Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

شہباز شریف کیا اپنے بیانیے سے پی ڈی ایم بحال کر لیں گے؟

سہیل وڑائچ کے مطابق پیپلز پارٹی اور نواز لیگ دونوں نے نامناسب رویہ اپنایا تھا۔ (فوٹو: ٹوئٹر)
قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف اور مسلم لیگ نواز کے صدر شہبازشریف نے اپوزیشن جماعتوں کی قیادت کو اسلام آباد میں اپنی رہائش گاہ پر عشائیہ دے کر ایک بار پھر اپوزیشن اتحاد کی بحالی کی امید پیدا کر دی ہے تاہم عشائیے میں مریم نواز کی اسلام آباد میں موجودگی کے باجود عدم شرکت نے ایک بار پھر سوالات کھڑے کیے ہیں کہ کیا شہباز شریف اب پارٹی اور اپوزیشن اتحاد کو اپنے بیانیے کے مطابق چلائیں گے؟
اس سے قبل شہباز شریف کی ضمانت پر رہائی کے وقت ہی سیاسی تجزیہ کاروں نے پیش گوئی  کی تھی کہ اپنے بھائی اور سابق وزیراعظم نواز شریف کے برعکس مفاہمت کی سیاست کے قائل شہباز شریف پاکستان کی سب سے بڑی اپوزیشن جماعت کی سیاسی حکمت عملی تبدیل کر سکتے ہیں جس سے قومی سیاسی منظرنامے اور اپوزیشن اتحاد پی ڈی ایم کے مستقبل پر گہرے اثرات مرتب ہوں گے۔
اور تقریبا ایسا ہی ہوا۔ شہباز شریف اس سے قبل عوامی نیشنل پارٹی کی رہنما بیگم نسیم ولی کی وفات پر تعزیت کے لیے بھی اے این پی کی قیادت سے ملنے پہنچے اور اس کے بعد پیپلز پارٹی کی قیادت کو بھی اپنے گھر عشائیے پر مدعو کیا۔
قبل ازیں یوسف رضا گیلانی کے سینیٹ میں یکطرفہ طور پر اپوزیشن لیڈر بننے کے بعد پی ڈی ایم کی جانب سے ن لیگ کے رہنما شاہد خاقان عباسی نے  پیپلز پارٹی اور اے این پی کی قیادت کو شو کاز نوٹس جاری کیا تھا۔
نوٹس کے بعد پیپلز پارٹی اور اے این پی مسلم لیگ نواز سے سخت نالاں تھی تاہم پیر کو اسلام آباد میں شہباز شریف کے عشائیے میں پیپلزپارٹی کے یوسف رضا گیلانی، راجا پرویز اشرف، شیری رحمان شریک ہوئے۔ ان کے علاوہ دیگر اپوزیشن رہنماؤں میں امیرحیدر ہوتی، مولانا اسعد محمود، علامہ ساجد میر بھی بیٹھے نظر آئے۔

کیا شہباز شریف اور مریم نواز ایک صفحے پر ہیں؟

بظاہر شہباز شریف مصالحت کے حامی سیاستدان اور مریم نواز اسٹیبلشمنٹ کے حوالے سے سخت گیر رویے کی وجہ سے ایک دوسرے سے مختلف نکتہ نظر رکھتے ہیں اور پیر کو شہباز شریف کے عشائیے میں شاہد خاقان عباسی تو نظر آئے مگر مریم نواز نظر نہ آئیں اس سے اس بات کو اور تقویت ملی کہ شاید دونوں ایک صٖفحے پر نہ ہوں۔

شہباز شریف کے عشائیے میں  پیپلزپارٹی کے یوسف رضا گیلانی، راجا پرویز اشرف، شیری رحمان شریک ہوئے۔ (فائل فوٹو: اے ایف پی)

اردو نیوز سے بات کرتے ہوئے صحافی اور سیاسی تجزیہ کار سہیل وڑائچ کا کہنا تھا کہ یہ بھی ہوسکتا ہے کہ مریم نواز اور شہباز شریف نے مل بیٹھ کر حکمت عملی بنائی ہو کہ اب شہباز شریف کے طریقے سے آگے بڑھا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ شہباز شریف نہیں چاہتے کہ نواز لیگ اور پیپلز پارٹی میں لڑائی آگے بڑھے اور لڑائی کا باعث بننے والے کردار آمنے سامنے ہوں۔
’اس لیے انہوں نے خود آگے بڑھ کر عشائیے کی دعوت دی ہے اور بطور اپوزیشن لیڈر حزب اختلاف کو اکھٹا کرنے میں ان کا کردار بھی بنتا ہے۔‘
سہیل وڑائچ کے مطابق اس سے قبل پیپلز پارٹی اور نواز لیگ دونوں نے نامناسب رویہ اپنایا جو منطق کے خلاف ہے کیونکہ دونوں حزب اختلاف کی جماعتیں ہیں اور دونوں کا مقابلہ عمران خان سے ہے تو ان کی لڑائی سمجھ میں نہیں آتی۔

شہباز شریف کا عشائیہ نتیجہ خیز ثابت ہو سکتا ہے؟

مقامی میڈیا کے مطابق عشائیے میں شہباز شریف نے اپوزیشن کو مشترکہ حکمت عملی کے ساتھ چلنے کی تجویز دی ہے۔

سہیل وڑائچ کے مطابق  بطور اپوزیشن لیڈر حزب اختلاف کو اکھٹا کرنے میں شہباز شریف کا کردار بھی بنتا ہے (فوٹو: ٹوئٹر)

سہیل وڑائچ کے خیال میں 'شہباز شریف کی یہ دعوت نتیجہ خیز ہو سکتی ہے اگر دونوں جماعتیں بامعنی بات چیت کریں اور وضاحتیں مانگنے کے بجائے دونوں معذرت کر لیں اور آگے کی حکمت عملی طے کریں۔'
سیاسی مبصر اور صحافی مظہر عباس بھی یقین رکھتے ہیں کہ شہباز شریف کا عشائیہ پیپلز پارٹی اور ن لیگ میں تناؤ کو دور کرنے میں معاون ثابت ہوگا اور اپوزیشن اتحاد پی ڈی ایم کے اختلافات کم ہوں گے۔
ان کا کہنا تھا کہ انہیں نہیں لگتا کہ اس اقدام سے  مریم نواز اور شہباز شریف میں کوئی دوریاں آئیں گی بلکہ صورتحال شاید کچھ بہتری کی طرف گامزن ہو گی۔

مظہر عباس کا کہنا ہے کہ شہباز شریف کا عشائیہ پیپلز پارٹی اور ن لیگ میں تناؤ کو دور کرنے میں معاون ثابت ہوگا۔ (فوٹو: اے ایف پی)

اس سے قبل اردو نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے سینیئر صحافی اور تجزیہ کار مجیب الرحمن شامی نے کہا تھا کہ مسلم لیگ ن میں اختلافات کو نہ شہباز شریف افورڈ کر سکتے ہیں اور نہ ہی نواز شریف۔
دونوں بھائیوں میں سیاسی نکتہ نظر اور اپروچ کا فرق ہے اور یہ بہت عرصے سے چل رہا ہے تاہم اس کے باوجود دونوں ساتھ ساتھ چلتے ہیں کیونکہ شہباز شریف کو پتا ہے کہ ووٹ کی طاقت نواز شریف کے ساتھ ہے اس لیے اختلاف رائے حدود کے اندر ہی رہے گا اور پارٹی میں کسی بغاوت کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔‘

شیئر: