وزیراعظم عمران خان کے آفس کے یوٹیوب چینل کا نام کیوں تبدیل کیا گیا؟
جمعہ 25 مارچ 2022 18:37
زبیر علی خان -اردو نیوز، اسلام آباد
ڈاکٹر ارسلان خالد کے مطابق ’وزیراعظم آفس کا کوئی آفیشل یوٹیوب چینل موجود ہی نہیں ہے‘ (فوٹو: سکرین گریب)
وزیراعظم پاکستان عمران خان کے آفس کے یوٹیوب چینل کا نام تبدیل کردیا گیا ہے۔ یوٹیوب چینل کا نام ’وزیراعظم آفس پاکستان‘ کے نام سے تبدیل کر کے ’عمران خان‘ کردیا گیا ہے۔
نام تبدیل کرنے سے پہلے یہ چینل ’ویریفائیڈ‘ تھا جبکہ نام تبدیل ہونے کی وجہ سے چینل کے ساتھ ویریفیکیشن کا نشان بھی ختم ہوچکا ہے۔
14 نومبر 2019 کو ’وزیراعظم آفس پاکستان‘ کے نام سے بنائے جانے والے اس چینل کے اب تک 1 لاکھ 47 ہزار سبسکرائبرز ہیں۔
چینل کا نام ’وزیراعظم آفس پاکستان‘ سے ’عمران خان‘ کرنے کے بعد چینل کی ڈسکرپشن میں وزیراعظم پاکستان عمران خان اب بھی درج ہے۔
چینل کا نام کیوں تبدیل کیا گیا؟
وزیراعظم آفس کے آفیشل یوٹیوب چینل کو عمران خان کے نام پر منتقل کرنے کی وجوہات جاننے کے لیے اردو نیوز نے وزیراعظم کے فوکل پرسن برائے ڈیجیٹل میڈیا ڈاکٹر ارسلان خالد سے رابطہ کیا تو انہوں نے بتایا کہ ’وزیراعظم آفس کا کوئی آفیشل یوٹیوب چینل موجود ہی نہیں ہے۔‘
انہوں نے بتایا کہ ’وزیراعظم آفس کے آفیشل ڈیجیٹل اثاثوں میں فیس بک اور ٹوئٹر شامل ہیں جبکہ یوٹیوب اور انسٹاگرام پر کوئی آفیشل اکاؤنٹ نہیں بنایا گیا۔‘
ڈاکٹر ارسلان خالد کے مطابق ’تحریک انصاف کی حکومت آنے سے قبل صرف فیس بک پر ہی وزیراعظم آفس کا آفیشل اکاؤنٹ موجود تھا تاہم عمران خان کے وزیراعظم بننے کے بعد ٹوئٹر پر بھی وزیراعظم آفس کا اکاؤنٹ بنایا گیا ہے۔‘
ان کے مطابق ’وزیراعظم عمران خان سے آفیشل یوٹیوب چینل بنانے کی اجازت مانگی گئی تھی لیکن وزیراعظم نے یوٹیوب چینل بنانے کی اجازت نہیں دی۔ مذکورہ چینل کو پی ٹی آئی کی سوشل میڈیا ٹیم چلا رہی ہے۔‘

واضح رہے کہ وزیراعظم آفس کے نام سے بنائے گئے یوٹیوب چینل پر وزیراعظم عمران خان کی مختلف تقاریر اور دیگر تقریبات کی ویڈیوز اپ لوڈ کی گئی ہیں۔
ڈاکٹر ارسلان خالد کے مطابق ’پاکستان ٹیلی ویژن کا یوٹیوب چینل ہونے کی وجہ سے وزیراعظم آفس کا آفیشل یوٹیوب چینل وزیراعظم آفس سے نہیں چلایا جارہا۔‘
اس بارے میں مزید تفصیلات جاننے کے لیے پی ٹی آئی سوشل میڈیا ٹیم کے سربراہ جبران الیاس سے متعدد بار رابطہ کیا گیا تاہم انہوں نے کوئی جواب نہیں دیا۔
جبران الیاس کو اس حوالے سے سوال نامہ بھی بھیجا گیا لیکن تادم تحریر ان کی جانب سے کوئی جواب موصول نہیں ہوا۔