انڈیا میں شہریت کے متنازعہ قانون کے خلاف بڑھتے ہوئے پرتشدد احتجاج سے پریشان مودی حکومت نے بالی وڈ ستاروں کی حمایت حاصل کرنے کے لیے انہیں ایک فائیو سٹار ہوٹل میں مدعو کیا ہے۔
انڈین شہریت قانون میں ’مسلم مخالف‘ ترمیم سے جہاں انڈیا دو حصوں میں بٹا ہوا ہے، اسی طرح انڈین شوبز انڈسٹری یا بالی وڈ میں بھی دو آرا پائی جاتی ہیں۔ کچھ فلمی ستارے کھل کر مودی حکومت کی حمایت کر رہے ہیں اور کچھ کھل کر شہریت قانون کی مخالفت کر رہے ہیں۔
این ڈی ٹی وی کے مطابق یونین منسٹر پیوش گوپال اور بی جے پی کے نائب صدر جے پانڈا نے بالی وڈ سٹارز کو شہریت قانون میں ترمیم کے حوالے سے حقائق بتانے کے لیے مدعو کیا ہے۔
مزید پڑھیں
-
انڈین موبائل فون کمپنیوں کو بڑا نقصانNode ID: 450291
-
فیض کی نظم ’ہم دیکھیں گے‘ پر انڈیا میں تنازعNode ID: 450921
دعوت نامے میں لکھا ہے کہ ’میٹنگ کے ایجنڈے میں شہریت قانون کے حوالے سے پھیلائی گئی افواہوں اور حقائق پر بات کرنا شامل ہے۔‘ یہ لکھا ہے کہ گفتگو کے بعد گرینڈ حیات ہوٹل ممبئی میں فلم سٹارز کے لیے ڈنر کا بھی اہتمام کیا گیا ہے۔
اس دعوت میں جن بڑے سٹارز کو مدعو کیا گیا ہے ان میں جیکی شروف، روینا ٹنڈن، سنیل شیٹھی، ریچا چڈا، کبیر خان، مدھر بھنڈارکر اور بونی کپور شامل ہیں۔
شہریت قانون کے خلاف آواز بلند کرنے والی بالی وڈ شخصیات سوارا بھاسکر، انوراگ کشیپ، نکھل ایڈوانی اور سوشانت سنگھ راجپوت کا نام مہمانوں کی فہرست میں شامل نہیں ہے۔

فلمی ستاروں میں شہریت قانون کے خلاف آواز بلند کرنے والوں میں سوارا بھاسکر سرفہرست ہیں جنہوں نے دہلی کی جامعہ ملیہ اسلامیہ یونیورسٹی میں طلبہ سے خطاب کرتے ہوئے کہا تھا کہ ’ہم ذرا دیر سے جاگے ہیں، لیکن اب ہم جاگ چکے ہیں۔ آپ نے تمام ملک کو جگا دیا ہے۔ ہم یہاں آپ کا شکریہ ادا کرنے آئے ہیں۔‘
واضح رہے کہ بالی وڈ فلم انڈسٹری کے بڑے نام شاہ رخ خان، عامر خان اور سلمان خان شہریت قانون پر بالکل خاموش ہیں۔
دوسری جانب اکشے کمار اور کنگنا رناوت نے حکومتی پالیسی کی حمایت کی ہے، جبکہ فرحان اختر، پرینیتی چوپڑا، سیف علی خان، شبانہ اعظمی اور ریتک روشن شہریت قانون کے خلاف بولے ہیں۔
