Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

نئے خلیج کا نظریہ

یحییٰ الامیر ۔ عکاظ
1979ءکے دوران برپا ہونے والا ایرانی انقلاب خلیجی ممالک کی تاریخ کا نمایاں ترین چیلنج بنا۔ایسے عالم میں جبکہ خلیجی ممالک ترقی اور جدید ریاستوں کی تشکیل کے چیلنجوں سے نمٹ رہے تھے، ایرانی انقلاب نے خلیجی ممالک کیلئے نیا بیرونی چیلنج دیدیا۔ اس انقلاب نے خلیجی ممالک پر نئے محاذ کی تشکیل اور خطے کی سطح پر منفرد نوعیت کا گروپ بنانے کے حوالے سے سیاسی اقدام تھوپ دیا۔
1982ءکے دوران جی سی سی معرض وجود میں آئی۔ اسکے 2سال بعد ”درع الجزیرہ شیلڈ فورس“ کے قیام کا فیصلہ کیا گیا۔ خلیجی تعاون کونسل خطے میں واحد عرب گروپ کے طور پر برقرار رہی۔ درپیش چیلنجوں کا سامنا کرتی رہی۔ یہ الگ بات ہے کہ اسکا موثر کردار وقتا ً فوقتاً اوپر نیچے ہوتا رہا۔ عراق ایرانی جنگ ، کویت پر سابق عراقی نظام کا ناجائز قبضہ جی سی سی کے لئے بڑے بحرانو ںکی صورت میں سامنے آیا ۔ جی سی سی ان بحرانوں کو عبور کرنے اور خطے نیز جی سی سی ممالک میں امن و استحکام بحال کرنے میں کامیاب رہی۔
جی سی سی کی تشکیل میں پہلا بگاڑ اس وقت پیدا ہوا جب امیر قطر نے اپنے والد کی حکومت کا تختہ الٹنے کیلئے انکے خلاف عَلم بغاوت بلند کیا۔ خلیج کی تاریخ میں پہلی بار یکساں سیاسی طرز کے ماحول میں خلل پیدا ہوا۔ خلیج کے دیگر ممالک اس تبدیلی پر ششدر و حیران رہ گئے۔ انہوں نے باپ کے خلاف بیٹے کی کھلی بغاوت کے واقعات بڑے صبر و تحمل سے برداشت کئے۔ یہ واقعہ خلیجی ممالک کی معروف سیاسی اقدار و روایات سے مکمل بغاوت کے مترادف تھا۔ اس تاریخ کے بعد سے خلیجی تعاون تنظیم میں ایک رکن ایسا پیدا ہوگیا جس کا کردار جس کی تشکیل اور جسکے سیاسی رجحانات جی سی سی کے فطری رجحانات سے مختلف تھے۔
بہت سارے لوگوں کے ذہنوں میں یہ خیال تک نہیں گزرا کہ یہ انقلاب باپ ہی کے خلاف نہیں تھا بلکہ ہر شے اور ہر معاملے کے خلاف انقلا ب تھا۔قطر کے نئے نظام نے جی سی سی میں اپنی رکنیت سے ناجائز فائدہ اٹھا کر جی سی سی ممالک کو نقصان پہنچایا۔ جی سی سی ممالک کے حریفوں کے ساتھ دو طرفہ معاہدے کئے۔ خلیجی ممالک نے صبر و تحمل سے کام لیا۔جی سی سی کے تحفظ اور خلیجی اقدار کو برقرار رکھنے کے لئے اقدامات واجب تھے۔ رفتہ رفتہ 2011ءآگیا جب قطری نظام کے حوالے سے جی سی سی ممالک کو فیصلہ کن موقف اختیار کرنے کا لمحہ آیا۔قطر نے متعدد عرب ممالک میں برپا ہونے والے ہنگامے منظم کرنے کیلئے اپنے یہاں آپریشن روم قائم کیا۔ ریاض سے لیکر ابوظبی، منامہ او رکویت تک خلیجی ممالک کے متعدد دارالحکومتوں کو ان کانشانہ بنایا گیا۔ 
2011ءکے واقعات جی سی سی کے حال و مستقبل کے حوالے سے بڑی تبدیلی کی بابت فیصلہ کن ثابت ہوئے۔ قطر کے حکمراں ان واقعات میں اس حد تک ملوث ہوچکے تھے جن کے ہوتے ہوئے اسے جی سی سی کے یکساں سیاسی ، سماجی، اقتصادی نظام میں برقرار رکھنا ناممکن ہوگیا تھا۔ پہلا بائیکاٹ 2014ءمیں ہوا۔ یہ سیاسی اور سفارتی بائیکاٹ تھا۔ یہ بائیکاٹ قطر کے کردار و گفتار اور رجحانات میں تبدیلی نہیں لاسکا۔
اُس وقت سے نئے خلیج کے نقوش مرتسم ہونے لگے۔ سعودی عرب اور امارات نے اس تبدیلی کی قیادت کی۔ ان دونوں ملکوں نے خطے میں سیاسی اسلام کی تحریکوں کی عارضی فتوحات اور انارکی پھیلانے والے منصوبوں کے مقابلے میں حفاظتی اقدامات کئے۔
سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات نے انتہا پسندی اور انارکی کو بھرپور طریقے سے شکست دی۔ اسی دوران دونوں ملکوں نے مشترکہ انجام ، اعتدال اور ترقیاتی عمل پر گہرے یقین کی بنیاد پر اتحاد کے رشتے مضبوط کئے۔ انہوں نے قطری نظام سے چھٹکارا حاصل کیا۔ اسے عملی طور پر جی سی سی کے دائرے سے دور کردیا۔ 
آج قطر کے بغیر خلیج خطے میں نئے شعور و آگہی کا نمایاں محرک ہے۔ سعودی عرب اور امارات خطے کے تمام ممالک کے نوجوانوں میں تبدیلی، ترقی اور مستقبل کا جوش اور ولولہ پیدا کررہے ہیں۔ یہ اتحاد نئے خلیج کیلئے حقیقی نمونہ ہے۔ سعودی عرب، امارات ، بحرین اورکویت کا مشترکہ تصور خطے میں وسیع تر توازن بحال کرسکے گا۔ نیا خلیج تشکیل دے گا۔ یہ جدید قومی ریاست کے ماحول میں آزادیوں ، ترقی اور شہری اقدار پر مبنی نیا علاقہ تشکیل دے گا۔
٭٭٭٭٭٭٭٭
 
 

شیئر: