پاکستان اور انڈیا کے قیام کے بعد سے دونوں ممالک کئی مرتبہ زلزلے، سیلاب، بیماریوں اور دیگر قدری آفات کی مصیبت سے گزر چکے ہیں۔
ایک ہی خطے میں ہونے کے باعث بعض اوقات تو آفات بھی ایک ساتھ ہی آئیں۔ دونوں ممالک نے ان آفات میں دنیا کے دیگر ممالک سے امداد قبول بھی کی اور مشکل وقتوں میں مدد کرنے والے ملکوں کو بھی یاد رکھا۔
ہمسایہ ہونے کے باوجود ہر دفعہ ایک دوسرے کو مدد کی پیشکش کی گئی لیکن کسی بھی ملک کی جانب سے یہ امداد قبول کرنے کی کوئی مثال موجود نہیں ہے۔
صرف ماضی قریب کے واقعات کا جائزہ لیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ پاکستان میں سنہ 2005 کا زلزلہ ہو یا 2010 کا سیلاب، 2014 کی بارشوں سے تباہی ہو یا انڈیا کی ریاست کیرالہ میں سیلاب کی تباہ کاریاں، ان تمام موقعوں پر دونوں ممالک نے ایک دوسرے کو امداد کی پیشکش کی لیکن دونوں ممالک نے ایک دوسرے کے جذبہ خیرسگالی کا مثبت جواب نہیں دیا۔
مزید پڑھیں
-
پاکستان کی انڈیا کو ونٹیلیٹرز، طبی سامان فراہم کرنے کی پیشکشNode ID: 560491
سنہ 2010 میں پاکستان کے صوبہ پنجاب اور خیبر پختونخوا میں سیلاب نے تباہی مچائی تو انڈین وزیر خارجہ ایس ایم کرشنا نے اپنے پاکستانی ہم منصب شاہ محمود قریشی کو فون کرکے امداد کی پیشکش کی تھی۔ جسے بعد ازاں پاکستان نے منظور نہیں کیا۔
سنہ 2014 میں لائن آف کنٹرول کے دونوں جانب جب بارشوں سے سیلابی صورت حال بنی تو انڈین وزیراعظم نریندر مودی نے امداد کی پیشکش کی۔ اس پیشکش کے جواب میں پاکستانی دفتر خارجہ کی ترجمان تسنیم اسلم نے انڈیا کے زیر انتظام کشمیر میں مدد کی پیش کش کرتے ہوئے کہا کہ ’ہمیں ایل او سی کے دونوں اطراف میں کشمیریوں کی مدد کرکے خوشی ہوگی۔‘
سنہ 2018 میں کیرالہ میں سیلابی صورت حال پیدا ہوئی تو وزیر اعظم عمران خان نے انڈین حکومت کو امداد کی پیشکش کی تاہم انڈیا نے اس کا کوئی جواب نہیں دیا۔

انڈیا میں سابق پاکستانی ہائی کمشنر عبدالباسط کو صرف ایک ایسا موقع یاد ہے جب انڈیا نے پاکستان کی مدد قبول کی اور اس پر پاکستان کا شکریہ بھی ادا کیا۔
عبدالباسط کے مطابق ’2015 میں جب یمن میں خانہ جنگی شروع ہوئی تو پاکستان نے وہاں سے اپنے شہریوں کو نکالنے کے لیے گرینڈ فضائی آپریشن کیا۔ ایسے میں پاکستانی حکام نے وہاں پر موجود انڈین شہریوں کا انخلا بھی کیا اور انھیں پہلے پاکستان لایا گیا اور بعد ازاں انھیں انڈیا روانہ کیا گیا۔‘
انڈین وزیراعظم نریندر مودی نے پاکستان کے اس جذبہ خیرسگالی پر پاکستان کا شکریہ ادا کرتے ہوئے اسے انسانیت کی فتح قرار دیا تھا۔
اس وقت جب انڈیا میں کورونا کی صورت حال سنگین ہوئی ہے تو ساتھ ہی پاکستان میں بھی کیسز بڑھ رہے ہیں۔ اس کے باوجود پاکستان نے انڈیا کو امداد کی پیشکش کی ہے اور اس کے لیے باضابطہ سرکاری سطح پر انڈیا کو آگاہ کیا گیا ہے۔
سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا انڈیا پاکستان کی امداد قبول کرے گا؟
سابق سفیر آصف درانی نے ’اردو نیوز‘ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ’یہ سچ ہے کہ ماضی میں دونوں ممالک نے ایک دوسرے کی امداد قبول نہیں کی۔ اس وقت صورت حال قدرے مختلف ہے اور پاکستان نے اس میں انڈیا کے عوام کے لیے انسانی ہمدردی کے طور پر قدم اٹھایا ہے۔ اب انتظار کرنا چاہیے کہ انڈیا کیا جواب دیتا ہے۔ انڈیا اگر پاکستانی پیشکش قبول کرتا ہے تو اس کا ایک اچھا پیغام جائے گا۔‘

آصف درانی نے کہا کہ ’سنہ 2005 میں انڈیا نے زلزلے میں پاکستان کو مدد کی آفر کی تھی لیکن اس کے ساتھ کچھ شرائط تھیں جو ہمیں قابل قبول نہیں تھیں اس لیے امداد بھی قبول نہیں کی۔‘
سابق سفارت کار سرور نقوی نے اردو نیوز سے گفتگو میں کہا کہ ’پاکستان نے پیشکش کر دی ہے، اب انڈیا پر ہے کہ وہ اسے پسند کرتے ہوئے قبول کرتا ہے یا نہیں۔ تاہم میرا خیال ہے نریندر مودی یہ آفر قبول نہیں کریں گے کیونکہ ان کی جماعت بالخصوص آر ایس ایس پاکستان سے کوئی امداد لینا پسند نہیں کرے گی۔‘
’پاکستان کی جانب سے انڈیا کو امداد کی پیش کش کو عالمی سطح پر اچھی نظر سے دیکھا جائے گا۔‘
دوسری جانب انڈیا صحافی رویندر سنگھ روبن نے ’اردو نیوز‘ سے گفتگو میں کہا کہ ’انڈیا کی 28 میں سے تین ریاستیں زیادہ متاثر ہیں ان دو میں سے بھی دلی اور یوپی زیادہ مشکل میں ہیں باقی جگہوں پر حالات اتنے بے قابو نہیں ہیں۔‘
انھوں نے کہا کہ ’سوشل میڈیا پر پاکستان کی آفر کو مثبت منفی دونوں طرح سے دیکھا جا رہا ہے، لیکن اس ساری صورت حال میں ہمیں دونوں ملکوں کے درمیان زمینی حقائق کو کبھی نہیں بھولنا چاہیے۔ ایک دوسرے کو مدد کی آفر کا سلسلہ چلتا رہے تو تو کم از کم بات چیت کا کوئی راستہ تو کھلا ہی ہے، اسے اسی ڈھنگ سے دیکھنا چاہیے۔ کون مدد کرتا ہے اور کون مدد لیتا ہے یہ تب ہی ممکن ہو سکتا ہے جب اعتماد کا فقدان نہیں رہے گا۔‘
