پاکستان کی قومی اسمبلی میں پیر کے روز قائد حزب اختلاف شہباز شریف نے بجٹ پر بحث کا آغاز کیا ہی تھا کہ حکومتی ارکان کی جانب سے شور شرابے اور احتجاج کے باعث اجلاس ہنگامہ آرائی کی نذر ہوگیا۔
شہباز شریف نے اپنی تقریر کا آغاز کیا تو وزیر امور کشمیر علی امین گنڈاپور کی قیادت میں حکومتی ارکان نے شور شرابہ شروع کر دیا۔
سپیکر منع کرتے رہے لیکن ان کی کسی نے بھی نہ سنی۔ سپیکر نے اجلاس 20 منٹ کے لیے ملتوی کرکے معاملہ حل کرنے کے لیے تمام پارلیمانی لیڈرز کو چیمبر میں بلایا لیکن بات بن نہ سکی اور اجلاس منگل تک ملتوی کرنا پڑا۔
مزید پڑھیں
-
وفاقی بجٹ: اوورسیز پاکستانیوں کے لیے کیا مراعات موجود ہیں؟Node ID: 573391
-
اوورسیز پاکستانی ہمارے حلقوں میں ووٹ نہیں دے سکتے: احسن اقبالNode ID: 573531
بہت پرانی بات نہیں ہے کہ پاکستان کی قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف چوہدری نثار علی خان خطاب کر رہے تھے کہ حکومتی بینچز سے پیپلز پارٹی کے کچھ ارکان ان کی طویل تقریر کی وجہ سے بیزاری کا اظہار کرتے ہوئے جملے کستے ہیں۔
جس پر چوہدری نثار علی خان نے اپنی بائیں جانب پہلی قطار میں وزیراعظم یوسف رضا گیلانی اور وزرا کی طرف دیکھا اور کہا کہ اگر مجھے خطاب نہیں کرنے دیا جائے گا تو وزیراعظم بھی خطاب نہیں کر سکیں گے اور یہ کہہ کر وہ اپنی نشست پر بیٹھ گئے۔
حکومتی بینچوں کی جانب سے اپنے ارکان کو خاموش رہنے کی تلقین ہوتی ہے اور یوں چوہدری نثار اپنی تین گھنٹے سے زائد طویل تقریر مکمل کرتے ہیں۔
مسلم لیگ ن کے دورحکومت میں پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں پاکستان تحریک انصاف بائیکاٹ ختم کرکے ایوان میں آتی ہے۔ یہ وہ اجلاس تھا جس میں خواجہ آصف نے اپنا مشہور زمانہ جملہ ’شرم ہوتی ہے حیا ہوتی ہے‘ کہا تھا۔
ان کے بعد جب پاکستان تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان عین اسی نشست پر کھڑے ہوتے ہیں جہاں موجودہ اسمبلی میں خواجہ آصف براجمان ہوتے ہیں تو حکومتی بینچوں سے طنزیہ نعرے لگنا شروع ہو جاتے ہیں۔ عمران خان جذباتی ہو کر کہتے ہیں کہ ’اگر آپ کو لگتا ہے کہ شور مچا کر آپ پارلیمان اور جمہوریت کی خدمت کر رہے ہیں اور آپ کے شور سے میں چپ ہو جاؤں گا تو ایسا ہر گز نہیں ہوگا۔‘

جس کے بعد حکومتی بینچوں پر سناٹا چھا جاتا ہے اور عمران خان اپنے پارلیمانی کیریئر کی بہترین تقریر کرتے ہیں جسے اس وقت میڈیا میں خاصا سراہا گیا تھا۔
پارلیمان میں قائد ایوان اور قائد حزب اختلاف کے باہمی احترام کی روایت پاکستانی پارلیمنٹ کے آغاز سے ہی موجود ہے۔ ذوالفقارعلی بھٹو دور کی اسمبلی ہو یا ضیاء الحق کی مجلس شوریٰ، محمد خان جونیجو دور کی اسمبلی ہو یا 90 کی دہائی میں نواز شریف اور بے نظیر بھٹو کے یکے بعد دیگرے ادوار احتجاج شور شرابہ تو کسی نہ کسی انداز میں ہوتا ہی رہا ہے لیکن پارلیمان کی تاریخ جاننے والے بتاتے ہیں کہ قائد ایوان یا قائد حزب اختلاف جتنا مرضی اور جب مرضی چاہیں خطاب کرسکتے ہیں اور دونوں جانب سے ان کے احترام کی وجہ سے شور شرابہ نہیں کیا جاتا۔
موجودہ اسمبلی کا آغاز ہی احتجاج سے ہوا۔ اپوزیشن نے نومنتخب وزیراعظم عمران خان کے اولین خطاب میں احتجاج کیا۔ جواب میں اپوزیشن لیڈر شہباز شریف کے خطاب میں حکومتی ارکان نے احتجاج کا سلسلہ شروع کیا۔ تین سال گزر گئے یہ سلسلہ جاری ہے۔
ماضی میں وزیر خزانہ کی بجٹ تقریر کے دوران اپوزیشن طرح طرح سے احتجاج کرتی رہی ہے لیکن جب قائد حزب اختلاف بجٹ پر بحث کا آغاز کرتے تو کسی کو یاد بھی نہیں ہوتا تھا کہ وزیر خزانہ کی تقریر میں اپوزیشن اور حکومتی ارکان باہم دست و گریباں تھے۔
