متحدہ عرب امارات اور بحرین نے واشنگٹن میں صدر ٹرمپ کی موجودگی میں اسرائیل کے ساتھ تاریخی معاہدے پر دستخط کر دیے ہیں۔
عرب نیوز کے مطابق تاریخی معاہدے ’ابراہام اکارڈ‘ پر دستخطوں کے بعد خلیج کے یہ دونوں ملک اسرائیل سے مکمل سفارتی تعلقات رکھنے والے دیگر دو عرب ملکوں مصر اور اردن کے ساتھ شامل ہوگئے ہیں۔
معاہدے پر دستخطوں کی اس تقریب میں متحدہ عرب امارات کے وزیر خارجہ شیخ عبداللہ بن زید، بحرین کے وزیر خارجہ عبداللطیف بن راشد الزایانی اور اسرائیل کے وزیراعظم بنیامین نتن یاہو نے شرکت کی۔
مزید پڑھیں
-
امارات نے اسرائیل کا معاشی اور اقتصادی بائیکاٹ ختم کر دیاNode ID: 501766
-
’ بحرین اور اسرائیل امن معاہدے پر متفق ہو گئے ہیں‘Node ID: 504506
-
بحرین اور اسرائیل کے وزرائے خارجہ کا رابطہNode ID: 504666
خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق صدر ٹرمپ نے بحرین اور امارات کے اسرائیل کے ساتھ معاہدے کو مشرق وسطیٰ کے لیے نئی شروعات قرار دیا۔
تقریب کے لیے وائٹ ہاؤس میں جمع سینکڑوں شرکا سے خطاب میں صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ دہائیوں کے تنازعات اور تقسیم کے بعد ہم ایک نئے مشرق وسطیٰ کی شروعات کا نظارہ کر رہے ہیں۔
ٹرمپ کا کہنا تھا کہ ’آج کی دوپہر ہم یہاں تاریخ کا دھارا تبدیل کرنے کے لیے جمع ہیں۔‘
ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق تینوں ملکوں نے اس دوران ایک سہ فریقی معاہدے پر بھی دستخط کیے جس کا مسودہ ابھی سامنے نہیں آ سکا۔
معاہدے پر دستخطوں کی یہ تقریب وائٹ ہاوس کے جنوبی لان میں منعقد ہوئی ۔ یہ یہی جگہ ہے جہاں سنہ 1993 میں اسرائیل اور فلسطینی قیادت نے اوسلو معاہدے پر دستخط کیے تھے۔
اس تقریب میں سابق برطانوی وزیراعظم ٹونی بلیئر سمیت 700 اہم شخصیات نے شرکت کی۔
قبل ازیں جمعے کو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا تھا کہ بحرین اور اسرائیل ایک امن معاہدے پر دستخط کے لیے تیار ہوگئے ہیں۔ انہوں نے ٹویٹ میں لکھا تھا کہ ’ایک اور تاریخی پیش رفت،ہمارے دو عظیم دوست اسرائیل اور بحرین امن معاہدے پر رضا مند ہوگئے ہیں‘۔
