Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

فیصل واوڈا کو دیا گیا سینیٹ ٹکٹ برقرار رکھنے کا فیصلہ

وزیراعظم عمران خان بنی گالہ میں پارلیمانی بورڈ کے اجلاس کی صدارت کریں گے (فوٹو: اے ایف پی)
وزیراعظم عمران خان نے سندھ سے سینیٹ انتخابات کے لیے فیصل واوڈا پر اعتراض کو مسترد کرتے ہوئے وفاقی وزیر کو دیا گیا ٹکٹ برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا ہے۔  
منگل کو وزیراعظم عمران خان کی زیر صدارت ہونے والے پارلیمانی بورڈ کے اجلاس میں سینیٹ انتخابات کے لیے جاری کیے گئے ٹکٹس پر پارٹی تحفظات پر مشاورت کی گئی۔ 
پارلیمانی بورڈ کے ایک رکن نے اردو نیوز کو تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ وفاقی وزیر فیصل واوڈا پر اعتراضات کا جائزہ لینے کے بعد سینیٹ انتخابات کے لیے جاری کیے گئے ٹکٹ کو برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا گیا ہے جبکہ سندھ سے سینیٹ کے لیے نامزد امیدوار سیف اللہ ابڑو پر اعتراضات کو بھی مسترد کر دیا ہے۔‘ 
ادھر وزیراعظم عمران خان نے سندھ سے تعلق رکھنے والے قومی اور صوبائی اسمبلی کے ارکان کا ویڈیو لنک اجلاس بھی طلب کر لیا ہے جس میں وزیراعظم اپنے فیصلے سے متعلق ارکان کو اعتماد میں لیں گے اور سینیٹ انتخابات کے حوالے سے حکمت عملی طے کی جائے گی۔  
تحریک انصاف کی جانب سے سینیٹ انتخابات کے لیے نامزد امیدواروں پر تحفظات سامنے آنے کے بعد وزیراعظم عمران خان نے پارلیمانی بورڈ کا مشاورتی اجلاس آج طلب کیا تھا۔  
واضح رہے کہ تحریک انصاف کی جانب سے بلوچستان سے عبدالقادر سے سینیٹ کا ٹکٹ واپس لے لیا تھا تاہم عبد القادر کی جانب سے بطور آزاد امیدوار سینیٹ کے انتخابات میں حصہ لینے کے لیے کاغذات نامزدگی جمع کروادیے ہیں۔  

سینیٹ امیدواروں پر تحفظات کیا ہیں؟

تحریک انصاف کی جانب سے بلوچستان کے علاوہ سندھ اور خیبر پختونخواہ کے امیدواروں پر پارٹی کی جانب سے تحفظات کا اظہار کیا گیا ہے۔

پی ٹی آئی کے کارکنوں نے فیصل واوڈا کی نامزدگی پر تحفظات کا اظہار کیا ہے (فوٹو: اے پی پی)

تحریک انصاف کے پارلیمانی بورڈ کے ایک رکن نے اردو نیوز کو بتایا ہے کہ سندھ سے تحریک انصاف کے سینیٹ کے نامزد امیدوار فیصل واوڈا پر پارٹی کی جانب سے تحفظات کا اظہار کیا گیا تھا۔ جس میں فیصل واوڈا کو رکن قومی اسمبلی اور وفاقی وزیر کا عہدہ رکھنے کے باوجود سینیٹ کا ٹکٹ دینے پر اعتراض اٹھایا گیا۔  
خیال رہے کہ وفاقی وزیر فیصل واوڈا پر عام انتخابات کے دوران  جمع کرائے گئے بیان حلفی میں امریکی شہریت چھپانے کا الزام ہے۔
وفاقی وزیر فیصل واوڈا پر دوہری شہریت چھپانے سے متعلق اسلام آباد ہائی کورٹ اور الیکشن کمیشن میں کیس زیر التوا ہے جبکہ الیکشن کمیشن میں فیصل واوڈا اور ان کے وکلائ کی جانب سے تاخیر حربے اپنانے پر کمیشن جرمانہ بھی عائد کر چکا ہے۔  
ادھر پارلیمانی بورڈ کے رکن اور وفاقی وزیر اسد عمر نے پیر کو نجی ٹی وی چینل سے گفتگو کے دوران کہا کہ ’یہ بات سمجھ آنے والی ہے کہ فیصل واوڈا پر پارٹی کی جانب سے اعتراض سامنے آرہے ہیں اور یہ بات بھی سمجھ میں آتی ہے کہ ان کے خلاف ایک کیس زیر التوا ہے اور اس کا فیصلہ ان کے خلاف بھی آسکتا ہے تو بطور سینئیر پارٹی رکن ان کو قومی اسمبلی سے سینیٹ منتقل کر دیا جائے۔‘  

وفاقی وزیر اسد عمر کا کہنا ہے کہ فیصل واوڈا تحریک انصاف کے دیرینہ رکن ہیں (فوٹو: اے ایف پی)

پارلیمانی بورڈ کے ایک رکن نے اردو نیوز کو بتایا کہ ’سندھ سے سیف اللہ ابڑو کو سینیٹ کا ٹکٹ دینے پر بھی اعتراض سامنے آئے ہیں۔‘  
تحریک انصاف سندھ کے عہدیداروں کی جانب سے سیف اللہ آبڑو پر نیب زدہ ہونے اور پارٹی وابستگی نہ ہونے کا الزام عائد کیا گیا ہے۔
تحریک انصاف کی جانب سے خیبرپختونخوا سے فیصل سلیم کو سینیٹ ٹکٹ جاری کرنے پر بھی تحفظات سامنے آرہے ہیں۔ پارٹی کارکنان کی جانب سے فیصل سلیم پر جعلی سیگریٹس کا کاروبار کرنے کا الزام عائد کیا گیا ہے۔  

شیئر: