یونس محمد حافظ کی خوبی انکی پینٹنگ کا مضبوط مرکزی خیال ہوتا ہے جسے وہ مختصر مگر جامع طریقے سے پیش کرتے ہیں
- - - - - - - - -
شہزاد اعظم۔ جدہ
- - - - - - - -
شبنم کا قطرہ اگرخاک میں گرے توگارا بن جاتا ہے جس سے لوگ اپنا دامن بچاتے ہیں اوریہی قطرۂ شبنم اگر سیپ میں گرے تو موتی بن جاتا ہے جس سے لوگ اپنے وجود کو سجاتے ہیں۔ یہی حال برش کا ہے، کہ اگر یہ کسی رنگ سازکے ہاتھ میں آجائے تو وہ رنگوں کوجا بجا بکھیر کران کی ’’توہین‘‘ کرتا ہے اور یہی برش اگر مصور کے ہاتھ میں آجائے تو وہ رنگوں میں اپنے جذبات کی ’’تضمین‘‘کرتا ہے۔
یونس محمدحافظ بھی ایک ایسی ہستی ہیں جو حرفوں کی ترقیم سے آشنا ہیں اورخیالات کی تجسیم کرنا جانتے ہیں، جو لفظوں کی تفہیم سے آشنا ہیں اور احساسات کی تعظیم کرنا جانتے ہیں۔وہ دھنک کے سبھی رنگوں کی توقیر کرتے ہیں، اپنے تصور کو تصویر کرتے ہیں۔وہ اک منفرد فنکار ہیں، فن مصوری کاوقار ہیں۔ ان کے فن پارے خامشی کو زباں دیتے ہیں اور صاحبِ نظر کو معانی کا جہاں دیتے ہیں، اہلِ خرد کو اندازِ بیاں دیتے ہیں، دلِ حساس کو اک دردِ نہاں دیتے ہیں گویا:
وہ مصنف ہیں جو الفاظ رقم کرتے ہیں
ہم مصور ہیں جو جذبات قلم کرتے ہیں
حرف قرطاس پہ رکھتے ہیں ستاروں کی طرح
ان میں احساس کے ہر رنگ کو ضم کرتے ہیں
ہم تو رنگوں کی بھی توقیر بڑھا دیتے ہیں
جو کوئی کر نہیں سکتا ہے وہ ہم کرتے ہیں
یونس محمدحافظ فطری مصور ہیں ۔ ان کا تعلق ہندوستان کے شہر حیدرآباد دکن سے ہے ۔ موصوف نے کیونکہ کم سنی میں ہی ’’برش طرازی‘‘شروع کر دی تھی۔ نوجوانی میں وہ آسمانِ فن کا خاورِ درخشاں بن چکے تھے ۔اسی دوران بیرون ملک چلے آئے ۔ کسب معاش میں ایسے مصروف ہوئے کہ مصوری سے تمام ناتے ٹوٹ گئے ۔ 35برس تک برش نہیں تھاما ۔ ایک روز پیدائشی مصور بیدار ہو گیا ، انہوں نے رنگ، برش اور کینوس سے پھر دوستی کرلی اورفن کی انہی بلندیوںمیں دوبارہ محو ِ پرواز ہوگئے۔ یہ اس ا مر کا ثبوت ہے کہ یونس محمدحافظ فطری مصور ہیں۔انہوں نے اردو نیوز سے ملاقات میں اپنی ذات و حیات کے پرت کھولے۔اس ملاقات کا احوال نذرِقارئین: یونس محمدحافظ ابتداء ہی سے اپنے خاندانی کاروباری کمرشل آرٹ اور ایڈورٹائزنگ کی دنیا سے جڑگئے تھے۔کہتے ہیں کہ فنکار پیدا ہوتے ہیں، بنائے نہیں جاتے۔ البتہ آرٹ اسکول اور کالج میں انکی صلاحیتوں کو ضرور تراشا جاتا ہے۔ محمد یونس میں فنکارانہ صلاحیت پیدائش ہی سے تھیں۔ انکے والد محمد حافظ ایک ماہر تشہیر اور حیدرآباد میں ایک مشہور و معروف ایڈورٹائزنگ کے مالک تھے۔ اپنے فرزند اکبر کی فنکارانہ صلاحیت کو ابتدائی عمر میں بھانپ لیا تھا۔ لہذاشروع سے اپنے فرزند کی اسی میدان میں رہنمائی اور ہمت افزائی کی جس نے یونس کی صلاحیتو ںکو مزید جلا بخشی۔
1976ء میں جواہر لال نہرو ٹیکنالوجیکل یونیورسٹی کے تحت کالج اور فائن آرٹس حیدرآباد سے 5سالہ پینٹنگ ڈپلومہ حاصل کیا۔ انہوں نے 1977ء میں شہر کولکتہ کی اکیڈمی آف فائن آرٹس میں اپنی زندگی کی پہلی’’سولو ایگزیبیشن آف پینٹنگ‘‘ منعقد کی اور خوب داد و تحسین حاصل کی۔ 1978ء کی ابتداء میں کمرشل آرٹ میں قدم رکھتے ہوئے اپنے والد کی ایڈورٹائزنگ کمپنی سے منسلک ہوگئے۔ پھر کچھ ہی عرصہ بعد انہوں نے اپنی ذاتی ایجنسی قائم کی اور 12سال تک اس میدان میں جوہر دکھائے۔ یونس کی فطرت میں بسی خوب سے خوب تر کی جستجو ،نئے افق پر چھاجانے کی چاہ اور نئی منزلیں طے کرنے کی خواہش نے انہیں نومبر 1991ء کے آخر میں نقل مکانی پر اکسایا۔
اس طرح انہوں نے سعودی عرب کے دارالحکومت ریاض میں اپنا پہلا قدم رکھا۔ ان کا کہنا ہے کہ 1995ء میں جدہ کومیں نے اپنا وطن ثانی بنایا اور الحمد للہ، آج تک اس عروس بحر احمر میں مقیم ہوں۔یہاں پہنچ کر میں نے کار کی ڈسٹری بیوشن کمپنی کے آؤٹ ڈور ایڈورٹائزنگ کے شعبہ میں بحیثیت کری ایٹو آرٹسٹ کام کیا اسکے بعدبین الاقوامی ایڈورٹائزنگ کمپنی میں بحیثیت آرٹ ڈائریکٹر مامور ہوا اور لگ بھگ 12سال تک ایوارڈ وننگ ایڈورٹائزنگ کیمپینز کی تخلیق کرتا رہا۔ محمد یونس نے روزگار کی جدوجہد اورملازمت کی ذمہ داری کے باوجود اپنے اندر کے فنکار کو نہ کبھی نظر انداز کیا اور نہ اس سے غفلت برتی۔
انہوں نے کہا کہ جیسا بھی اور جب بھی وقت میسر ہوا میں اپنے اندر کے فنکار کی آواز کو خاکوں میں تبدیل کرتا رہا۔ نوکری سے فارغ ہونے کے بعد 2012ء میں انہی خاکوں کو رنگوں کی زبان دیکر کینوس پر رقم کرنا شروع کیا۔ تقریباً 35سال بعد پھر سے برش اٹھایا اور اسی آب و تاب اور وہی جوش و جذبے کے تحت پینٹنگز بنانی شروع کیں اور چند گھنٹوں میں پینٹنگ مکمل کرکے میں خود ہی حیرت میں پڑ گیا۔ یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ میرے فن کو سعودی عرب میں مزید روشناس کروانے کیلئے ہارٹ اسپیشلسٹ ڈاکٹر علی حنیف کا بڑا دخل ہے۔ انہوں نے سعودی ہارٹ ایسوسی ایشن کے زیر اہتمام جوائنٹ ہارٹ میٹ کے دوران دل سے وابستہ اسلامی نکتۂ نظر کی پینٹنگز کی نمائش کا موقع فراہم کیا ۔
فن مصوری کے قدر دانوں جن میں زیادہ تر ہارٹ اسپیشلسٹ ڈاکٹرز تھے، ان سے خوب داد وتحسین حاصل ہوئی اور سال میں دو مرتبہ انکی ہرکانفرنس کے دوران عالیشان ہوٹلز میں میرے فن پاروں کی نمائش ہوتی رہتی ہے۔ یونس نے بتایا کہ وہ بچپن ہی سے ہندوستان کے معروف آرٹسٹ استاد سعید بن محمد بابدر کے شاگر درہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ مجھے اپنے استاد کی معرفت عالمی شہرت یافتہ آرٹسٹ ایم ایف حسین سے بھی مختصر عرصہ تک شاگردی کا موقع ملا۔ اس دوران مجھے بہت کچھ سیکھنے کا بھی اعزاز حاصل ہوا۔ محمد یونس نے کہا کہ میں نے ایک طویل عرصے کے بعد مصوری میں ہمہ وقت کام کرنا شرو ع کیا ہے۔ اسے بلا شبہ رنگوں کی دنیا میں واپسی یا اصل کی طرف لوٹنا کہہ سکتے ہیں۔میں اپنی جدید طرز کی پینٹنگز میں اسلامی انداز فکر کو اہمیت دینے لگا ہوں۔
’’وژوَل ذکر‘‘ کے تحت ایسی پینٹنگز تخلیق کررہا ہوں جو ہر مکتب فکر کے لئے قابل قبول اور باعث ستائش ہیں۔ جواہر لال نہرو ٹیکنالوجی یونیورسٹی کے تحت کالج آف فائن آرٹس سے تعلیم حاصل کرنے والے آرٹسٹ کی حیثیت سے نہرو آرٹ گیلری میں نومبر 2013ء میں میرے فن پاروں کی نمائش ہوئی اور ایسا پہلی مرتبہ ہوا تھا کہ اس یونیورسٹی میں اپنی نوعیت کی منفرد اسلامی آرٹ کی نمائش کا انعقاد عمل میں آیا۔ شہر حیدرآباد سے شائع ہونے والے ہندوستان کے مشہور اردو روزنامے کے ایڈیٹر زاہد علی خان نے اس نمائش کا افتتاح کیاتھا۔ انہوں نے کہا تھا کہ آرٹسٹ یونس نے اپنے آرٹ کے ذریعے جدید طریقے سے اسلامی نظریات کو پیش کیا جسکے ذریعے اسلام کے پیغام کو لوگوں تک پہنچایا جاسکتا ہے۔
میرے آرٹ کے نمونوں میں رسی کی تصویر نمایاں رہی۔ اس میں قرآنی آیات کے الفاظ کورسی کی شبیہ میں لکھا گیا ۔ ایک اور پینٹنگ میں کیپسول سے بھرا دل بنایا گیا۔ اس میں یہ پیغام دیا گیا کہ اگر دل میں اللہ کریم کی محبت اور ذکر نہ ہو تو دل مردہ ہوجاتا ہے اور اسے کارگر کرنے کیلئے ادویہ اور کیپسول کی ضرورت رہتی ہے۔ اسی طرح تعلیم کی اہمیت کو اجاگر کرنے کیلئے غار حرا پر اقرا تحریر کیا گیا ۔ ایڈیٹر زاہدعلی خان نے نمائش کا مشاہدہ کرتے ہوئے یونس محمد حافظ کے فن کی ستائش کی ۔ زاہد علیخان نے میڈیانمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ فن مصوری میں جدیدیت کے ذریعے اسلام کو پیش کرنے کا آرٹ اور اس میں یونس محمد حافظ کا طریقہ کار بہت ہی موثر ہے جس سے یونس نے ثابت کیا ہے کہ ماڈرن آرٹ میں بھی اسلام کے پیغام کی تشہیر کی جاسکتی ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ یونس نے قرآنی آیات اور احادیث مبارکہ کوجدید آرٹ کے ذریعے منفرد انداز میں پیش کرتے ہوئے قابل تحسین کام کیا ہے ۔
اس قسم کی ماڈرن پینٹنگ میں اپنا پیغام پیش کرنا بہت دشوار کام ہے۔ زاہد علیخان نے مجھے مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ آپ نے ایک بہترین کوشش کی اور اس کوشش کے ذریعے اس بات کو ظاہر کیا ہے کہ ماڈرن آرٹ میں بھی اسلام کی تشہیر کی جا سکتی ہے اور لوگوں کوآگہی فراہم کی جا سکتی ہے۔ آرٹسٹ یونس محمد حافظ نے کہا کہ میں نے غیر مجسمی تجریدی مصوری کے ذریعے اسلام کی حقانیت کو پیش کرنے کی کوشش کی ہے۔ بحیثیت فن کارمیں نے تخلیقی پیرایہ اختیار کرتے ہوئے آیات قرآنی اور شعائر اسلام کو اپنے تخیلات کا محور بناکر تبلیغ کے ایک پہلو کو موضوعاتی انداز میں پیش کیاہے۔ یونس محمد حافظ، سعودی عرب کے فن مصوری کی دنیا میں کسی تعارف کے محتاج نہیں۔
یہ پہلے ہندوستانی آرٹسٹ ہیں جنہیں سعودی عرب کے آرٹسٹوں کے ساتھ شانہ بشانہ مختلف نمائشوں میں حصہ لینے کا موقع دیا جارہاہے۔ حال ہی میں قونصل خانہ برائے ہندوستان زیر سرپرستی’’ایس آئی بی این‘‘، ’’سعودی انڈین بزنس نیٹ ورک‘‘ کے تحت سہ روزہ انڈین فوڈ فیسٹول کے دوران سید غضنفر علی ذکی، جنرل سیکریٹری’’ایس آئی بی این‘‘ کی بہترین کاوشوں سے پہلی بار اسلامی کیلی گرافی ایکسپو کا انعقاد کیا گیا جس میں سیاست، اسلامی کیلی گرافی اور فنکار یونس محمد حافظ کے جدیدطرز کے اسلامی آرٹ کے نمونوں کو نمائش کیلئے پیش کیا گیا۔ اس نمائش کا افتتاح قونصل جنرل ہند، محمد نور رحمان شیخ کے ہاتھوں عمل میں آیا۔ انڈین کمیونٹی کے علاوہ سعودی عرب اور دیگر ممالک کے سربراہوں نے بھی نمائش میں رکھے گئے فن پاروں کامشاہدہ کیا۔ فن کا ذوق رکھنے والے افراد اور میڈیا کے نمائندے نہ صرف لذیذ کھانوں سے لطف اندوز ہوئے بلکہ اس نمائش کا بھی مشاہدہ کیا اور خوب دادو تحسین سے نوازا۔ آرٹسٹ یونس محمد حافظ پہلے ہندوستانی آرٹسٹ ہیں جنکی ایک پینٹنگ ’’آدم‘‘ کو حکمہ کا عنوان دیکر حکومت سعودی عرب کی وزارۃ ثقافہ و الاعلام کے تحت ’’کیف نکون قدوۃ؟‘‘ نمائش میں شمولیت کا اعزازحاصل ہوا۔ سعودی عرب کے آرٹسٹوں کے نمونوں میں یونس محمد حافظ کی پینٹنگ بہت نمایاں رہی اور ناظرین کی مرکز نگاہ بنی رہی۔
فن کا ذوق رکھنے والے افراد اور میڈیا نمائندوں نے فنکار یونس محمد حافظ کے فن مصوری کی ستائش کی۔ ٭ اسلامیات 2017ء‘‘:۔ نسمہ آرٹ گیلری کی سالانہ چنیدہ آرٹسٹوں کے نمونوں کے علاوہ فنکار یونس محمد حافظ کی 2پینٹنگز ’’اقرا‘‘ اور ’’کعبہ‘‘ کو بھی ماہ رمضان کریم کے دوران نمائش کیلئے منتخب کیاگیا ہے۔
ماشاء اللہ یونس محمد حافظ کی پینٹنگز نے سعودی عرب کے آرٹسٹوں میں اپنا ایک خاص مقام بنالیا ہے جنہیں عزت و احترام کیساتھ تحسین آفریں نظروں سے دیکھا جارہا ہے۔ اللہ تعالیٰ ان کے فن اور مقام کو بلند فرمائے،آمین۔
٭ Visual Dhikr:۔ ذکر کا مطلب اللہ کریم کی یاد اور ذکر عباد ت کا مقصد عین ہے جیسے کہ نماز، روزہ اور ہر وہ عبادت جو صرف اللہ تعالیٰ کیلئے خاص کی جائے۔ تلاوت قرآن کو افضل الذکرفرمایا گیاہے ۔ یونس محمد حافظ کے اسلامی آرٹ کا محور’’ تشکیلی ذکر‘‘ ہے۔ فنکار یونس کی ایک بڑی خوبی انکی پینٹنگ کا ایک مضبوط مرکزی خیال ہوتا ہے۔ جسے وہ بہت مختصر مگر جامع طریقے سے پیش کرتے ہیں اور اسلامی تعلیمات کی درست ترجمانی اور ایسے پرکشش انفرادی انداز سے عکاسی کرتے ہیں جو ناظرین کی دلچسپی کا باعث بنتی ہے۔یونس محمد حافظ نے جدید وسائل کو استعمال کرتے ہوئے اسلامی آرٹ میں ایک نیا رجحان پیدا کیا ہے۔