سری لنکا میں منشیات کے خلاف کریک ڈاؤن، 15 ہزار افراد گرفتار
پولیس دارالحکومت سمیت مختلف علاقوں میں کریک ڈاؤن کر رہی ہے۔ (فوٹو: اے ایف پی)
سری لنکا کی پولیس نے کہا ہے کہ فوج کی حمایت یافتہ انسداد منشیات کی ایک ہفتے تک جاری رہنے والی مہم کے دوران تقریباً 15 ہزار افراد کو گرفتار کیا گیا ہے۔
خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق انسانی حقوق کے کارکنوں نے پولیس کے اس کریک ڈاؤن کی مذمت کی ہے۔
اتوار کو پولیس نے ایک بیان میں کہا ہے کہ ’انصاف‘ نامی اس کارروائی کے نتیجے میں تقریباً 440 کلوگرام (970 پاؤنڈ) منشیات ضبط کر لی گئی ہیں جن میں 272 کلوگرام بھنگ، 35 کلوگرام چرس اور 9 کلوگرام ہیروئن شامل ہیں۔
حکام کا خیال ہے کہ بحر ہند کے جزیرے کو منشیات کے سمگلنگ ٹرانزٹ پوائنٹ کے طور پر استعمال کیا جا رہا ہے۔
پولیس نے بیان میں کہا ہے کہ 13 ہزار 666 مشتبہ افراد کو گرفتار کیا گیا جبکہ 11 سو نشے کے عادی افراد کو حراست میں لیا گیا ہے اور انہیں علاج کے لیے فوج کے زیر انتظام ایک مرکز بھیج دیا گیا ہے۔
مقامی میڈیا نے پولیس اور سپاہیوں کی فوٹیج نشر کیں جو دارالحکومت اور دیگر علاقوں میں گھروں کی تلاشی کے لیے سونگھنے والے کتوں (سنفنگ ڈاگز) کا استعمال کر رہے ہیں۔
پولیس نے کہا ہے کہ چھاپے کرسمس کی تعطیلات کی وجہ سے روک دیے گئے ہیں کیونکہ افسران کو سکیورٹی کے لیے تعینات کیا جائے گا لیکن کرسمس کے بعد منگل کو دوبارہ کارروائی شروع کر دی جائے گی۔
انسانی حقوق کے وکیل حجاز حزب اللہ نے کہا ہے کہ پولیس کے چھاپے غیرقانونی تھے کیونکہ وہ سرچ وارنٹ کے بغیر کیے گئے۔
انہوں نے کہا کہ متاثرین بعد میں قانونی کارروائی شروع کرنے کے لیے افسران کی تفصیلات حاصل کریں۔
انسانی حقوق کی کارکن امبیکا ساتکون نیتھن نے سوشل میڈیا پر پوسٹ کیا کہ چھاپے ثبوت کی بنیاد پر نہیں تھے بلکہ ’صرف غریب علاقوں کو ہدف بنایا گیا۔‘
انہوں نے مزید کہا کہ پولیس منشیات استعمال کرنے والوں اور چھوٹے ڈیلروں کو گرفتار کر رہی تھی لیکن بڑے پیمانے پر سمگلروں کو گرفتار نہیں کیا گیا۔
سری لنکا میں دسمبر 2016 میں پولیس نے 800 کلوگرام کوکین پکڑی تھی۔