جب تک گاؤں گاؤں میں ٹیکے آسانی سے ملنا شروع نہیں ہوتے یہ سانپ سیڑھی کا کھیل جاری رہے گا (فوٹو: اے ایف پی)
انڈیا میں بظاہر کورونا وائرس کی دوسری لہر کا زور ٹوٹ رہا ہے۔ ظاہر ہے کہ یہ اچھی خبر ہے، لیکن ابھی جشن منانے کا وقت نہیں آیا ہے۔
اعداد وشمار کی باریکیوں میں جائے بغیر بس اتنا سمجھ لیجیے کہ منزل ابھی بس نظر آنا شروع ہوئی ہے، لیکن یہ سانپ سیڑھی کا کھیل ہے، جب تک منزل پر پہنچ نہ جائیں یہ کہنا مشکل ہی ہے کہ سفر کتنا باقی ہے۔
کورونا وائرس کے کیسز کی تعداد کم ہونے کی دو وجہ ہو سکتی ہیں۔ یا تو یہ لہر اپنا قدرتی سائیکل پوری کر چکی ہے یا پھر یہ لاک ڈاؤن کا اثر ہے جو ملک کے بیش تر حصوں میں کسی نہ کسی شکل میں نافذ ہے۔ لیکن جس تیزی سےدلی جیسے شہروں میں کیس کم ہو رہے ہیں اسے دیکھ کر خوشی بھی ہوتی ہے اور ڈر بھی لگتا ہے۔
اگر یہ لاک ڈاؤن کا اثر ہے تو پابندیاں ہٹتے ہی کیسز دوبارہ بڑھنا شروع ہو جائیں گے لیکن امید ہے کہ پہلے کی سی شدت سے نہیں۔
کیونکہ اس مرتبہ چاروں طرف بے پناہ جانی نقصان دیکھ کر لوگوں کو بھی یہ بات سمجھ میں آگئی ہے کہ ان کے اندر کوئی ایسی معجزاتی مدافعتی قوت نہیں ہے جو انہیں محفوظ رکھ سکتی ہے۔ بس سوشل ڈسٹنسنگ اور ماسک ہی کام آئیں گے۔
اب کوئی ایسا نہیں ہے جس نے خود اپنے خاندان میں یا اپنے دوست احباب میں کسی کو نہ کھویا ہو۔
بے پناہ جانی نقصان دیکھ کر لوگوں کو سمجھ آگئی ہے کہ ان میں کوئی ایسی مدافعتی قوت نہیں ہے جو انہیں محفوظ رکھ سکتی ہے (فوٹو: اے ایف پی)
لیکن اصل فکر، جیسا میں پہلے بھی کئی مرتبہ اس کالم میں کہہ چکا ہوں، دیہی علاقوں کے بارے میں ہونی چاہیے۔ وائرس وہاں تیزی سے پھیلا ہے اور وہاں ہونے والے جانی نقصان کی خبریں اب سامنے آنا شروع ہوئی ہیں۔
گزشتہ ہفتے دریائے گنگا میں سےسینکڑوں لاشیں نکالی گئی تھیں اور اب اسی دریا کے کنارے ہزاروں قبریں ملی ہیں۔ ضروری نہیں کہ یہ سب کورونا وائرس سے مرنے والے لوگوں کی ہی ہوں، لیکن عام خیال یہ ہی ہے کہ یہ ان لوگوں کی لاشیں ہیں جنہیں ان کے لواحقین غربت کی وجہ سے نذر آتش نہیں کرسکے۔
اب اتر پردیش کی حکومت نے آخری رسومات کا خرچ خود برداشت کرنے کا اعلان کیا ہے، اس لیے ہوسکتا ہے کہ جن کی زندگیاں نہیں بچائی جاسکیں کم سے کم موت کے بعد تو ان کے مذہبی عقائد کے مطابق ان کی آخری رسومات ادا کی جاسکیں گی۔
انڈیا میں اب تک سرکاری اعداد وشمار کے مطابق اس وبا کی زد میں آکر تقریباً پونے تین لاکھ لوگ ہلاک ہو چکے ہیں، اصلی تعداد اس سے کہیں زیادہ ہوگی۔
بہت سے ادارے یہ معلوم کرنے کی کوشش میں لگے ہوئے ہیں کہ آخر مرنے والوں کی صحیح تعداد کیا ہے۔ یہ تو شاید کبھی معلوم نہ ہوسکے لیکن اندازہ ضرور لگایا جاسکتا ہے۔
گجرات کے ایک مقامی اخبار دویا بھاسکر نے اپنی ایک تحقیق کی بنیاد پر دعوی کیا ہے کہ اس سال یکم مارچ اور 10 مئی کے درمیان 71 دنوں میں ریاستی حکومت نے گزشتہ برس کی اسی مدت کے مقابلے میں 65 ہزار سے بھی زیادہ اضافی ڈیتھ سرٹفیکیٹ جاری کیے۔
بہت سے ادارے یہ معلوم کرنے کی کوشش میں لگے ہوئے ہیں کہ آخر مرنے والوں کی صحیح تعداد کیا ہے(فوٹو: اے ایف پی)
اسی مدت میں حکومت کے اعداد و شمار کے مطاق کورونا وائرس سے صرف چار ہزار دو سو اٹھارہ لوگوں کی موت ہوئی۔ یہ کون لوگ تھے اور اچانک کیوں مرے؟
اخبار کی اس رپورٹ کی بنیاد پر پورے ملک کے لیے تو اندازہ نہیں لگایا جاسکتا کیونکہ پورے ملک میں وبا کی شدت یکساں نہیں تھی۔
کیسز اور اموات کی تعداد صحیح طور پر گننا اس لیے ضروری ہے کیونکہ اس کے بغیر صورتحال پر قابو پانے کے لیے کوئی جامع اور موثر حکمت عملی تیار نہیں کی جاسکتی۔
دیہی علاقوں میں کیا ہوگا کہنا مشکل ہے۔ الہ آباد ہائی کورٹ نے اسی ہفتے ایک پٹیشن کی سماعت کے دوران کہا کہ وہاں حفظان صحت کا نظام رام بھروسے ہے یا یہ کہیے کہ زمین پر اس کا کوئی پرسان حال نہیں ہے۔
دیہی علاقوں میں نہ ٹیسٹنگ کا مناسب انتظام ہے اور نہ علاج کا اور وہاں جو چھوٹے موٹے ہسپتال اور طبی مراکز ہیں ان کی خستہ حالت کی تصاویر روزانہ ٹی وی سکرینز پر نظر آتی ہیں۔
لیکن یہ کب کوئی راز تھا۔ جب کوئی بڑی مصیبت آتی ہے تو ٹی وی کے کمیرے اور سرکاری افسران دیہی علاقوں کا رخ کرتے ہیں، جیسے ہی خبر میں دلچسپی ختم ہوگی طبی مراکز کی حالت سدھارنے کا عزم بھی ختم ہوجائے گا۔
فوری ضرورت کسی بھی قیمت پر ٹیکے درآمد کرنے اور عوام تک پہنچانے کی ہے(فوٹو اے ایف پی)
تو گزشتہ چند ہفتوں میں ہم نے انڈیا کے بڑے شہروں میں جو دیکھا اس سے کیا کوئی سبق سیکھا جاسکتا ہے؟
سبق صرف اتنا ہے کہ جب بڑی قدرتی آفت آتی ہے تو حالات کو قابو کرنا ممکن نہیں ہوتا چاہے حکومت کسی کی بھی ہو۔ اس کے لیے سسٹم تیار کرنے کی ضرورت ہوتی ہے جو خود بہ خود کام کرتے ہوں۔
اور یہ نظام اس وقت تک ممکن نہیں ہے جب تک پابندی کے ساتھ دیہی علاقوں میں حفظان صحت کے نظام کو بہتر بنانے کی کوشش نہ کی جائے۔
فی الحال تو حالات یہ ہیں کہ ہر چھوٹی بڑی بیماری کے لیے گاؤں میں رہنے والے لوگوں کو شہر بھاگنا پڑتا ہے اور وہاں بڑے ہسپتال اور پرائیویٹ ڈاکٹر (سب تو نہیں لیکن پھر بھی بہت) ان کا جو ہشر بناتے ہیں سے وہ عمر بھر یاد رکھتے ہیں۔
بہر حال، یہ تو طویل مدتی پراجیکٹ ہیں، فوری ضرورت کسی بھی قیمت پر ٹیکے درآمد کرنے اور عوام تک پہنچانے کی ہے۔ صرف ان ملکوں میں زندگی معمول پر لوٹ رہی ہے جنہوں نے اپنی آبادی کے ایک بڑے حصے کو ٹیکے لگا دیے ہیں۔
جب بڑی قدرتی آفت آتی ہے تو حالات کو قابو کرنا ممکن نہیں ہوتا اس کے لیے سسٹم تیار کرنے کی ضرورت ہوتی ہے (فوٹو: اے ایف پی)
انڈیا میں ایسے لوگوں کی تعداد ابھی بھی 10 فیصد سے کم ہے جنہیں ایک یا دونوں ٹیکے لگ چکے ہوں۔ شہروں میں تو لوگ بڑی تعداد میں ٹیکے لگوا رہے ہیں، مراکز ڈھونڈ ڈھونڈ کر اور لمبی لمبی قطاروں میں کھڑے ہو کر۔
لیکن دیہی علاقوں میں اب بھی بہت سے ایسے لوگ ہیں جو ٹیکے کے پروگرام کو کسی سازش کا حصہ سمجھتے ہیں یا انہیں لگتا ہے کہ ٹیکا لگوانے سے ان کی بچے پیدا کرنے کی صلاحیت ختم ہو جائے گی۔
ہم تو بس اتنا کہیں گے کہ اس کشتی میں سب ایک ساتھ سوار ہیں، ہندو مسلمان، مرد عورت، بوڑھے جوان، کشتی ڈوبی تو سب ساتھ ہی ڈوبیں گے۔ یقین نہ ہو تو کسی قبرستان یا شمشان گھاٹ پر جاکر دیکھ لیجیے۔ اس لیے جہاں بھی ہاتھ آئے، آنکھ بند کرکے ٹیکا لگوا لیجیے۔
جب تک گاؤں گاؤں میں ٹیکے آسانی سے ملنا شروع نہیں ہوتے اور لوگ ٹیکہ کاری کی مہم میں بڑھ چڑھ کر حصہ نہیں لیتے، یہ سانپ سیڑھی کا کھیل جاری رہے گا۔