Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

تھائی لینڈ میں ’پانی پھینکنے کا تہوار‘ اب پانی کے بغیر کیوں؟

تھائی لینڈ میں ابھی تک کورونا وائرس سے متعلق پابندیاں لاگو ہیں (فائل فوٹو: اے ایف پی)
تھائی لینڈ میں ایک دوسرے پر پانی پھینکنے کا ’سونگرکن تہوار‘ شروع تو ہو گیا ہے لیکن کورونا وائرس سے متعلق پابندیوں کی وجہ سے تین برس سے اسے خشک انداز میں منایا جا رہا ہے۔
عرب نیوز کے مطابق تھائی لینڈ کے نئے سال کے موقع پر منایا جانے والا یہ تہوار دنیا کی سب سے بڑی ’واٹر فائٹ‘ شمار ہوتا ہے۔ یہ تہوار عیسوی کیلنڈر کے مطابق 13 سے 15 اپریل کے درمیان منایا جاتا ہے۔
ان گرم ترین ایام میں تھائی لینڈ کے شہری واٹر گنوں کے ساتھ گلیوں اور سڑکوں پر نکل آتے ہیں اور پک اَپ ٹرکوں سے ایک دوسرے پر پانی کا چھڑکاؤ کرتے ہیں۔
 اس سال سونگکرن کی اکثر تقریبات پانی کے  بغیر ہوں گی جبکہ حکومت نے کورونا وبا سے پہلے کی طرح ایک دوسرے پر پانی پھینکنے اور فوم پارٹیاں کرنے پر پابندی لگا رکھی ہے۔
تاہم اس تہوار کے دوران بدھ مت میں مقدس سمجھے جانے والے مجسموں پر اور بڑی عمر کے افراد کے ہاتھوں پر احترام کی علامت کے طور پر پانی چھڑکنے کی اجازت ہے۔
ایک آٹوموبیل کمپنی میں ملازمت کرنے والے ایک 25 سالہ شخص پائپ نے عرب نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ’ میں کورونا وائرس پھیلنے سے قبل ہر سال ایسی پانی والی لڑائیوں میں شرکت کے لیے باہر جاتا تھا۔ آخری مرتبہ میں پتّایہ گیا تھا۔‘
’مجھے وہ سرگرمیاں یاد آتی ہے، امید ہے یہ سب دوبارہ لوٹ آئے گا۔‘

تھائی لینڈ کے اکثر لوگ اس تہوار کو منانے کے لیے اپنے آبائی علاقوں میں لمبی چھٹیوں پر جاتے ہیں (فائل فوٹو: روئٹرز)

تھائی لینڈ میں ابھی تک کورونا وائرس سے متعلق پابندیاں لاگو ہیں لیکن حکام شہریوں کو اس موقعے پر مندروں پر جانے اور ایسی منظیم سرگرمیوں کی ترغیب دے رہے ہیں جو سیاحوں کی توجہ کا باعث بن سکیں۔
واضح رہے کہ تھائی لینڈ کے اکثر لوگ اس تہوار کو منانے کے لیے اپنے آبائی علاقوں میں لمبی چھٹیوں پر جاتے ہیں۔ اس صورت حال کو سامنے رکھتے ہوئے وزارت صحت نے شہریوں کو کورونا پابندیوں پر عمل کی ہدایت کی ہے۔

شیئر: