پاکستان کے سیاسی منظر نامے پر ایک بار پھر سابق وزیر اعظم نواز شریف کی وطن واپسی کی خبریں گردش کر رہی ہیں اور حکوتی رہنماؤں کی جانب سے یہ تاثر دیا جا رہا ہے کہ ویزہ میں توسیع کی درخواست مسترد ہونے کے بعد انھیں بے دخل کیا جا رہا ہے۔
تاہم برطانیہ میں مقیم امیگریشن ماہرین کے مطابق نواز شریف کی برطانیہ سے امیگریشن بنیادوں پر بے دخلی کا کوئی امکان نہیں ہے۔ برطانیہ کی جانب سے نواز شریف کو ڈی پورٹ نہیں کیا جا رہا ہے ان کے پاس ویزہ میں توسیع کی نئی درخواست دینے کے علاوہ اپیل کا حق بھی موجود ہے۔
مزید پڑھیں
-
کیا میاں نواز شریف وطن واپس آ رہے ہیں؟Node ID: 629526
-
’وطن واپسی کے لیے ڈیل کا انتظار کرنے والے ہمیشہ بونے ہی رہیں گے‘Node ID: 629936
نواز شریف کی وطن واپسی کا چرچا اس وقت شروع ہوا جب انھوں نے لندن سے اپنے ایک ویڈیو لنک خطاب میں الواداعی کلمات کہتے ہوئے کہا کہ ’امید ہے کہ آپ سے جلد پاکستان میں بھی ملاقات ہوگی۔‘
نواز شریف کے اس بیان کے بعد سوشل میڈیا پر لیگی حلقوں میں گرمجوشی تو حکومتی حلقوں میں ہلچل دکھائی دینے لگی۔
وزیر اعظم عمران خان سے منسوب بیان بھی مقامی میڈیا پر نشر ہوا کہ ’نواز شریف کی سزا اور نااہلی ختم کرنے کے راستے تلاش کیے جا رہے ہیں۔‘
وفاقی وزیر اطلاعات فواد چودھری نے کہا کہ ’ جو لوگ وطن واپسی [کے لیے ڈیلوں کا انتظار کریں وہ سیاست میں ہمیشہ بونے ہی رہیں گے۔‘
وزیراعظم کے معاون خصوصی شہباز گل بھی مسلسل اپنی ٹویٹس کے ذریعے نواز شریف کے وطن واپسی کے بیان پر طنز کے نشتر برسا رہے ہیں۔
حکومتی حلقے یہ تاثر دے رہے کہ جنوری میں نواز شریف کی برطانیہ میں قیام کے لیے ویزہ میں توسیع کی درخواست مسترد ہونے کے بعد اپیل بھی بھی خارج ہو گئی ہے اس لیے وہ اپنی بے دخلی کو پاکستان آنے کا پلان بتا رہے ہیں۔
شہباز گل نے اپنے ٹویٹ میں لکھا کہ ’برطانیہ میں نواز شریف کے ویزہ کی توسیع کی درخواست مسترد ہو چکی ہے، اس وقت اپیل میں ہیں لیکن انہیں پتہ ہے ویزہ مسترد کر کے بے دخل کیا جائے گا اس لیے نواز شریف کے بے دخل ہونے کو ان کا واپس آنے کا سیاسی فیصلہ بنا کر پیش کیا جا رہا ہے۔‘

تاہم برطانیہ میں مقیم امیگریشن ماہرین کے مطابق نواز شریف کو امیگریشن بنیادوں پر برطانیہ سے ڈی پورٹ ہونے کا کوئی خدشہ لاحق نہیں ہے۔ اپیل مسترد ہونے کے باوجود ان کے پاس برطانیہ میں قیام کے متعدد آپشنز موجود ہیں۔
برطانیہ میں مقیم پاکستانی وکیل عقیل حسین کیانی نے اردو نیوز کو بتایا کہ ’نواز شریف کی اپیل اس وقت امیگریشن ٹریبونل کے اپر ٹریبونل میں ہے جہاں درخواست یہ ہوتی ہے کہ لوئر ٹریبونل میں قانون کا درست اطلاق نہیں کیا گیا۔ اگر اپر ٹریبونل سے بھی درخواست مسترد ہو جائے تو قانون کے مطابق یا تو 14 روز میں ملک چھوڑنا ہوتا ہے یا پھر نئی درخواست دینا پڑتی ہے۔‘
انہوں نے بتایا کہ ’اگر ان کی درخواست مسترد ہو جائے اور اس کے باوجود وہ برطانیہ میں رہنا چاہیں تو نئی درخواست دے سکتے ہیں۔‘
عقیل حسین کیانی کے بقول نواز شریف ہائی پروفائل سیاسی شخصیت ہیں۔ وہ نئی درخواست دے سکتے ہیں ان کے پاس سیاسی پناہ کا آپشن ہے لیکن وہ ڈی پورٹ نہیں ہو سکتے۔
’اگر اپر ٹریبونل سے درخواست مسترد ہونے کے بعد زیادہ وقت لینا چاہیں تو نئی درخواست دیں گے ورنہ ان کے پاس کورٹ آف اپیل کا آپشن بھی موجود ہے۔ وہ نئی درخواست دیں تو سال ڈیڑھ سال آسانی سے گزار سکتے ہیں۔‘
ایڈووکیٹ عقیل کیانی کے مطابق ’نواز شریف اگر واپس جانا چاہتے ہیں تو ان کا سیاسی فیصلہ اور سیاسی وجوہات ہو سکتی ہیں لیکن کوئی انھیں مجبور کرکے برطانیہ سے بے دخل نہیں کر سکتا ہے کیونکہ ان کے پاس قانونی آپشنز ہیں۔‘
