پاکستان کے صوبہ پنجاب کے دارالحکومت لاہورکے ایک پوش علاقے میں شام کے وقت گاڑیاں ایک ٹریفک سگنل پر آ کر رکتی ہیں تو افطار کے لیے گھر پہنچنے کی کوشش میں گاڑیوں میں سوار افراد کی نظر ایک ادھیڑ عمر خاتون پر پڑتی ہے۔
یہ خاتون سگنل پر کھڑی گلابی رنگ کے رکشے کی ڈرایئونگ سیٹ پر بیٹھی ہیں، رکشے کی ڈرائیونگ سیٹ پر بیٹھنے کا یہ منظر پاکستان میں عام نہیں کیونکہ رکشے کو مکمل مردانہ سواری سمجھا جاتا ہے۔
تاہم 45 سالہ کوثر پروین نے اپنے مرحوم شوہرکے رکشہ چلانے کی روایت کو برقرار رکھا ہے جس کے ذریعے ان کے مرحوم شوہر ان کو اور ان کے چھ بچوں کو پالتے تھے۔
جب 2013 میں کوثرپروین کے شوہر کا اچانک انتقال ہوا تو گھرچلانے کا سارا بوجھ اور بچوں کی تعلیم کے اخراجات ان کے کندھوں پر آن پڑے۔ کوثر بی بی کے لیے اکیلے گھر کے سات افراد کو پالنا تقریباً ناممکن تھا۔
’عرب نیوز‘ سے بات کرتے ہوئے کوثر پروین نے بتایا ’وہ میری زندگی کا کربناک لمحہ تھا جب میں نے اپنے تین بڑے بچوں کو سکول سے اٹھا کر کام پرلگایا، پہلے میں بڑے گھروں میں جُزوقتی کام کرنے لگی لیکن مہینے کے اختتام پر بمشکل آٹھ ہزار کما پاتی تھی جوکہ روزمرہ کے اخراجات اور سکول کی فیسوں کے لیے ناکافی تھے۔
انہوں نے بتایا ’وہ ان کی زندگی کے مشکل ترین لمحات تھے، اس وقت ان کی زندگی کی سب سے بڑی خواہش اپنے بچوں کو اچھی تعلیم دلانا تھی۔ اس پریشانی کے عالم میں پروین نے سوچا کہ کیسے ان کے مرحوم شوہر گھر کے اخراجات بظاہر آسانی سے پورا کرتے تھے اور پھر انہیں خیال آیا کہ کیوں نہ وہ بھی اپنے شوہر کی طرح رکشہ چلائیں۔‘
’میں نےسوچا جب میرا شوہر رکشہ چلاتا تھا تو ہماری زندگی پرسکون تھی، بچے سکول جا رہے تھے کچن کے اخراجات بآسانی پورے ہورہے تھے اور یہاں تک کہ ہم کچھ بچا بھی لیتے تھے۔‘
رکشہ لینے کے بارے میں کوثر پروین نے کہا کہ اس حوالے سے اپنے سسرسے بات کی تو انہوں نے ان کی مدد کی اور 2015 میں مقامی این جی او سے رابطہ کرایا جس نے پروین کو آسان اقساط پر رکشہ دلانے میں مدد کی۔
پروین نے ہنستے ہوئے کہا کہ شروع میں مرد مسافروں نے رکشے میں بیٹھنے سے گریز کیا۔ ’وہ مجھے ڈرائیونگ سیٹ پر قبول نہیں کر رہے تھے تاہم خواتین نے ہمیشہ مجھ سے محبت کا اظہار کیا۔‘
پروین کے رہائشی علاقے بستی اللہ ہو میں چھوٹے چھوٹے گھراور تنگ گلیاں ہیں لیکن اس علاقے سے بمشکل ایک میل دور گلبرک لاہور کا پوش علاقہ واقع ہے جہاں پُرتعیش ریستوران، بڑے گھر اور بوتیک واقع ہیں۔ چونکہ اس علاقے میں لگژری گاڑیاں بہت زیادہ ہیں اور رکشوں کا استعمال نہ ہونے کے برابر ہے اس لیے پروین ہر روز صبح سب سے پہلے اپنے بچوں کو رکشے میں سکول چھوڑتی ہیں اور اس کے بعد ان علاقوں کا رخ کرتی ہیں جہاں طلبا اور دوسرے شہری سواری کی تلاش میں پیدل چل رہے ہوتے ہیں۔
پاکستان میں کاروں اور رائیڈ شیرنگ ٹیکسی سروسز جیسا کہ کریم اور اوبر کے آنے کے باوجود گنجان آباد علاقوں میں رکشہ اب بھی ایک مقبول سواری ہے۔