Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

پیپلز پارٹی اور پی ٹی آئی نے جنوری میں الیکشن کا اعلان مسترد کر دیا

بلاول بھٹو زرداری نے سندھ کے دوروں کے ساتھ اپنی غیر رسمی انتخابی مہم کا آغاز کر دیا (فائل فوٹو: اے ایف پی)
پاکستان کے الیکشن کمیشن کی طرف سے آئندہ سال جنوری کے آخر میں انتخابات کے انعقاد کا اعلان ملک کی دو بڑی سیاسی جماعتوں کی جانب سے مسترد کر دیا گیا ہے۔
الیکشن کمیشن آف پاکستان نے جمعرات کے روز اعلان کیا تھا کہ ’حلقہ بندیوں کی تکمیل کے بعد ابتدائی فہرست 27 ستمبر 2023 کو شائع کر دی جائے گی۔‘
الیکشن کمیشن کے مطابق ’ان حلقہ بندیوں پر اعتراضات و تجاویز کی سماعت کے بعد حتمی فہرست 30 نومبر کو شائع کی جائے گی۔‘
’اس کے بعد 54 دن کے اندر الیکشن پروگرام جاری کیا جائے گا اور عام انتخابات جنوری 2024 کے آخری ہفتے میں کروا دیے جائیں گے۔‘
تاہم پاکستان پیپلز پارٹی کے سیکریٹری اطلاعات فیصل کریم کنڈی نے اردو نیوز کو بتایا کہ ’پیپلز پارٹی کے چیئرمین نے مطالبہ تھا کہ انتخابات کی تاریخ اور شیڈول دیا جائے، تاہم نہ تو الیکشن کی تاریخ دی گئی ہے اور نہ ہی شیڈول دیا گیا ہے۔‘
’ابھی تک ہم اندھیرے میں ہیں۔ نہ تو انتخابات کا شیڈول دیا گیا ہے اور نہ ہی تاریخ۔ صرف جنوری کے پہلے ہفتے کا کہا گیا ہے۔ لہٰذا ہم اس معاملے کو پارٹی کی مرکزی مجلس عاملہ کے اجلاس میں اٹھائیں گے اور آئندہ کا لائحہ عمل طے کریں گے۔‘
قبل ازیں ایک بیان میں فیصل کریم کنڈی نے کہا کہ ’الیکشن کمیشن کا اعلان خلاف آئین ہے اور پیپلز پارٹی اس کے خلاف عدلیہ سے رجوع کرنے یا عوام میں جانے کے آپشنز پر غور کرے گی۔‘
پاکستان پیپلز پارٹی کے سیکریٹری اطلاعات نےمزید کہا کہ ’الیکشن کمیشن کو اس معاملے پر جوابدہ ہونا پڑے گا۔‘
’بلاول بھٹو کو اس بارے میں آگاہ کر دیا گیا ہے اور ان کی وطن واپسی پر اس معاملے پر فیصلے کے لیے سی ای سی کا اجلاس بلایا جائے گا۔‘

پی ٹی آئی کا کہنا ہے کہ ’جنوری کی کوئی بھی تاریخ 90 روزہ دستوری مدت سے باہر ہوگی‘ (فائل فوٹو: اے ایف پی)

دوسری طرف پاکستان تحریک انصاف کے ترجمان کے ایک بیان میں کہا ہے کہ ’الیکشن کمیشن آف پاکستان کی جانب سے انتخابات کے انعقاد کی تاریخ کے اعلان کے بجائے مہینے کا تقرر باعثِ حیرت ہے۔‘
پی ٹی آئی کے ترجمان نے مزید کہا کہ ’دستور الیکشن کمیشن کو اسمبلی کی تحلیل کے بعد 90 روز کی مدتِ مقررہ میں انتخابات کے انعقاد کا پابند بناتا ہے۔‘
’الیکشن کمیشن جنوری کی کسی بھی تاریخ کا تعیّن کرے وہ 90 روزہ دستوری مدت سے باہر ہوگی۔‘
 ترجمان تحریک انصاف کا کہنا تھا کہ ’90 روز میں انتخابات کے انعقاد کا معاملہ سپریم کورٹ میں زیرِسماعت ہے۔‘
’سپریم کورٹ کی جانب سے معاملے کے حتمی فیصلے تک 90 روز سے باہر کسی بھی تاریخ کو قوم کے لیے قبول کرنا ممکن نہیں۔‘
 ترجمان تحریک انصاف کے مطابق ’الیکشن کمیشن صاف، شفاف اور غیرجانبدارانہ انتخابات کے لیے آئین کے تحت مطلوبہ ماحول قائم کرنے میں بھی ناکام رہا ہے۔‘
سیاسی مبصرین کی جانب سے بھی الیکشن کمیشن کے اس اعلان سے متعلق تحفظات کا اظہار کیا جا رہا ہے۔
معروف صحافی سیرل المیڈا نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اپنے تبصرے میں کہا ہے کہ ’الیکشن میں دھاندلی الیکشن روکنے سے زیادہ آسان ہے۔‘
سینیئر تجزیہ کار اور ٹی وی میزبان کامران خان نے اپنے تبصرے میں کہا ہے کہ ’پاکستان ایسے انتخابات کا متحمل نہیں ہو سکتا جن میں تمام سیاسی جماعتوں کو مساوی مواقع میسر نہ ہوں۔‘
حالیہ دنوں میں پاکستان میں سیاسی جماعتیں الیکشن کمیشن سے اگلے عام انتخابات کی تاریخ کا اعلان کرنے کا مطالبہ کرتی رہی ہیں۔
خیال رہے کہ رواں ماہ کی 13 تاریخ کو صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے چيف الیکشن کمشنر سکندر سلطان راجا کو خط لکھ کر عام انتخابات کے انعقاد کے لیے 6 نومبر 2023 کی تاریخ تجویز کی تھی اور اس حوالے سے اعلٰی عدلیہ سے رائے لینے کا بھی کہا تھا۔ 

پی ٹی آئی کے سربراہ عمران خان سمیت پارٹی کی صف اول کی قیادت جیل میں ہے۔ (فوٹو: اے ایف پی)

 اس سے قبل اگست کے آخری ہفتے میں بھی صدر نے عام انتخابات کی تاریخ دینے کے لیے چیف الیکشن کمشنر کو خط لکھ تھا اور انھیں ملاقات کی دعوت دی تھی جس میں ملک میں عام انتخابات کے لیے تاریخ کے اعلان کے لیے مشاورت کا کہا گیا تھا۔
صدر کے خط کے جواب میں چیف الیکشن کمشنر جوابی خط میں کہا تھا کہ قومی اسمبلی آئین کے آرٹیکل 58 ون کے تحت وزیراعظم کی سفارش پر صدر نے 9 اگست کو تحلیل کی تھی۔
پاکستان میں عام انتخابات پر چِھڑ جانے والی بحث میں مزید اضافہ اُس وقت دیکھنے میں آیا جب غیر ملکی سفیروں کی چیف الیکشن کمشنر سلطان راجہ سے ملاقات کی خبریں منظرِعام پر آئیں۔
دوسری جانب پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے سندھ کے دوروں کے ساتھ اپنی غیر رسمی انتخابی مہم کا آغاز کر دیا ہے اور لاہور میں پارٹی اجلاس کے ذریعے پیغام دیا ہے کہ وہ پورے ملک میں بھرپور انتخابی مہم چلائیں گے۔
پاکستان مسلم لیگ ن نے بھی نواز شریف کی آمد کے اعلان کے ساتھ ہی انتخابی مہم کا باضابطہ طبل بجا دیا ہے اور آنے والے دنوں میں ان کے استقبال کی تیاریوں اور تقریبات کے ذریعے عوامی رابطے کا آغاز کرے گی۔
دوسری جانب پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے سربراہ عمران خان سمیت پارٹی کی صف اول کی قیادت جیل میں ہے، اور دوسرے درجے کے رہنما گرفتاریوں سے بچنے کے لیے روپوش جبکہ متوقع امیدوار تذبذب کا شکار ہیں۔

شیئر: