پاکستان کے وزیراعظم اور چاروں صوبوں کے وزرائے اعلٰی کا انتخاب مکمل ہونے کے بعد اب 9 مارچ کو ہونے والے صدارتی انتخاب کی تیاریاں آخری مراحل میں ہیں اور الیکشن کمیشن نے منگل کے روز صدارت کے عہدے کے لیے امیدواروں کا باضابطہ اعلان کر دیا ہے۔
اگرچہ موجودہ صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی کی مدت گزشتہ سال ستمبر میں پوری ہو گئی تھی تاہم صدر کا حلقہ انتخاب جو سینیٹ، قومی اسمبلی اور چاروں صوبائی اسمبلیوں پر مشتمل ہوتا ہے کے مکمل نہ ہونے کی وجہ سے صدارتی انتخابات موخر ہو گئے تھے۔
8 فروری 2024 کے عام انتخابات کے بعد الیکشن کمیشن آف پاکستان نے صدارتی انتخاب کا شیڈول جاری کیا تھا اور کہا تھا کہ آئین کے تحت انتخابات کے 30 دن کے اندر صدارتی انتخاب کروانا ضروری ہے۔
مزید پڑھیں
-
علی امین گنڈاپور کی عمران خان سے ملاقات، اتوار کو احتجاج کی کالNode ID: 841956
الیکشن کمیشن کے ایک اور تازہ نوٹیفیکیشن کے مطابق پاکستان پیپلز پارٹی کے سربراہ آصف علی زرداری اور پختتونخواہ ملی عوامی پارٹی کے سربراہ محمود خان اچکزئی کے مابین 9 مارچ کو صدارتی انتخابات کے لیے ون ٹو ون مقابلہ ہو گا۔
صدارتی انتخاب کے لیے پولنگ صبح 10 بجے سے سہ پہر 4 بجے تک ہو گی۔
آصف زرداری پاکستان مسلم لیگ نواز کے ساتھ حکومت کی تشکیل کے لیے طے پانے والی شرائط کے نتیجے میں حکمران اتحاد کے مشترکہ امیدوار بنے ہیں جب کہ محمود اچکزئی کو سنی اتحاد کونسل نے اس وقت اپنا امیدوار مقرر کیا جب انہوں نے نو منتخب اسمبلی سے اپنے پہلے خطاب میں عمران خان کے حق میں تقریر کی۔
اگرچہ سنی اتحاد کونسل اس عزم کا اظہار کر رہی ہے کہ وہ صدارتی انتخاب میں بھرپور مقابلہ کرے گی تاہم امکان ہے کہ حکومتی اتحاد جس میں پاکستان مسلم لیگ نواز اور پاکستان پیپلز پارٹی کے علاوہ ایم کیو ایم، مسلم لیگ قائداعظم اور تحریک استحکام پاکستان شامل ہیں بآسانی آصف زرداری کو دوسری مرتبہ صدر منتخب کروا لیں گے۔
آصف زرداری اس سے پہلے 2008 سے 2013 تک پاکستان کے صدر رہے ہیں۔

3 مارچ 2024 کو ہونے والے وزارت عظمٰی کے انتخاب میں حکومتی امیدوار شہباز شریف کو 336 اراکین پر مشتمل اسمبلی سے 201 ووٹ پڑے تھے جبکہ ان کے مخالف سنی اتحاد کے امیدوار کو 92 ووٹ ملے تھے۔
پاکستان کے آئین میں دیے گئے صدارتی انتخاب کے طریقہ کار کے مطابق پولنگ میں حصہ لینے والے سینیٹ اور قومی اسمبلی کے اراکین کا ایک ووٹ پورا گنا جائے گا تاہم تمام صوبائی اسمبلیوں کے ووٹوں کی تعداد 65 تصور ہو گی جن کو ہر اسمبلی کے اراکین کی تعداد سے متعین کیا جاتا ہے۔
صدارتی انتخاب کے لیے صوبائی اسمبلیوں کے ووٹوں کی یہ تعداد آئین میں مقرر کی گئی ہے جس کا مقصد تمام صوبوں کو یکساں نمائندگی دینا ہے کیونکہ صوبائی اسمبلیوں کے اراکین کی تعداد ان کی آبادی کے تناسب سے مقرر ہے۔
صدارتی انتخاب کے لیے صوبوں کے ووٹوں کی تعداد بلوچستان اسمبلی کے اراکین کے برابر رکھی گئی ہے کیونکہ اس اسمبلی کے اراکین سب سے کم ہیں۔
پنجاب کے 5.70 اراکین کا ایک صدارتی ووٹ
اس فارمولے کے تحت پنجاب کی صوبائی اسمبلی کے 371 اراکین، سندھ کے 168، اور خیبر پختونخواہ کے 145 بھی بلوچستان کے 65 اراکین کے برابر تصور ہوتے ہیں اور زیادہ صوبوں کے ووٹوں کا اس لحاظ سے تناسب طے ہوتا ہے۔
اس طرح ہر صوبے کے 65 ووٹ اکٹھے کر کے کل 260 ووٹ بنتے ہیں جن میں سینیٹ کے 104 اور قومی اسمبلی کے 336 ووٹ جمع کر کے صدارتی انتخاب کے لیے کل 700 ووٹ بن جاتے ہیں۔
اس تناسب سے اگر پنجاب کے 371 اراکین کو بلوچستان اسمبلی کے کل 65 اراکین سے تقسیم کیا جائے تو اس کے 5.70 اراکین کا ایک ووٹ تصور کیا جاتا ہے۔ اسی طرح سندھ اسمبلی کی کل 168 نشستوں کو 65 سے تقسیم کیا جائے تو 2.58 ارکان کا ایک ووٹ گنا جائے گا اور خیبر پختونخوا اسمبلی کے 145 اراکین میں سے 2.24 ارکان کا ایک ووٹ ہو گا۔
پاکستان کے صدارتی انتخاب کے عمل میں شامل ایوانوں کے حالیہ اراکین کی صورتحال کے مطابق اس وقت سینیٹ کے مجموعی ووٹوں کی تعداد 95 ہے، قومی اسمبلی کے 334، پنجاب کے 339، سندھ کے 163، اور خیبر پختونخواہ کے 116 ووٹ ہیں، اسی طرح بلوچستان اسمبلی کے کل 65 اراکین میں سے اس وقت 62 موجود ہیں۔
پیپلز پارٹی کا 345 اراکین کی مکمل حمایت کا دعوٰی
اگر وزیراعظم اور وزرائے اعلٰی کو ملنے والے ووٹوں کی شرح سے اندازہ لگایا جائے تو حکومتی اتحاد کے امیدوار آصف علی زرداری کو صدارتی انتخاب کے لیے دستیاب 1109 ووٹوں میں سے 600 کے قریب ووٹ ملنے چاہیے جن میں سینیٹ کے حکومتی اتحادیوں کے 50 ووٹ بھی شامل ہیں۔
