پی ڈی ایم کی تحریک کے پہلے مرحلے کے اختتامی جلسے میں ایک مرتبہ پھر محمود خان اچکزئی کی تقریر میں لاہور کے باسیوں کے متعلق جملوں سے ایک نئی طرح کا تنازع جنم لے چکا ہے۔
پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ کے رہنما اور پختونخوا ملی عوامی پارٹی کے سربراہ محمود خان اچکزئی نے 13 دسمبر کے لاہور جلسے میں تقریر کرتے ہوئے کہا کہ ’کوئی برا نہ مانے ہم کسی کو طعنہ دینے نہیں آئے جہاں جہاں کلمہ حق کہا جاتا تھا وہ سارے علاقے یا اٹلی یا انگریز یا فرانسیسیوں کے قبضے میں چلے گئے۔ برا نہ مانیں ایک وطن جو ان کے خلاف لڑا وہ افغان پشتون وطن تھا دریائے آمو سے لے کر اباسین تک، برا نہ مانیں جہاں ہندووں اور سکھوں نے انگریز کا ساتھ دیا وہاں تھوڑا سا ساتھ لاہوریوں نے بھی افغان وطن پر قبضہ کرنے کے لیے انگریزوں کا دیا۔ بس اتنا کافی ہے۔‘
مزید پڑھیں
-
ملک توڑنا نہیں چا ہتے ،محمود اچکزئیNode ID: 345901
-
فضل الرحمان،اچکزئی اور اسفند یا ر کی باری بھی آنیوالی ہےNode ID: 373631
-
مہاراجہ رنجیت سنگھ ایک بار پھر لاہور میںNode ID: 423976
ان کے اس خطاب کے بعد حکومتی صفوں سے ان پر تنقید کی گئی لیکن سوشل میڈیا پر پنجابی قوم پرستوں دیگر افراد نے بھی ان الفاظ کر غیرضروری قرار دیا۔
پی ڈی ایم کے جلسوں میں یہ تیسرا موقع ہے جب محمود خان اچکزئی اس طرح سے تنقید کی زد میں آئے۔ ایسے میں سوال یہ کھڑا ہوتا ہے کہ کیا محمود خان اچکزئی نے جو کہا وہ تاریخی طور پر درست نہیں یا سیاسی موقعے پر محض ماضی کے واقعات کو دہرانا لوگوں کے لیے قابل قبول نہیں۔
پنجاب یونیورسٹی میں شعبہ تاریخ کے استاد پروفیسر ڈاکٹر طاہر محمود سمجھتے ہیں کہ نوآبادیاتی نظام میں پنجاب 1849 میں برطانوی راج کا حصہ بنا ’اس وقت پنجاب میں سکھوں کی حکومت تھی اور یہ اس وقت کے شمال مغربی سرحدی علاقے تک پھیلی ہوئی دو بڑی لڑائیوں کے بعد انگریز پنجاب پر قبضہ کرنے میں کامیاب ہوا۔‘

پروفیسر طاہر محمود جن کی پی ایچ ڈی اسی نوآبادیاتی دور کے موضوع پر ہے، انہوں نے اردو نیوز کو بتایا کہ ’شروع میں پنجاب اور انگریزوں کا تعلق بہت تلخ تھا اور خوف پھیلا کر راج کیا جا رہا تھا۔ لیکن جلد ہی انگریز یہ بات بھانپ گیا کہ اس خطے پر زور زبردستی حکومت نہیں کی جاسکتی اس لیے انہوں نے اپنا طریقہ واردات بدل لیا اور یہ سب 1857 کی جنگ آزادی کے بعد ہوا۔ انگریز نے پنجابیوں کے ساتھ ورکنگ ریلیشن شپس پیدا کر لیے اور فوج میں سب سے زیادہ بھرتی پنجابیوں کو کیا۔ نوآبادیاتی فوج میں 50 فیصد لوگ پنجاب سے تھے۔ اسی طرح بڑے پیمانے پر پنجاب میں اقتصادی اصلاحات لائی گئیں، نہری نظام، ریل اور روڈ کا نظام اور ساتھ پوربیوں (مشرقی علاقوں بشمول دہلی) پر قبضے کے خواب بھی دکھائے گئے۔‘
ان کا کہنا تھا کہ ’یہ سب ایک دن میں نہیں ہوا اس نظام کو ارتقا پذیر ہونے کے لیے دہائیاں لگیں‘، ڈاکٹر طاہر محمود نے اپنے بات جاری رکھتے ہوئے کہا کہ ’اور اس میں بھی شک و شبہے کی کوئی گنجائش نہیں کہ پورے برصغیر میں وسائل کی تقسیم کے معاملے پر پنجاب سب سے زیادہ حصہ دار تھا اور خوشحال تھا۔ انگریز کو ایسے ہی پنجاب کی ضرورت تھی۔ بعد میں جنگ عظیم اول میں 60 فیصد لڑنے والے فوجی پنجاب سے تعلق رکھتے تھے۔‘

ان کے مطابق پنجاب مکمل طور پر وفادار صوبے کی حیثیت اختیار کر چکا تھا، ’انگریز کو اس کی اس لیے بھی ضرورت تھی کہ مغربی سرحد پر روس دیگر ریاستوں پر قبضہ کے بعد افغانستان کے خواب دیکھ رہا تھا شاید یہی وہ نقطہ ہے جس پر محمود خان اچکزئی بات کر رہے تھے۔ اس وقت برطانوی فوج بہت طاقت ور ہو چکی تھی اور اس میں پنجابی اور پشتون سب سے اکثریت میں اس وقت جو 1880 میں افغان اینگلو وار ہوئی اور اس میں برطانوی نوآبادیاتی فوج کو خاطر خواہ کامیابی ملی۔ یہ جنگ اصل میں برطانیہ اور روس کی تھی۔‘
لاہور کی لمز یونیورسٹی کے پروفیسر علی قاسمی محمود اچکزئی کے بیان سے متعلق سمجھتے ہیں کہ ’ان کا بیان مجھے تو سطحی اور انتہائی چھوٹے سے حصے کو بیان کرتا ہوا معلوم ہوا ہے۔ آپ اتنی سادگی سے یہ نہیں کہ سکتے کہ لاہوری یا پنجابی ماضی میں یہ کر چکے ہیں آپ کبھی بھی مکمل سیاق وسباق کے بغیر یہ بات نہیں کر سکتے کیوںکہ ایسے سمجھ نہیں سکتے وہ ان زمینی اور تاریخی حقائق کو نظر انداز کر رہے ہیں جن حالات میں اور تناظر میں یہ واقعات وقوع پذیر ہوئے، اس میں حقیقت ہے کہ پنجاب انگریزوں کا سب سے وفادار صوبہ تھا لیکن یہ مقام حاصل کرنے کے لیے انہوں نے بے انتہا سرمایہ کاری کی اور حالات ایسے بنا دیے کہ تاریخ کا رخ ہی موڑ دیا۔‘
پنجاب کی تاریخ پر ناول ’مادھولال‘ لکھنے والے مصنف نین سکھ اس بحث کو ایک نہایت ہی الگ زاویے سے دیکھتے ہیں وہ سمجھتے ہیں کہ ’اس بحث کو سرے سے شروع کرنا ہی بدیانتی ہے۔ یہ ایک تاریخی حقیقت ہے کہ پنجاب سب سے خوشحال صوبہ ہے اور باقی صوبے کسی نہ کسی انداز میں اپنا کوئی شکوہ شکایت کسی نہ کسی طریقے سے بیان کرتے رہتے ہیں تو ان کے جملوں کو کھلے دل سے سننا چاہیے۔ اس سے ایک خوبصورت فضا جنم لیتی ہے۔ ویسے اگر اچکزئی صاحب کی ذات کی حد تک بات کریں تو ان کے والد عبدالصمد اچکزئی پہلے انگریز کی قید میں تھے تو پاکستان بننے کے بعد وہ ہماری قید میں آ گئے تو تاریخ تو دکھی ہے ہی، اس پر سیخ پا ہونے کی بجائے اس کو ٹھنڈے دل سے دیکھنا چاہیے۔‘
