شاہ محمد ششم نے مراکش کے شہریوں سے کہا ہے کہ وہ رواں برس عید الاضحیٰ کے موقعے پر بھیڑیں ذبح کرنے سے گریز کریں کیونکہ برسوں کی خشک سالی کے بعد مویشیوں کی تعداد میں کمی آئی ہے۔
برطانوی خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق بدھ کے روز شاہ محمد ششم کی جانب سے ایک خط وزیر برائے مذہبی امور احمد توفیق نے سرکاری ٹی وی الأولى پر پڑھا۔ ’ہمارا یہ عزم ہے کہ آپ کو اس مذہبی عبادت کو بہترین حالات میں ادا کرنے کا موقع فراہم کیا جائے، لیکن اس کے ساتھ ساتھ ہمارے ملک کو درپیش موسمی اور اقتصادی چیلنجز کو مدنظر رکھنا بھی ضروری ہے، جن کی وجہ سے مویشیوں کی تعداد میں نمایاں کمی آئی ہے۔‘
مزید پڑھیں
-
مراکش کی لوک گلوکارہ جنہیں ’تنقیدی نظروں کا سامنا کرنا پڑا‘Node ID: 885430
سرکاری اعدادوشمار کے مطابق، مسلسل خشک سالی کی وجہ سے رواں برس مویشیوں کی تعداد 38 فیصد کمی آئی ہے۔
مراکش کے اعلٰی مذہبی رہنما شاہ محمد ششم نے کہا کہ ’ان مشکل حالات میں یہ مذہبی فریضہ ادا کرنا ہمارے ملک کے ایک بڑے طبقے، خاص طور پر محدود آمدنی والے لوگوں کو نمایاں طور پر نقصان پہنچائے گا۔‘
گزشتہ 30 برس کی اوسط بارشوں کے مقابلے میں رواں برس 53 فیصد کم بارشیں ہوئیں، جس کی وجہ سے مویشیوں کے لیے چراہ گاہوں کی کمی ہوئی ہے۔ گوشت کی پیداوار میں بھی کمی آئی ہے، جس کے باعث مقامی مارکیٹ میں قیمتیں بڑھ گئی ہیں اور زندہ مویشیوں، بھیڑوں اور سرخ گوشت کی درآمدات میں اضافہ ہو گیا ہے۔
مراکش نے حال ہی میں آسٹریلیا سے ایک لاکھ تک بھیڑیں درآمد کرنے کے لیے ایک معاہدے پر دستخط کیے ہیں۔
مراکش نے 2025 کے بجٹ میں مویشیوں اور سرخ گوشت پر درآمدی ڈیوٹی اور ویلیو ایڈڈ ٹیکس معطل کر دیا ہے، تاکہ مقامی مارکیٹ میں قیمتوں کو مستحکم رکھا جا سکے۔