سعودی عرب کی جانب سے 25 بیرونی ممالک سے پروازوں کے لیے ایس او پیز کے اجراء کے بعد پاکستان کی حکومت، ٹریول ایجنٹس اور سفر خواہش مند افراد پر امید ہیں کہ جلد پاکستان سے بھی پروازوں کی بحالی ممکن ہو سکے گی اور انھوں نے تیاریاں بھی شروع کر دی ہیں۔
وزارت سمندر پار پاکستانیز کے اعداد و شمار کے مطابق کورونا کے باعث فضائی سفر پر پابندیاں عائد ہوئیں تو اس وقت پاکستان سے 60 ہزار سے زائد وہ ورکرز سفر کرنے کے لیے تیار بیٹھے تھے جن کی تمام تر سفری دستاویزات مکمل ہو چکی تھیں جبکہ 50 ہزار سے زائد چھٹیوں پر تھے یا انھیں رخصت پر بھیج دیا گیا تھا۔
اس کے علاوہ ایک لاکھ سے زائد افراد کی بیرون ملک ملازمت کا پراسیس جاری تھا جسے مجبوراََ روکنا پڑا تھا۔ ان مین سے بڑی تعداد کا تعلق سعودی عرب سے ہے۔
مزید پڑھیں
-
پاکستانیوں کے لیے سعودی عرب اور امارات سے 44 مزید پروازیںNode ID: 483841
-
جدہ سے مزید دو پروازیں، 500 پاکستانیوں کی واپسیNode ID: 487406
-
مملکت آنے والوں کے لیے سعودیہ ایئر لائن کے ضوابط جاریNode ID: 502546
ڈی جی بیورو آف امیگریشن اینڈ اوورسیز ایمپلائمنٹ کاشف نور نے اردو نیوز کو بتایا کہ 'ابھی تک سعودی عرب نے پاکستان سے پروازوں کی بحالی کی تاریخ نہیں دی لیکن بحالی کی صورت میں ہماری تیاری مکمل ہے کہ سعودی حکومت کے ایس او پیز کو فالو کرتے ہوئے اپنے ورکرز کو بھیجنے کے لیے تیار ہیں۔'
دوسری جانب فضائی پابندیوں کے باعث مالی مشکلات کا شکار ٹریول ایجنٹس نے بھی امیدیں لگا لی ہیں کہ پروازوں کی بحالی کے باعث ان کا روزگار بھی بحالی کی جانب گامزن ہو سکے گا۔
ٹریول ایجنٹ عدیل یونس ٹوپہ نے بتایا کہ 'جب تک سفارت خانے نہیں کھلتے تب تک بیرون ملک سفر اور ٹکٹنگ کا کام بحال نہیں ہو سکتا۔ اب سن رہے ہیں کہ سفارت خانہ بھی کھل رہا ہے اور پروازیں بھی بحال ہوں گی تو ہم خوش ہیں کیونکہ اقامہ ہولڈر کی بڑی تعداد واپس جانے کی منتظر ہے۔'
انھوں نے کہا کہ 'ٹریول ایجنٹس کی اکثریت حج و عمرہ کے سیزن میں ہی سال بھر کی کمائی کرتی ہیں تو ہم پر امید ہیں کہ عمرہ بھی جلد بحال ہوگا اور اگلے سال کا حج بھی ہوگا۔'
ٹریول ایجنٹ راجہ وقاص نے بتایا کہ 'ہمارے بہت سے کلائنٹس رابطے کر رہے ہیں تاہم باضابطہ طور پر فلائٹس شیڈول کی بحالی تک بکنگ نہیں ہو سکتی۔'
پہلی دفعہ سعودی عرب کا سفر کرنے والے ورکرز کی بڑی تعداد کا سفر پابندیوں کے باعث تاخیر کا شکار ہوا ہے تاہم اب جب امید کی کرن نظر آئی ہے تو وہ خوش ہیں کہ وہ ملازمت پر جاکر اپنے خاندان کے لیے کمائی کا بہتر ذریعہ بنیں گے۔
