈیا کی صدارت نے دنیا کے سب سے اہم چیلنجز سے نمٹنے اور جامع ترقی کو فروغ دینے کے لیے جامع حل تلاش کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔
دریں اثنا انڈیا میں سعودی سفیر صالح عید الحسینی نے جی 20 میں مملکت کی طرف سے ادا کیے جانے والے اہم کردار پر زور دیا، جو عالمی اقتصادی ترقی اور خوشحالی کو فروغ دینے کے لیے بین الاقوامی کوششوں کے کلیدی جزو کے طور پر کام کرتا ہے۔
سعودی سفیر نے ولی عہد کے انڈین دارالحکومت کے دورے کی اہمیت پر بھی زور دیا۔
انہوں نے مملکت اور انڈیا کے درمیان گہرے اور تاریخی تعلقات کی طرف اشارہ کیا جو 2019 سے نمایاں طور پر بڑھے ہیں، جنہیں ولی عہد اور انڈین وزیر اعظم نریندر مودی کی مشترکہ صدارت میں سٹریٹجک پارٹنرشپ کونسل کے قیام سے اجاگر کیا گیا ہے۔
صالح عید الحسینی نے اپنے اپنے خطوں اور عالمی سطح پر دونوں ممالک کی اقتصادی اہمیت کے بارے میں بات کی۔ انہوں نے کہا کہ ان عوامل نے تجارت، سرمایہ کاری اور ٹیکنالوجی کی منتقلی کے وسیع مواقع فراہم کیے اور عالمی اقتصادی سلامتی، توانائی اور غذائی تحفظ میں اہم کردار ادا کیا۔
سفیر نے کہا کہ سعودی عرب انڈیا کا چوتھا سب سے بڑا تجارتی پارٹنر ہے، جبکہ انڈیا سعودی عرب کا دوسرا سب سے بڑا تجارتی شراکت دار ہے، اور دونوں ممالک کے درمیان تجارتی تبادلے کا حجم 50 فیصد بڑھ کر 53 ارب ڈالر تک پہنچ گیا ہے، جو کہ 2021 میں 35 ارب ڈالر تھا۔ 

سعودی سفیر نے کہا کہ مملکت کا اثر علاقائی سطح سے بڑھ کر عالمی سطح تک پھیلا ہوا ہے (فوٹو: بندر الجلعود)

انہوں نے سٹریٹجک اشیا اور خدمات کے لیے مختلف سپلائی چینز میں مملکت اور انڈیا کے باہمی انحصار کو اجاگر کیا۔ مملکت کے لیے انڈین تیل، پیٹرو کیمیکلز اور کھادوں کی درآمدات نے قابل اعتماد ذریعہ کے طور پر کام کیا، اور توانائی کے تحفظ اور قیمتوں کے استحکام میں اہم کردار ادا کیا۔ 
مزید یہ کہ سعودی عرب میں انڈین افرادی قوت نے لیبر مارکیٹ کو بڑھایا اور دونوں ممالک کے درمیان مضبوط تعلقات کو فروغ دیا۔
سعودی سفیر نے کہا کہ مملکت کا اثر علاقائی سطح سے بڑھ کر عالمی سطح تک پھیلا ہوا ہے، کیونکہ اس کا شمار دنیا کی بڑی معیشتوں میں ہوتا ہے اور جی 20 کا مشرق وسطٰی کا واحد رکن ہے، جو عالمی اقتصادی چیلنجوں سے نمٹنے کے لیے ایک اہم بین الاقوامی پلیٹ فارم ہے۔
اس سال انڈیا میں جی 20 سربراہی اجلاس کا وقت خاص طور پر اہم ہے۔ 2022 میں انڈیا کی اقتصادی ترقی کو دیکھا جائے تو یہ آبادی کے لحاظ سے دنیا کے سب سے بڑے ممالک میں سے ایک ہے اور عالمی سطح پر پانچویں بڑی معیشت ہے۔
صالح عید الحسینی نے یہ بھی کہا کہ 2022 میں سعودی عرب اور جی 20 ممالک کے درمیان تجارت کا حجم 421 ارب ڈالر تک پہنچ گیا۔ جی 20 ممالک مجموعی طور پر عالمی گھریلو پیداوار کا 85 فیصد، دنیا کی آبادی کا 60 فیصد، اور عالمی تجارتی حجم کا 75 فیصد ہیں۔
انہوں نے اقتصادی ترقی اور استحکام کو فروغ دینے میں جی 20 کے رکن ممالک کی اہمیت اور اثر و رسوخ اور عالمی اقتصادی چیلنجوں سے نمٹنے کے لیے ان کی صلاحیت کو اجاگر کیا۔

شیئر: