Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

رمضان میں سعودی روایات سے جڑی چائے اور قہوے کی خاص اہمیت

زعفران اور الائچی کی خوشبو اور ذائقہ سعودی مہمان نوازی کی پہچان ہے۔ فوٹو عرب نیوز
سعودی عرب میں رمضان کے دوران افطار کے وقت خوش ذائقہ مشروبات سے لطف اندوز ہونے کے لیے اکثر خاندان معمول کے مطابق دو کیتلیاں تیار کرتے ہیں۔
عرب نیوز کے مطابق غروب آفتاب سے کچھ دیر قبل خاص قسم کا قہوہ تیار کرنے کے لیے کیتلیوں سے جڑی بوٹیوں اور مصالحوں کی خوشبو فضا کو معطر کرتی ہے۔
الائچی کی خوشبو اور ذائقے کے ساتھ سعودی مہمان نوازی کی پہچان مشہور روایتی عربی قہوہ چھوٹی تھرمس میں جب کہ گہری سرخ یا بغیر دودھ کے پودینے کی خوشبو کے ساتھ چائے بڑی تھرمس میں بھر دی جاتی ہے۔
افطار کے ان روایتی مشروبات کے ساتھ چھوٹے کپ، طشتریاں، کھجوریں اور میٹھے پکوان پیش کئے جاتے ہیں۔
روزہ داروں کے لیے دن کی محنت کے بعد کیفین والے مشروبات توانائی کا ذریعہ بنتے ہیں اس لیے افطار کے بعد سعودی عرب میں رہنے والے اکثر افراد پسندیدہ مشروب کے لیے کافی شاپس پر نظر آتے ہیں۔
پبلک ریلیشنز کی ماہر عائشہ الوطار نے بتایا ’ کیفین والے مشروب سعودی ثقافت کا لازمی جُزو ہیں اور رمضان میں لوگوں کی ایک دوسرے سے اپنائیت کے طور پر ان کی اہمیت مزید بڑھ جاتی ہے۔‘

کافی کی دعوت محبت کی زبان اور سماجی علامت ہے جب سننے میں آتا ہے 'تراویح کے بعد کافی پینے چلیں' تو یہ نہایت قریبی تعلق کا اظہار ہوتا ہے۔
عائشہ نے بتایا ’ ہمارے خاندان کے تمام افراد کھجور اور پانی سے روزہ کھولنے کے بعد کافی پینا روایت بنا چکے ہیں۔
رمضان کے مہینے میں کھجور کے ساتھ عربی قہوہ  نہ صرف خوشی اور توانائی مہیا کرتا ہے بلکہ ہمیں ایک دوسرے کے قریب بھی لاتا ہے۔

سعودی قہوہ بنانے کے لیے سنہرے بھونے ہوئے کافی کے بیجوں کے ساتھ  ذائقہ بڑھانے کے لیے زعفران، الائچی اور لونگ شامل کر کے بغیر چھانےمشروب کی شکل میں پیش کیا جاتا ہے۔
مملکت میں رمضان میں دن رات کی روٹین بدل جاتی ہے اس لیے کیفین سے محبت رکھنے والی عائشہ الوطار رمضان میں چائے اور کافی کے مشروبات زیادہ استعمال کرتی ہیں۔
سعودی ڈیزائنر قمر احمد کا کہنا ہے ’ ہم عام دنوں کی نسبت رمضان میں کافی کا استعمال کم کر دیتے ہیں، میرے نزدیک روزے کا اصل مقصد عادات پر قابو پانا ہے۔

سعودی قہوہ یا کافی اور چائے روزمرہ زندگی میں بڑی اہمیت رکھتی ہے ، دن کا آغاز ہی کافی یا چائے سے کرتے ہیں اور اس کے بغیر پورا دن گزارنا ایک چیلنج محسوس ہوتا ہے۔
قمر احمد نے مزید کہا ’ہماری کوئی صبح اچھی چائے کے کپ کے بغیر مکمل نہیں ہوتی اور سہ پہر کی چائے خاندان کے افراد کو اکٹھا کرنے کی ایک خوبصورت روایت ہے۔‘
رمضان کے دنوں میں تراویح کے بعد دوستوں یا اہل خانہ کے ہمراہ باہر جا کر اچھی کافی یا چائے سے لطف اندوز ہونا پُرسکون اور خوشگوار لمحہ ہوتا ہے۔
 

 

شیئر: