Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

یوکرین: بدعنوانی کا معاملہ، وزیر دفاع کے بعد 6 نائب وزرا برطرف

بدعنوانی کے معاملے پر وزیر دفاع اولیکسی ریزنیکوف کو برطرف کر دیا گیا تھا۔ فوٹو: یو پی آئی
یوکرین نے وزیر دفاع اولیکسی ریزنیکوف کو برطرف کرنے کے بعد چھ نائب وزرائے دفاع کو بھی عہدے سے ہٹا دیا ہے جبکہ دوسری جانب مشرقی علاقوں میں روسی فوج کے خلاف شدید لڑائی جاری ہے۔
خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق کابینہ کے وزرا کی مستقل نمائندہ تاراس میلنیچوک نے سوشل میڈیا ویب سائٹ ٹیلی گرام پر وزارت دفاع کے چھ نائب وزرا کی برطرفی سے متعلق بیان جاری کیا تاہم اس حوالے سے کوئی وضاحت نہیں فراہم کی۔
وزیر دفاع اولیکسی ریزنیکوف کو چند دن قبل بدعنوانی کے معاملے پر برطرف کیا گیا تھا۔ وزارت دفاع پر الزام عائد کیا گیا ہے کہ ملٹری جیکٹس تین گنا زیادہ قیمت پر خریدی گئی ہیں تاہم وزیر دفاع نے ان الزامات کی تردید کرتے ہوئے عہدے سے استعفیٰ دے دیا تھا۔
دوسری جانب گزشتہ رات روس نے اہم یوکرینی تنصیبات پر فضائی حملے کرنے کا دعویٰ کیا ہے جس میں میزائل اور اسلحے کے گودام، الیکٹرانک انٹیلی جنس سینٹر اور ٹریننگ فیسلیٹی کو نشانہ بنایا گیا ہے۔
امریکی صدر جو بائیڈن نے یوکرین کو 24 ارب ڈالر کی عسکری اور انسانی امداد فراہم کرنے کے لیے کانگریس سے درخواست کر رکھی ہے جہاں یہ معاملہ زیر بحث آئے گا۔
یوکرینی صدر ولادیمیر زیلنسکی اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے سالانہ سربراہی اجلاس میں شرکت کے لیے امریکہ میں موجود ہیں جہاں وائٹ ہاؤس میں ان کی صدر جو بائیڈن سے ملاقات متوقع ہے۔
یوکرین کی عسکری ضروریات کا اندازہ لگانے کی غرض سے امریکی سینیٹر مارک کیلی کیئف کے دورے پر ہیں جہاں پیر کو انہوں نے حکام اور فوجی اہلکاروں سے ملاقاتیں کی ہیں۔
دوسری جانب گزشتہ چوبیس گھنٹوں کے دوران ہونے والی لڑائی میں چھ شہری ہلاک جبکہ 16 زخمی ہوئے ہیں۔ روس نے برطانیہ کی جانب سے فراہم کردہ میزائلوں اور یورینیم  کے اسلحے کو نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا ہے۔
جبکہ دوسری جانب یوکرین نے ان دعووں کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ جنوبی علاقوں کی جانب  داغے گئے تمام 17 روسی میزائلوں اور 24 میں سے 18 ڈرونز کو روک دیا گیا تھا۔ 

شیئر: