چین کی نسبت پاکستان کے ’ری سائیکل سیلیکون ماسکس سستے‘
چین کی نسبت پاکستان کے ’ری سائیکل سیلیکون ماسکس سستے‘
جمعرات 11 مارچ 2021 6:13
توصیف رضی ملک -اردو نیوز- کراچی
وسکاس نامی کمپنی نے سیلیکون سے بنے سستے ترین ماسک تیار کیے ہیں (فوٹو: اردو نیوز)
برطانیہ سمیت بیشتر یورپی ممالک شہریوں سے اپیل کر رہے ہیں کہ وہ جہاں تک ممکن ہو دوبارہ استعمال اور ری سائیکل ہونے والے ماسکس استعمال کریں، وجہ یہ کہ سرجیکل ماسکس ری سائیکل نہیں ہوسکتے۔
صرف برطانیہ میں روزانہ 53 ملین ماسکس کچرے کا حصہ بن کر پلاسٹک ویسٹ میں اضافہ اور آبی آلودگی کا ذریعہ بن رہے ہیں۔
جامعہ کراچی کے شعبہ ماحولیات کے پروفیسر وقار احمد کا کہنا ہے کہ پاکستان کی صورتحال اس سے کہیں زیادہ پریشان کن ہو سکتی ہے، لیکن ملک میں ماحولیات کے حوالے سے کوئی تحقیق یا کاوش نہیں کی جاتی۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ سرجیکل ماسکس کی بناوٹ میں مائیکروفائبر استعمال ہوتا ہے جو ریسائیکل نہیں کیا جاسکتا ہے، علاوہ ازیں، یہ مائیکرو فائبر جلد گلتا بھی نہیں بلکہ پانی یا زمین کے ذریعے انسان کی خوراک میں واپس شامل ہوسکتا ہے۔
عالمی ادارہ صحت کی جانب سے2020 میں بتایا گیا تھا کہ کورونا وائرس کی وبا سے نمٹنے کے لیے ہر مہینے صرف دنیا بھر کے ہسپتالوں میں تقریباً 90 ملین ماسکس کی ضرورت پڑ رہی ہے، عام افراد کا استعمال اس کے علاوہ ہے۔
اس عالمی ضرورت کو پورا کرنے کے لیے چین نے ماسکس کی پیداوار کو ہنگامی بنیادوں پر بڑھایا اور اب روزانہ 15 ملین ماسکس بنائے جا رہے ہیں۔
ڈسپوزایبل ہونے کی وجہ سے ان ماسکس کو ایک سے دو بار استعمال کے بعد پھینک دیا جاتا ہے، جس سے ماحولیاتی آلودگی کا شدید خطرہ درپیش ہے۔
ایک بار استعمال والا پلاسٹک اور مائیکروفائبر ماحولیاتی آلودگی کا بڑا سبب ہے، یہ مائیکرو فائبر نالوں میں شامل ہو کر پانی کے ذخائر کو آلودہ کر رہا ہے۔
کورونا کی وبا آنے سے ماسکس کی مانگ میں اضافہ ہوا تھا (فوٹو: اے ایف پی)
کورونا کی وجہ سے اس ’ون ٹائم‘ پلاسٹک کے استعمال میں کئی گنا اضافہ ہوا ہے۔
لندن یونیورسٹی کے جانب سے تحقیق میں کہا گیا ہے کہ اگر برطانیہ میں ہر شخص ایک سال تک فی دن ایک ماسک کے حساب سے ماسک استعمال کرے تو اس سے 66 ہزار ٹن فضلہ اکھٹا ہوگا۔
اوشن ایریا نامی ریسرچ ادارے کی تحقیق میں سامنے آیا ہے کہ ماسکس کے مائیکروفائبرز آبی مخلوق کی خوراک کا حصہ بننے کی صورت میں انسانی خوراک بھی متاثر ہو رہی ہے۔ جبکہ چھوٹی آبی مخلوق کے مرنے کا بھی خدشہ ہے۔ ماسکس کی ضرورت اور اس کے کاروبار کے معیشت پر اثر کے باعث حکومتیں اور ادارے تاحال اس کے استعمال پر پابندی نہیں لگا پائے۔ البتہ یورپین یونین اس حوالے سےآگہی مہمات چلا رہی ہے۔
ماحولیاتی آلودگی کو کم سے کم کرنے کی غرض سے ماہرین دوبارہ استعمال والے ماسکس پر اسرار کر رہے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ عام استعمال کے لیے مائیکرو فائبر والے ماسکس کی بجائے کپڑے کے تہہ دار ماسکس کے استعمال پر زور دیا جا رہا۔ کپڑے کے ماسکس کو دھونے کے بعد دوبارہ استعمال کیا جاسکتا ہے۔
چین میں ستمبر میں ہوئی تحقیق میں ثابت ہوا کہ سانس کی بیماری والے افراد بھی کپڑے کا ماسکس استعمال کر سکتے ہیں اور اس کے فوائد میڈیکل ماسکس سے کم نہیں، جبکہ صحت مند افراد کے لیے بھی یہ اچھا اور فائدہ مند متبادل ہے۔
پاکستان میں بھی اس حوالے سے آگہی دی جا رہی ہے، ماسکس کے حوالے سے آغا خان ہسپتال نے اعلامیہ بھی جاری کیا جس میں بتایا گیا کہ این 95 ماسک میں والو لگا ہوتا ہے جو سانس خارج ہوتے وقت ہٹ جاتا ہے جس کی وجہ سے کورونا سے متاثرہ شخص ماسک پہننے کا باوجود اپنے اطراف میں وائرس کے پھیلاؤ کا سبب بن سکتا ہے۔ ہسپتال نے اپنے احاطے میں مجوزہ ماسک کے استعمال پر پابندی بھی عائد کردی ہے۔
ماحولیاتی آلودگی کو کم سے کم کرنے کی غرض سے ماہرین دوبارہ استعمال والے ماسکس پر اسرار کر رہے ہیں (فوٹو: اردو نیوز)
ماحولیات اور عوامی صحت کے عالمی جریدے میں شائع رپورٹ کے مطابق کسی بھی متبادل ماسک کے لیے سب سے ضروری ہے کہ اس کا چہرے پر فکس ہونا۔ یہی وجہ ہے کہ سیلیکون کے ماسکس کو ترجیح دی جاتی ہے جو چہرے پر مناسب فکس ہوجاتا ہے اور اس میں این 95 خصوصیات والا کپڑے کا فلٹر لگا ہوتا ہے جسے بارہا استعمال کیا جا سکتا ہے۔
باہر ممالک میں یہ ماسک 20 سے 30 ڈالر کی قیمت میں دستیاب ہے۔ جبکہ پاکستانی انوینٹرز نے یہی ماسک مقامی طور پر تیار کیا ہے جس کہ قیمت 300 روپے تک رکھی گئی ہے۔
وسکاس نامی کمپنی کے بانی انس نیاز نے اردو نیوز کو بتایا کہ ان کی کمپنی نے سیلیکون سے بنے سستے ترین ماسک تیار کیے ہیں جو کئی مہینوں تک چل سکتے۔ ماسک کی قیمت 300 روپے ہے، اور اس ماسک کو دھو کر یا سینیٹائز کر کے مہینوں استعمال کیا جاسکتا ہے۔
انس نیاز نے بتایا کہ یہ ماسک اگر چین سے منگوایا جائے تو اس کی قیمت پاکستانی 900 روپے تک بنتی ہے، جبکہ وہ اس کی ایک تہائی قیمت میں ماسک بنا رہے۔
’اس ماسک کے فلٹر کی قیمت سات روپے ہے، ایک فلٹر 10 دن تک چلتا ہے یعنی ایک روپے سے بھی کم میں آپ پورا دن محفوظ رہ سکتے ہیں اور اس ماسک کا ماحول پر بھی کوئی منفی اثر نہیں کیونکہ یہ مٹیریل ری سائیکل ہو سکتا ہے۔‘