اسلام آباد کی ایک عدالت نے وزیراعظم بے نظیر بھٹو کے حوالے سے نازیبا ٹویٹ کرنے پر ایف آئی اے کو پاکستان میں مقیم امریکی شہری سنتھیا رچی کے خلاف کارروائی کرنے اور شواہد ملنے پر ایف آئی آر درج کرنے کا حکم دیا ہے۔
ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج اسلام آباد جہانگیر اعوان نے پیر کے روز محفوظ فیصلہ سنایا اور کچھ دیر بعد تحریری فیصلہ جاری کر دیا۔
تحریری فیصلے میں کہا گیا ہے کہ انسداد الیکٹرانک کرائم ایکٹ (پیکا) کے سیکشن 20 میں کہا گیا ہے کہ کوئی بھی متاثرہ شخص ’عزت کو نقصان پہنچانے‘ کے مقدمے میں درخواست دے سکتا ہے او بے نظیر بھٹو پاکستان کی سابق وزیراعظم اور لاکھوں لوگوں کی رہنما تھیں، اس لیے ان کے خلاف الزامات پر ان کے حامیوں کو ’متاثرہ شخص‘ سمجھا جا سکتا ہے۔
مزید پڑھیں
-
عظمیٰ خان کی درخواست پر ملک ریاض کی بیٹیوں کے خلاف مقدمہNode ID: 481516
-
’ملک ریاض کی بیٹیوں کے خلاف مزید کارروائی نہیں کرنا چاہتی‘Node ID: 482641
-
’صبا کے بعد سنتھیا بھی بیلنس مانگ رہی ہے‘Node ID: 484571
عدالت نے واضح کیا کہ پیکا ایکٹ کی تشریح کے مطابق محترمہ بے نظیر بھٹو کی پارٹی کا ضلعی صدر بھی متاثرہ فریق ہے۔ یاد رہے کہ پیپلز پارٹی اسلام آباد کے صدر شکیل عباسی نے سنتھیا رچی کے خلاف مقدمہ درج کرنے کی درخواست دائر کر رکھی تھی۔
فیصلے میں کہا گیا ہے کہ سینتھیا رچی نے سوشل میڈیا پر بے نظیر بھٹو پر الزامات کے ٹویٹ سے انکار نہیں کیا اس لیے انسداد الیکٹرانک کرائم ایکٹ کے تحت جرم واقع ہوا ہے۔
عدالت نے ایف آئی اے کو ہدایت کی کہ قانون کے مطابق تفتیش کرے اور شواہد ملنے پر ایف آئی آر درج کرے۔
عدالت نے فیصلے میں مزید لکھا کہ محترمہ بے نظیر بھٹو کو شہید ہوئے 12 سال سے زائد کا عرصہ گزر چکا ہے اور سینتھیا رچی نے اتنے سالوں تک کسی متعلقہ فورم یا میڈیا پر ان الزامات کا اظہار نہیں کیا۔
فیصلے میں کہا گیا ہے کہ بے نظیر بھٹو کی شہادت کے 12 سال بعد الزامات لگانا بظاہر بدنیتی ہے۔

سنتھیا رچی کو کیا سزا مل سکتی ہے؟
عدالت نے ایف آئی اے کو پیکا کے سیکشن 20 کے تحت کارروائی کا حکم دیا ہے۔ اس سیکشن کو کسی بھی ’شخص کی عزت کے خلاف جرم‘ کا عنوان دیا گیا ہے۔
اس کے تحت جو شخص بھی جان بوجھ کر کسی بھی ذریعے سے عوام میں کوئی جھوٹی معلومات پھیلاتا ہے جس سے کسی شخص کی پرائیویسی اور ساکھ کو نقصان پہنچتا ہے اس کو تین سال قید یا 10 لاکھ روپے جرمانہ ہو سکتا ہے یا دونوں سزائیں بھی دی جا سکتی ہیں۔
قانون کے مطابق اس طرح کے کیس میں متاثرہ شخص یا اس کے ورثا ایف آئی اے کو ایسی اطلاعات کو بلاک کرنے کی درخواست بھی دے سکتے ہیں اور ایف آٗئی اے اس سلسلے میں حکم جاری کر سکتی ہے۔
