Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

غربت اور امداد

یوں تو امداد کے وعدے بہت سے ممالک کرتے ہیں مگر عین وقت پر وہ کہیں اور نکل جاتی ہے اور یوں امداد کا کچھ حصہ جو غریبوں کے کام آنا چاہئے تھا امیر لوگ اس سے فیض پاتے ہیں
زبیر پٹیل۔ جدہ
ایک انٹرنیشنل سروے رپورٹ کے مطابق دنیا بھر میں غربت میں اضافہ ہورہا ہے اور امیروں کی دولت میں اضافہ حد سے زیادہ ہونے لگا ہے۔سروے رپورٹ میں اس دولت کو کئی نام دیئے گئے ہیں جس کے ذریعے ان امیروں نے دولت میں اضافہ کیا اور اپنی دولت اور شان و شوکت بڑھائی ہے۔
سروے کا خاص پہلو یہ تھا کہ دنیا بھر میں ترقی یافتہ ممالک کی جانب سے دی جانےوالی امداد میں بھی اضافہ ہوا ہے مگر غربت میں کسی طور کمی واقع نہیں ہورہی ۔سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ آخر دنیا بھر میں جو اتنی امداد دی جارہی ہے آخر وہ کہاں جارہی ہے۔ کیا حقداروں تک یہ امداد پہنچ بھی رہی ہے یا بیچ میں ہی کہیں ”ہضم“ کرلی جاتی ہے۔اس حوالے سے اب تک کوئی چیک و بیلنس کا نظام بھی نہیں اسلئے غریب ممالک میں تو امداد اوپر ہی اوپر” نکل “جاتی ہے اور غریب پھر بھی ”تنگدست“ ہی رہتا ہے۔اس وقت دنیا بھر میں جتنی امداد تقسیم کی جاتی ہے اسکا 50فیصد حصہ بھی اصل حقداروں تک پہنچ جائے تو چند سالوں میں دنیا سے غربت کا خاتمہ ممکن ہے مگر اس سوال کا جواب شاید کسی ماہر معیشت کے پاس نہیں کہ آخر یہ امداد کہاں جارہی ہے؟ اور غربت پھر بھی ختم ہونے کا نام کیوں نہیں لے رہی۔
یوں تو امداد کے وعدے بہت سے ممالک کرتے ہیں مگر عین وقت پر وہ کہیں اور نکل جاتی ہے اور یوں امداد کا کچھ حصہ جو غریبوں کے کام آنا چاہئے تھا امیر لوگ اس سے فیض پاتے ہیں۔دنیا کے امداد دینے والے ممالک متحد ہوکراس حوالے سے ڈیٹا تیار کرنا شروع کردیں اور اس حوالے سے اپنی ذمہ داری کا احساس کرتے ہوئے چیک اینڈ بیلنس کا سسٹم نافذ کریں تو امداد اصل حقداروں تک پہنچ پائےگی ورنہ یونہی غربت میں اضافہ ہوگا اور امیروں کی دولت بڑھتی ہی رہیگی۔
٭٭٭٭٭٭٭٭

۰ رائے دیں، تبصرہ کریں

شیئر:

متعلقہ خبریں