Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

پنجاب اسمبلی میں بھرتیاں، پرویز الٰہی جوڈیشل ریمانڈ پر جیل منتقل

اینٹی کرپشن حکام نے سابق وزیر اعلیٰ پنجاب کو ریمانڈ مکمل ہونے پر عدالت میں پیش کیا (فوٹو: سکرین گریب)
پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے صدر چوہدری پرویز الٰہی کو پنجاب اسمبلی کی بھرتیوں میں مبینہ بدعنوانی کے مقدمے میں جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیج دیا گیا ہے۔
پیر کو ضلع کچہری لاہور میں ڈیوٹی جوڈیشل مجسٹریٹ عامر رضا بیٹو نے چوہدری پرویز الٰہی کے خلاف پنجاب اسمبلی کی بھرتیوں میں مبینہ بدعنوانی کے مقدمے کی سماعت کی۔
اینٹی کرپشن حکام نے سابق وزیر اعلیٰ پنجاب کو ریمانڈ مکمل ہونے پر عدالت میں پیش کیا۔
وکیل اینٹی کرپشن نے موقف اپنایا کہ ’تفتیش کے دوران ہم نے پرویز الٰہی سے 41 لاکھ کی ریکوری کی ہے۔ انہوں نے پنجاب اسمبلی میں گریڈ 17 کے عہدوں پر 12 غیرقانونی بھرتیاں کیں۔ مجموعی طور پر دو  کروڑ 40 لاکھ روپے رشوت کی مد میں لیے گئے۔‘
انہوں نے عدالت کو بتایا کہ ’پرویز الہٰی کا موبائل فون ابھی تک برآمد نہیں ہوا، موبائل فون ریکور کروا کر اس کا فرانزک کروانا ہے۔ یہ وائٹ کالر کرائم ہے، اس میں سارے معاملات جدید ڈیوائسسز کے ذریعے ہوتے ہیں۔‘
اینٹی کپشن کے وکیل نے عدالت سے استدعا کی کہ سابق وزیراعلیٰ پنجاب کا مزید 10 روزہ جسمانی ریمانڈ دیا جائے۔
اس موقع پر چوہدری پرویز الٰہی کے وکیل نے موقف اختیار کیا کہ ’یہ کہہ رہے ہیں کہ پرویز الٰہی سے 41 لاکھ برآمد کیے یہ ایک جعلی ریکوری ہے۔ رجیم چینج کے بعد یہ سیاسی انتقام لیا جا رہا ہے۔ 
انہوں نے کہا کہ ’کیا یہ بات سمجھ میں آتی ہے کہ اگر پرویز الٰہی نے بطور سپیکر جو پیسے لیے تھے وہ ابھی بھی ان کے پاس ہوں گے۔ اینٹی کرپشن کے بقول امیدواروں نے 20 ، 20 لاکھ روپے دیے۔کیا ان 12 افراد میں سے کسی نے کوئی شکایت کی؟‘
عدالت نے دلائل مکمل ہونے کے بعد محفوظ فیصلہ سناتے ہوئے اینٹی کرپشن کی 10 روزہ جسمانی ریمانڈ کی استدعا مسترد کرتے ہوئے چوہدری پرویز الٰہی کو جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیج دیا۔

شیئر: