Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

غزہ جنگ میں ہتھیاروں کے استعمال پر اسرائیل کی امریکہ کو تحریری یقین دہانی

امریکہ کے اتحادی ملک کینیڈا نے اسرائیل کو ہتھیاروں کی ترسیل روک دی ہے۔ فوٹو: اے ایف پی
اسرائیل نے امریکہ کو تحریری یقین دہانی کرائی ہے کہ واشنگٹن کی جانب سے فراہم کردہ ہتھیاروں کے استعمال سے غزہ میں انسانی قوانین کی خلاف ورزی نہیں ہو رہی۔
خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق ایک امریکی عہدیدار نے بدھ کو بتایا کہ محکمہ خارجہ کی جانب سے مطلوبہ تحریری یقین دہانی اسرائیل نے جمع کروا دی ہے۔
اسرائیل کو یقین دہانی جمع کروانے کے لیے اتوار تک کی ڈیڈ لائن دی گئی تھی۔
امریکی محکمہ خارجہ مئی کے آغاز تک جائزہ لے گا کہ اسرائیل کی جانب سے دی گئی یقین دہانی کس حد تک حقیقت پر مبنی تھی اور اس کی رپورٹ کانگریس کو جمع کرائی جائے گی۔
خیال رہے کہ حماس کی جانب سے 7 اکتوبر کے حملے کے بعد سے اسرائیلی فوج غزہ میں لڑ رہی ہے جس میں 30 ہزار سے زائد فلسطینی ہلاک ہو چکے ہیں۔
صدر جو بائیڈن نے گزشتہ ماہ امریکی قومی سلامتی کا ایک نیا مراسلہ جاری کیا تھا جس میں کہا گیا تھا کہ امریکی ہتھیار حاصل کرنے والے تمام ممالک کو بین الاقوامی قوانین کی پاسداری کرنا ہوگی۔
دوسری جانب امریکہ کے اتحادی ملک کینیڈا نے اسرائیل کو ہتھیاروں کی ترسیل روک دی ہے۔ کینیڈا عسکری امداد کی مد میں اسرائیل کو سالانہ اربوں ڈالر مہیا کرتا ہے، تاہم غزہ جنگ کے بعد سے کینیڈا نے یہ امداد غیرمہلک ہتھیاروں تک محدود کر دی ہے۔

امریکہ نے اسرائیل سے یقین دہانی مانگی ہے کہ غزہ میں ہتھیاروں کے استعمال سے انسانی قوانین کی خلاف ورزی نہیں ہو رہی۔ فوٹو: اے ایف پی

کینیڈا کی وزیر خارجہ میلینی جولی کی جانب سے جاری بیان میں تصدیق کی گئی ہے کہ ’حکومت نے اسرائیل کے لیے مزید ہتھیاروں کی ترسیل کی منظوری نہیں دی اور یہ تب تک جاری رہے گا جب تک ہم یہ یقین دہانی نہ کر لیں کہ ہمارے برآمداتی نظام کی مکمل تعمیل ہو رہی ہے۔‘
بیان میں کہا گیا ہے کہ 8 جنوری سے پہلے کے منظور شدہ برآمداتی پرمٹس نافذالعمل رہیں گے۔
منگل کو ایک اعلٰی کینیڈین عہدیدار نے اے ایف پی کو بتایا تھا کہ زمینی صورتحال اس نوعیت کی ہے کہ ایسا کوئی سامان برآمد نہیں کر سکتے جو فوجی کارروائیوں کے لیے استعمال ہو سکے۔
اسرائیل نے کینیڈا کے اس اقدام پر سخت ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ اس سے حماس کے دہشت گردوں کے خلاف اسرائیل کے دفاع کے حق کو نقصان پہنچے گا۔

شیئر: