ایران کی حکومت اختلاف رائے رکھنے والے اپنے شہریوں کی انٹرنیٹ سمیت مختلف طریقوں سے نگرانی کر رہی ہے۔
عرب نیوز نے اپنی ایک رپورٹ میں بتایا ہے کہ ایک ہزار سے زائد افراد کو ایران، برطانیہ، امریکہ اور دس دیگر ملکوں میں ایرانی ہیکرز نے ہدف بنایا ہے جو حکومت پر تنقید کرتے ہیں۔
چیک پوائنٹ نامی سائبر سکیورٹی کمپنی کے مطابق دو گروپس ایسی سرگرمیوں میں ملوث ہیں جن کے ذریعے ناقدین کے کال ڈیٹا اور دیگر سرگرمیوں تک رسائی کے لیے ان کو سپائی ویئر سے نشانہ بنایا جاتا ہے۔
مزید پڑھیں
-
ہیکنگ کے لیے انڈیا کا سائبر حملہNode ID: 498321
-
دہری شہریت کے برطانوی سکالر کا ایران کے پہاڑی راستے سے پیدل فرارNode ID: 538166
ان میں سے ایک گروپ ڈومیسٹک کِٹن کے نام سے کام کرتا ہے جو ناقدین تک رسائی کے مختلف طریقے استعمال کرتے ہوئے ان مشکوک سافٹ ویئر اپنے فون میں ڈاؤن لوڈ کرنے پر اکساتا ہے۔
چیک پوائنٹ کے مطابق یہ گروپ تہران کے ریستوران کی ایپ کو استعمال کرتا ہے، مقامی خبروں کی ایپ کو بھی استعمال کیا جاتا ہے جبکہ موبائل سکیورٹی فراہم کرنے والی جعلی ایپس کے ذریعے بھی ناقدین کے فون تک رسائی حاصل کی جاتی ہے۔
اس گروپ کی جانب سے ایک کیس میں داعش کے حمایتی وال پیپر کو فون ہیکنگ میں استعمال کیا گیا۔
چیک پوائنٹ کی رپورٹ کہتی ہے کہ تہران نے اس طریقے سے 600 کے لگ بھگ کامیاب نگرانی آپریشن کیے۔
معلومات اور ڈیٹا کی ہیکنگ میں ملوث دوسرا گروپ ’انفی‘ ہے جو سنہ 2007 سے ہدف بنائے گئے افراد کو پرکشش مواد ای میل کے ذریعے بھیجتا ہے جس میں سپائی ویئر شامل ہوتا ہے۔
چیک پوائنٹ کے مطابق ایران کا ’انفی‘ پراجیکٹ اب تک سب سے پیچیدہ منصوبہ ہے۔ چیک پوائنٹ کے سائبر ریسرچ کے سربراہ یانیو بلماس کہتے ہیں کہ ’ایران کی حکومت اس طرح کے سائبر آپریشنز میں بہت بڑی رقم لگا رہی ہے۔‘
