پاکستان کی اتحادی حکومت کی وفاقی کابینہ کے31 وفاقی وزرا اور تین وزرائے مملکت نے حلف اٹھا لیا ہے۔ کابینہ میں اگرچہ اکثریت پرانے اور تجربہ کار چہروں کی ہے لیکن کچھ ارکان ایسے بھی ہیں جو پہلی بار اسمبلی میں پہنچے اور وفاقی کابینہ میں بحثیت وفاقی وزیر شامل ہوئے ہیں۔
وفاقی کابینہ میں کچھ چہرے ایسے بھی ہیں جو گزشتہ کئی برسوں سے پارلیمان کا حصہ اور قومی سیاست پر نمایاں ہیں لیکن انھیں بھی کابینہ میں شمولیت کا پہلی بار موقع ملا ہے۔
مزید پڑھیں
-
چیف الیکشن کمشنر کا نام اسٹیبلشمنٹ نے تجویز کیا تھا: عمران خانNode ID: 662286
-
پاکستان کی 34 رکنی وفاقی کابینہ میں کون کون شامل ہے؟Node ID: 662501
پہلی بار قومی اسمبلی میں پہنچنے والے ارکان میں پیپلز پارٹی کے عابد حسین بھائیو، جے یو آئی کے مولانا اسعد محمود، مولانا عبدالواسع اور مفتی عبدالشکور شامل ہیں۔
ان کے علاوہ کابینہ میں نسبتاً نئے چہروں میں شازیہ مری، مرتضی محمود، عبدالقادر پٹیل، احسان الرحمان مزاری، اعظم نذیر تارڑ اور میاں جاوید لطیف شامل ہیں۔
عابد حسین بھائیو
عابد حسین بھائیو کا تعلق پاکستان پیپلز پارٹی سے ہے وہ 2018 کے انتخابات میں پاکستان پیپلز پارٹی کے ٹکٹ پر این اے 198 شکار پور سے منتخب ہوئے تھے۔
عابد حسین اس سے قبل سندھ اسمبلی کے رکن بھی رہ چکے ہیں۔ وہ ماسٹر ڈگری ہولڈر ہیں اور پہلی بار قومی اسمبلی میں پہنچنے کے بعد وفاقی کابینہ کا حصہ بنے ہیں۔

مولانا اسعد محمود
مولانا اسعد محمود جمعیت علمائے اسلام ف کے سربراہ مولانا فضل الرحمان کے فرزند ہیں۔ وہ 2018 میں پہلی بار ٹانک کے حلقہ این اے 37 سے رکن قومی اسمبلی منتخب ہوئے۔ وہ پیشے کے اعتبار سے استاد ہیں۔
مولانا اسعد محمود اپنی جماعت کے پارلیمانی لیڈر کی حیثیت سے قومی اسمبلی میں اپنی صلاحیتیں منوا چکے ہیں اور مولانا فضل الرحمان کی قومی اسمبلی میں عدم موجودگی کے باوجود ان کے لب و لہجے میں بات کرکے ان کی موجودگی کا احساس دلاتے رہتے ہیں۔
مولانا عبدالواسع
مولانا عبدالواع اگرچہ سینیئر سیاست دان ہیں لیکن 2018 سے قبل ان کی سیاست کا محور بلوچستان ہی تھا اور وہ 2018 میں پہلی بار قومی اسمبلی کے حلقہ این اے 257 قلعہ سیف اللہ سے منتخب ہوکر ایوان میں پہنچے۔
اس س قبل وہ بلوچستان اسمبلی میں قائد حزب اختلاف بھی رہ چکے ہیں۔ وہ بھی پہلی بار وفاقی کابینہ کا حصہ بن رہے ہیں۔ مولانا عبدالواسع مبلغ ہونے کے علاوہ اپنا ذاتی کاروبار بھی رکھتے ہیں۔
مفتی عبدالشکور
مفتی عبدالشکور حلقہ این اے 51 لکی مروت سے جمعیت علمائے اسلام ف کے ٹکٹ پر منتخب ہو کر پہلی بار قومی اسمبلی میں پہچے ہیں اور وفاقی کابینہ میں شامل ہو رہے ہیں۔
انھوں نے 2013 کے انتخابات میں بھی حصہ لیا تھا لیکن کامیاب نہیں ہو سکے تھے۔ وہ پیشے کے اعتبار سے درس و تدریس سے وابستہ ہیں۔

سینیٹر اعظم نذیر تارڑ
اعظم نذیر تارڑ پیشے کے اعتبار سے ایک کامیاب وکیل گردانے جاتے ہیں اور ان کا کیریئر 28 برسوں پر محیط ہے جس کے دوران وہ متعدد مرتبہ پنجاب بار کونسل اور پاکستان بار کونسل کے مختلف عہدوں کے لیے منتخب ہوتے رہے ہیں۔
وہ مارچ 2021 میں پہلی مرتبہ مسلم لیگ ن کے ٹکٹ پر ٹیکنوکریٹ کی نشست پر سینیٹر منتخب ہوئے۔ وہ متعدد مقدمات میں مسلم لیگ ن اور شریف خاندان کی وکالت کر چکے ہیں۔
شازیہ عطا مری
شازیہ مری کا تعلق پاکستان پیپلز پارٹی ہے اور 2002 سے سیاست کے میدان میں ہیں۔ سنہ 2002 سے 2012 تک وہ صوبائی اسمبلی میں رہیں اور مختلف صوبائی محکموں کی وزیر بھی رہیں۔
سنہ 2013 میں وہ مخصوص نشست پر قومی اسمبلی میں پھر ضمنی الیکشن میں براہ راست منتخب ہو کر قومی اسمبلی میں پہنچیں۔ 2018 میں وہ سانگھڑ کے حلقہ این اے 218 سے دوبارہ منتخب ہوئیں۔
شازیہ مری کے والد عطا محمد مری سندھ اسمبلی کے ڈپٹی سپیکر بھی رہے ہیں۔
احسان الرحمان مزاری
احسان الرحمان مزاری کا تعلق بھی پاکستان پیپلز پارٹی سے ہے۔ وہ 2018 میں دوسری مرتبہ کشمور سے قومی اسمبلی کے رکن اسمبلی منتخب ہوئے۔ وہ پہلی بار کابینہ کا حصہ بن رہے ہیں۔
سید مرتضیٰ محمود
مخدوم سید مرتضیٰ محمود کا تعلق جنوبی پنجاب کے ضلع رحیم یار خان کے معروف سیاسی خاندان سے ہے۔ ان کے والد مخدوم سید احمد پنجاب کے گورنر رہ چکے ہیں جبکہ ان کے صاحبزادے بھی قومی سیاست میں موجود ہیں۔
مرتضٰی محمود کا شمار موجودہ کابینہ کے نوجوان وزرا میں ہوتا ہے۔ وہ 2013 سے 2018 تک صوبائی اسمبلی جبکہ 2018 میں وہ حلقہ این اے 180 رحیم یار خان سے رکن قومی اسمبلی منتخب ہوئے تھے۔ وہ پہلی مرتبہ کسی کابینہ کا حصہ بنے ہیں۔
