پاکستان کے الیکشن کمیشن کی طرف سے آئندہ سال جنوری کے آخر میں انتخابات کے انعقاد کا اعلان ملک کی دو بڑی سیاسی جماعتوں کی جانب سے مسترد کر دیا گیا ہے۔
الیکشن کمیشن آف پاکستان نے جمعرات کے روز اعلان کیا تھا کہ ’حلقہ بندیوں کی تکمیل کے بعد ابتدائی فہرست 27 ستمبر 2023 کو شائع کر دی جائے گی۔‘
الیکشن کمیشن کے مطابق ’ان حلقہ بندیوں پر اعتراضات و تجاویز کی سماعت کے بعد حتمی فہرست 30 نومبر کو شائع کی جائے گی۔‘
مزید پڑھیں
-
نواز شریف کی واپسی: ’جو بندے نہیں لائے گا اسے ٹکٹ نہیں ملے گا‘Node ID: 797186
-
شریف فیملی کا لندن میں ہنگامی اکٹھ: پارٹی اور صحافی لاعلم کیوں؟Node ID: 797546
’اس کے بعد 54 دن کے اندر الیکشن پروگرام جاری کیا جائے گا اور عام انتخابات جنوری 2024 کے آخری ہفتے میں کروا دیے جائیں گے۔‘
تاہم پاکستان پیپلز پارٹی کے سیکریٹری اطلاعات فیصل کریم کنڈی نے اردو نیوز کو بتایا کہ ’پیپلز پارٹی کے چیئرمین نے مطالبہ تھا کہ انتخابات کی تاریخ اور شیڈول دیا جائے، تاہم نہ تو الیکشن کی تاریخ دی گئی ہے اور نہ ہی شیڈول دیا گیا ہے۔‘
’ابھی تک ہم اندھیرے میں ہیں۔ نہ تو انتخابات کا شیڈول دیا گیا ہے اور نہ ہی تاریخ۔ صرف جنوری کے پہلے ہفتے کا کہا گیا ہے۔ لہٰذا ہم اس معاملے کو پارٹی کی مرکزی مجلس عاملہ کے اجلاس میں اٹھائیں گے اور آئندہ کا لائحہ عمل طے کریں گے۔‘
قبل ازیں ایک بیان میں فیصل کریم کنڈی نے کہا کہ ’الیکشن کمیشن کا اعلان خلاف آئین ہے اور پیپلز پارٹی اس کے خلاف عدلیہ سے رجوع کرنے یا عوام میں جانے کے آپشنز پر غور کرے گی۔‘
پاکستان پیپلز پارٹی کے سیکریٹری اطلاعات نےمزید کہا کہ ’الیکشن کمیشن کو اس معاملے پر جوابدہ ہونا پڑے گا۔‘
’بلاول بھٹو کو اس بارے میں آگاہ کر دیا گیا ہے اور ان کی وطن واپسی پر اس معاملے پر فیصلے کے لیے سی ای سی کا اجلاس بلایا جائے گا۔‘

دوسری طرف پاکستان تحریک انصاف کے ترجمان کے ایک بیان میں کہا ہے کہ ’الیکشن کمیشن آف پاکستان کی جانب سے انتخابات کے انعقاد کی تاریخ کے اعلان کے بجائے مہینے کا تقرر باعثِ حیرت ہے۔‘
پی ٹی آئی کے ترجمان نے مزید کہا کہ ’دستور الیکشن کمیشن کو اسمبلی کی تحلیل کے بعد 90 روز کی مدتِ مقررہ میں انتخابات کے انعقاد کا پابند بناتا ہے۔‘
’الیکشن کمیشن جنوری کی کسی بھی تاریخ کا تعیّن کرے وہ 90 روزہ دستوری مدت سے باہر ہوگی۔‘
ترجمان تحریک انصاف کا کہنا تھا کہ ’90 روز میں انتخابات کے انعقاد کا معاملہ سپریم کورٹ میں زیرِسماعت ہے۔‘
’سپریم کورٹ کی جانب سے معاملے کے حتمی فیصلے تک 90 روز سے باہر کسی بھی تاریخ کو قوم کے لیے قبول کرنا ممکن نہیں۔‘
ترجمان تحریک انصاف کے مطابق ’الیکشن کمیشن صاف، شفاف اور غیرجانبدارانہ انتخابات کے لیے آئین کے تحت مطلوبہ ماحول قائم کرنے میں بھی ناکام رہا ہے۔‘
سیاسی مبصرین کی جانب سے بھی الیکشن کمیشن کے اس اعلان سے متعلق تحفظات کا اظہار کیا جا رہا ہے۔
معروف صحافی سیرل المیڈا نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اپنے تبصرے میں کہا ہے کہ ’الیکشن میں دھاندلی الیکشن روکنے سے زیادہ آسان ہے۔‘
Rigging an election is easier than stopping an election...
— cyril almeida (@cyalm) September 21, 2023
سینیئر تجزیہ کار اور ٹی وی میزبان کامران خان نے اپنے تبصرے میں کہا ہے کہ ’پاکستان ایسے انتخابات کا متحمل نہیں ہو سکتا جن میں تمام سیاسی جماعتوں کو مساوی مواقع میسر نہ ہوں۔‘
حالیہ دنوں میں پاکستان میں سیاسی جماعتیں الیکشن کمیشن سے اگلے عام انتخابات کی تاریخ کا اعلان کرنے کا مطالبہ کرتی رہی ہیں۔
خیال رہے کہ رواں ماہ کی 13 تاریخ کو صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے چيف الیکشن کمشنر سکندر سلطان راجا کو خط لکھ کر عام انتخابات کے انعقاد کے لیے 6 نومبر 2023 کی تاریخ تجویز کی تھی اور اس حوالے سے اعلٰی عدلیہ سے رائے لینے کا بھی کہا تھا۔

اس سے قبل اگست کے آخری ہفتے میں بھی صدر نے عام انتخابات کی تاریخ دینے کے لیے چیف الیکشن کمشنر کو خط لکھ تھا اور انھیں ملاقات کی دعوت دی تھی جس میں ملک میں عام انتخابات کے لیے تاریخ کے اعلان کے لیے مشاورت کا کہا گیا تھا۔
صدر کے خط کے جواب میں چیف الیکشن کمشنر جوابی خط میں کہا تھا کہ قومی اسمبلی آئین کے آرٹیکل 58 ون کے تحت وزیراعظم کی سفارش پر صدر نے 9 اگست کو تحلیل کی تھی۔
Pakistan doesn't want an election just for the heck of it. Elections announced today for the end of January would be a futile exercise if they weren't free, fair, and transparent. Pakistan can't afford an event called "elections" where every political party doesn't get an equal…
— Kamran Khan (@AajKamranKhan) September 21, 2023