پاکستان کی سپریم کورٹ نے ملک کے دارالحکومت اسلام آباد کو ماحولیاتی آلودگی سے پاک کرنے کا روڈ میپ طلب کیا ہے۔
سپریم کورٹ نے اپنے حکم نامے میں چیئرمین کیپیٹل ڈویلپمنٹ اتھارٹی (سی ڈی اے)، اسلام آباد کے میئر، تحفظ ماحولیات ایجنسی کی ڈائریکٹر جنرل اور اسلام آباد چیمبر آف کامرس کو مشترکہ روڈ میپ تیار کرکے جمعرات کو عدالت میں پیش کرنے کا حکم دیا ہے۔
بدھ کو سپریم کورٹ میں اسلام آباد کے سیکٹر آئی نائن انڈسٹریل ایریا میں ماحولیاتی آلودگی سے متعلق از خود نوٹس کیس کی سماعت چیف جسٹس گلزار احمد کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے کی۔
عدالت کو ماحولیاتی تحفظ کی ایجنسی کی ڈائریکٹر جنرل فرزانہ الطاف نے بتایا کہ ’عدالتی حکم کے تحت آئی نائن سیکٹر میں چار فیکٹریوں کو کاربن فضا میں چھوڑنے سے روکنے کا پابند بنایا۔ اب فیکٹریاں کاربن کو فروخت کر کے ریونیو کما رہی ہیں۔‘ جس پر چیف جسٹس نے کہا کہ ’چلیں اچھا ہے ان کو بھی بیچنے کو ایک اور چیز مل گئی۔‘
مزید پڑھیں
-
سپریم کورٹ: مشرف کی درخواست خارجNode ID: 453786
-
منسٹر صاحب آپ کا سارا کچا چٹھا سامنے ہے: سپریم کورٹNode ID: 455656
-
پاکستان میں غیر ملکی سیاحوں کی آمد میں ’700 فیصد‘ اضافہNode ID: 462656
ڈی جی تحفظ ماحولیات ایجنسی نے بتایا کہ ’سی ڈی اے اسلام آباد کی زمین کی ملکیت رکھتا ہے وہ صنعتی پلاٹ پر فیکٹری لگانے کی اجازت دے دیتا ہے لیکن اس کے ماحول پر پڑنے والے اثرات کا جائزہ نہیں لیتا۔ سنگجانی میں 53 ماربل فیکٹریاں لگ چکی ہیں۔‘
چیف جسٹس نے کہا کہ ’ماربل انڈسٹری لوگوں کو بیمار کر دے گی۔ پہلے ہی پہاڑ کاٹے جا رہے ہیں۔ محکمہ ماحولیات کے لوگ اپنے ہاتھ گرم کرکے واپس آ جاتے ہیں۔‘
ڈی جی نے بتایا کہ ‘آئی نائن میں انڈسٹری بند اور وہاں پر وئیر ہاؤس بن چکے ہیں۔‘ چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ صنعتی پلاٹس کو دکان بنا دیا ہے۔ پورا پاکستان ہی دکان بن چکا ہے۔ جدھر دیکھیں دکانیں ہی دکانیں نظر آتی ہیں۔ صنعتوں کو چھوڑ کر باہر سے لاکر چیزیں بیچ رہے ہیں۔ صنعت کار بیوپاری بن گئے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ’صنعتیں بند کر دینا ماحولیاتی آلودگی روکنے کا کوئی حل نہیں ہے۔ پاکستان کا کپڑا دنیا بھر میں معروف تھا۔ اب چین سے منگوا رہے ہیں جس کا کوئی معیار نہیں۔ صنعتیں بند کرنے سے پاکستان کا اثاثہ ہنر مند، کاریگر، مزدور، خام مال پیدا کرنے والے افراد سمیت کئی خاندان متاثر ہوئے ہیں۔‘
