پاکستان کے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کا اپنے یوکرینی ہم منصب دمیترو کلابہ کے ساتھ ٹیلیفونک رابطہ ہوا ہے جس میں انہوں نے موجودہ صورتحال پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔
اتوار کو وزارت خارجہ کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ ’وزیر خارجہ نے تفصیل سے پاکستان کا نقطہ نظر پیش کرنے کے ساتھ جنگ ختم کرنے اور سفارت کاری سے کام لینے پر زور دیا۔‘
مزید پڑھیں
-
روسی فوج کو یوکرین پر حملے کا دائرہ وسیع کرنے کا حکم: وزارت دفاعNode ID: 648256
-
یوکرین روس کے ساتھ ’پیشگی شرائط کے بغیر‘ مذاکرات پر رضامندNode ID: 648421
بیان کے مطابق ’وزیر خارجہ نے کہا کہ وزیراعظم عمران خان نے روس کے دورے کے دوران روس اور یوکرین کے درمیان پیدا ہونے والی صرتحال پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کو امید تھی کہ سفارتکاری جنگ کو ٹال سکتی ہے۔‘ انہوں نے زور دیا کہ جنگ کسی کے مفاد میں نہیں ہے اور ترقی پذیر ہمیشہ معاشی طور پر سب سے زیادہ متاثر ہوتے ہیں۔
وزیر خارجہ کا یوکرینی ہم منصب کو کہنا تھا کہ ’پاکستان کو یقین ہے کہ مسائل گفتگو اور سفارتکاری کے ذریعے حل ہونے چاہیں۔‘
بیان میں کہا گیا کہ وزیر خارجہ نے یوکرین سے طلبہ سمیت پاکستانی شہریوں کے انخلا پر بات کی۔ انہوں نے انخلا میں مدد کرنے پر یوکرینی حکام کا شکریہ ادا کیا۔
یوکرین میں تعینات پاکستانی سفیر نوئیل اسرائیل کھوکھر نے پیر کو ٹوئٹر پر جاری پیغام میں کہا کہ یوکرین سے پاکستانیوں کو مختلف ممالک میں بھیجا گیا ہے جن میں سے سب سے زیادہ411 پاکستانی پولینڈ بھیجے گئے۔
Message Update from Ambassador Noel Israel Khokhar regarding the evacuation process underway being led by @PakinUkraine pic.twitter.com/cwNxDNLDuw
— Spokesperson MoFA (@ForeignOfficePk) February 28, 2022