Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

’حکومتی شخصیات ہر دفعہ بیرون ملک جانے سے پہلے وزارت داخلہ سے اجازت لیں‘

جسٹس اعجاز الاحسن نے پوچھا کہ جو ترمیم ہو چکی ہے یا جو نام ای سی ایل سے نکل گئے ان کا کیا ہوگا۔ فوٹو: اے پی پی
سپریم کورٹ نے ایگزٹ کنٹرول لسٹ (ای سی ایل) میں شامل حکومتی شخصیات کو ہر دفعہ بیرون ملک جانے سے پہلے وزارت داخلہ سے اجازت لینے کا حکم دیا ہے۔ 
منگل کو چیف جسٹس آف پاکستان نے ریمارکس میں کہا کہ ’جو لوگ خود مستفید ہو رہے ہیں  وہ رولز میں ترمیم کیسے کر سکتے ہیں؟‘
اٹارنی جنرل نے عدالت کو یقین دہانی کرائی ہے کہ جب تک حکومت اس حوالے سے قانون سازی نہیں کر لیتی یہ طریقہ کار رائج رہے گا۔ 
سپریم کورٹ میں تحقیقاتی اداروں میں حکومتی مداخلت سے متعلق از خود نوٹس کیس کی سماعت چیف جسٹس عمر عطا بندیال کی سربراہی میں پانچ رکنی لارجر بینچ نے کی۔ 
سماعت کا آغاز ہوا تو اٹارنی جنرل اشتر اوصاف علی نے کہا کہ ’عدالت کی اجازت سے میری جگہ ایڈیشنل اٹارنی جنرل عامر رحمان دلائل دیں گے۔‘
ایڈیشنل اٹارنی جنرل عامر رحمان نے عدالت کو بتایا کہ ’سپریم کورٹ کے حکم کے بعد اٹارنی جنرل آفس میں تمام سٹیک ہولڈرز کا اجلاس ہوا۔ ای سی ایل رولز سے متعلق کابینہ کمیٹی کا بھی گزشتہ روز اجلاس ہوا جس میں سپریم کورٹ کے تمام سوالات اور آبزرویشنز کو سامنے رکھا گیا۔‘
جسٹس محمد علی مظہر نے استفسار کیا کہ ’کابینہ کمیٹی کی میٹنگ منٹس کہاں ہیں؟‘ جس پر ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے جواب دیا کہ ’اجلاس کل ہوا ہے، میٹنگ منٹس ایک دو روز میں مل جائیں گے۔‘
انہوں نے بتایا کہ ’کمیٹی نے آئندہ اجلاس میں اٹارنی جنرل کو پیش ہونے کی ہدایت کی ہے۔ اٹارنی جنرل آفس نے ای سی ایل رولز میں ترمیم سے متعلق ایس او پیز بنا کر تمام اداروں کو بھجواا دیے ہیں۔ ای سی ایل سے نکالے گئے تمام ناموں کا دوبارہ جائزہ لیا جائے گا۔ نیب اور ایف آئی اے سے مشاورت کے بعد رولز بنائے جائیں گے۔‘
جسٹس اعجاز الاحسن نے سوال کیا کہ کیا ای سی ایل رولز کی کابینہ نے منظوری دی؟ ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے جواب دیا کہ ’اب یہ معاملہ کابینہ کمیٹی برائے قانون سازی میں زیرغور ہے۔‘

پاکستان میں اتحادی جماعتوں کی حکومت کے قیام کے بعد سپریم کورٹ نے ای سی ایل رولز میں ترمیم پر سوال اٹھایا تھا۔ فائل فوٹو: اے پی پی

جسٹس اعجاز الاحسن نے نشاندہی کی کہ ’کابینہ کمیٹی کیسے نظرثانی کر سکتی ہے؟ اس موقع پر انھوں نے شعر پڑھا کہ ’بنے ہیں آپ ہی مدعی بھی منصف بھی، کسے وکیل کریں کس سے منصفی چاہیں۔‘
ان کا کہنا تھا کہ کابینہ کمیٹی خود قانون بناتی ہے خود ہی تشریح بھی کرتی ہے۔
جسٹس منیب اختر نے کہا کہ ’سمجھ نہیں آ رہی حکومت کرنا کیا چاہتی ہے۔ لگتا ہے حکومت بہت کمزور وکٹ پر کھڑی ہے۔ حکومت نے 22 اپریل کو ای سی ایل رولز میں ترمیم کی جن کا اطلاق پہلے سے موجود تمام کیسز پر ہو گا۔ ‘
جسٹس اعجازالاحسن  نے سوال اٹھایا کہ ’کس طریقہ کار کے تحت اتنے لوگوں کے نام ای سی ایل سے نکالے؟ خود کو فائدہ پہنچانے کے لیے بینیفشریز نے ای سی ایل رولز میں ترمیم کی۔ اتنی کیا جلدی تھی کہ حکومت بنتے ہی دو دن میں ای سی ایل رولز میں رد و بدل ہوا؟‘
چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیے کہ ’جس نے سرکاری کام سے باہر جانا ہے اسے اجازت ہونی چاہیے۔ سسٹم چلانے کے لیے سب کو مل کر کام کرنا ہو گا۔ یک طرفہ پارلیمان سے قانون سازی بھی قانونی تقاضوں کے مطابق ہونی چاہیے۔ یہ کسی کے لیے فائدہ اٹھانے کا موقع نہیں ہے۔‘
انہوں نے واضح کیا کہ ’نظر رکھیں گے کوئی ادارہ اپنی حد سے تجاوز نہ کرے۔ ایسا حکم نہیں دینا چاہتے جس سے حکومت کو مشکلات ہوں۔ بااختیار افراد نے ترمیم کر کے فائدہ اٹھایا۔ قانونی عمل پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہونے دیں گے۔ کسی کو لگتا ہے کیس میں جان نہیں تو متعلقہ عدالت سے رجوع کرے۔‘ 
 چیف جسٹس پاکستان نے کہا کہ ’وزیراعظم شہباز شریف کی عدالت سے عبوری ضمانت کی توثیق حاصل کرنے کا اقدام حوصلہ افزا ہے۔ اچھا لگا کہ وزیراعظم اور وزیراعلیٰ نے خود پیش ہو کر ضمانت کرائی۔ ضمانت کے حکم نامے کا بھی جائزہ لیں گے۔‘
چیف جسٹس نے حکم دیا کہ ’حکومتی شخصیات بیرون ملک جانے سے پہلے ہر دفعہ وزارت داخلہ سے اجازت لیں گی۔‘
جسٹس اعجاز الاحسن نے واضح کیا کہ کرپشن ملزمان نیب کی اجازت سے ہی بیرون ملک جائیں گے۔
اٹارنی جنرل نے موقف اپنایا کہا کہ ’چند دن میں رولز کے حوالے سے باضابطہ طریقہ کار وضع ہوجائے گا۔ عدالت کو یقین دلاتا ہوں کہ کوئی بھی کابینہ رکن جس کا نام ای سی ایل میں تھا، بغیر اجازت بیرون ملک نہیں جائے گا۔‘
دوران سماعت ایف آئی اے نے 42 ہائی پروفائل کیسز کا ڈیجیٹل ریکارڈ بھی جمع کرایا جبکہ نیب نے ہائی پروفائل کیسز کا ڈیجیٹل ریکارڈ جمع کرانے کے لیے عدالت سے دو ہفتوں کی مہلت مانگی۔  
کیس کی مزید سماعت 27 جون تک ملتوی کر دی گئی ہے۔

شیئر: