ٹک ٹاک پر مشہور ہونے کے لئے لوگوں کو ایسے ایسے پاپڑ بیلنے پڑتے ہیں کہ بعض دفعہ تو اس جدوجہد کا اختتام حوالات میں ہوتا ہے۔
واقعات بتاتے ہیں کہ ٹک ٹاک اور پولیس کا چولی دامن کا ساتھ بنتا جا رہا ہے۔ کچھ عرصہ قبل ایک نوجوان نے لاہور کے نشتر تھانے کے سامنے پستول لہراتے ہوئے ٹک ٹاک ویڈیو بنائی، پولیس نے نوجوان کو گرفتار کر کے جوابی ٹک ٹاک میں ’سب پھڑے جان گے‘ کا گانا ڈال دیا۔
بات یہاں نہیں رکی یہ تو ابتد تھی، اب ٹک ٹاک سٹار جنت مرزا پر اندراج مقدمہ کا ایک کیس عدالت میں چل رہا ہے، اور وجہ یہ بنی کہ انہوں نے اپنی ایک ویڈیو میں صلیب کا استعمال کیوں کیا۔ تاہم ابھی تک عدالت نے اس بات کا فیصلہ نہیں کیا کہ ان کے خلاف مقدمہ ہوگا یا نہیں۔
مزید پڑھیں
-
کراچی میں گاڑی پر فائرنگ، خاتون سمیت چار ٹک ٹاکر دوست قتلNode ID: 537791
-
’صدر پاکستان عارف علوی بھی اب ٹک ٹاک پر موجود ہیں‘Node ID: 583616
حال ہی میں حوالات کی سیر کر کے آنے والے لاہور کے ایک ٹک ٹاکر راہول سمجھتے ہیں کہ پولیس کو محض ویڈیوز پر لوگوں کو گرفتار نہیں کرنا چاہیے۔
راہول کہتےہیں ’میں نے ایک ویڈیو بنائی جس میں ایک دوست کا پستول استعمال کیا اس میں گولیاں نہیں تھیں وہ میں نے چلایا بھی نہیں۔ پولیس نے میرے اوپر مقدمہ درج کر لیا اور گرفتار بھی کر لیا۔ میں ان کو بتاتا رہا کہ پستول میرا نہیں ہے۔ لیکن انہوں نے میری ایک نہیں سنی باالاخر عدالت نےمیری ضمانت لی۔‘
خیال رہے کہ لاہور پولیس کے اعدادو شمار کے مطابق رواں برس کے گذشتہ چھ ماہ میں 237 ایسے مقدمات درج کیے گئے جن میں ٹک ٹاک بنانے کے لیے کسی نہ کسی ممنوعہ چیز کا استعمال کیا گیا۔
ترجمان لاہورپولیس کے مطابق ’پولیس نے جتنے مقدمات درج کیے ان سب کو گرفتار بھی کیا اب ان کے خلاف قانونی کارروائی کی جا رہی ہے۔ عدالت میں ضمانتوں کے باوجود یہ مقدمے ختم نہیں ہوں گے اور پولیس ان کی پیروی جاری رکھے گی۔‘
یہ شناخت کا بحران ہے؟
ٹک ٹاکرز مشہور ہونے کے لیے اسلحہ اور دیگر غیرقانونی اشیا کا سہارا کیوں لیتے ہیں؟ اس سوال کے جواب میں ماہر نفسیات ڈاکٹر ابراہیم سویش کہتے ہیں ’یہ شناخت کا بحران ہے۔ ہماری انا کی تسکین اس بات میں پنہاں ہے کہ کتنے زیادہ لوگ ہمیں پہچانتے ہیں۔‘
’چونکہ ٹک ٹاک جیسی ایپلی کیشنز پر مقابلے کا شدید رجحان ہے اور لوگ ایک دوسرے پر سبقت لے جانے اور وائرل ہونے کے لیے ہر وہ حربہ استعمال کرتے ‘ہیں جو ان کی دسترس میں ہوتا ہے۔‘
ڈاکٹر ابراہیم سویش کے مطابق ’جب آپ کوئی چیز اپنے اوپر مسلط کر لیتے ہیں تو پھر قانون اور اخلاقیات سے متعلق آپ کے تصورات بھی دب جاتے ہیں۔ ٹک ٹاکرز کے ساتھ بھی یہی ہوتا ہے۔‘
