پاکستان کے قومی احتساب بیورو(نیب) کے سابق چیئرمین جسٹس ریٹائرڈ جاوید اقبال کے ساتھ مبینہ ویڈیو میں نظر آنے والی خاتون طیبہ گل نے پبلک اکاونٹس کمیٹی کو درخواست دی ہے کہ جسٹس ریٹائرڈ جاوید اقبال اور ڈی جی نیب لاہور شہزاد سلیم نے ان کے خلاف اختیارات کا ناجائز استعمال کرتے ہوئے انھیں ہراساں کیا۔ اس لیے ان کے خلاف کارروائی کی جائے۔
بدھ کو پارلیمنٹ ہاؤس میں پبلک اکاؤنٹس کمیٹی(پی اے سی) کے اجلاس دوران کمیٹی کے چیئرمین نور عالم خان نے ارکان کو بتایا کہ ’ایک خاتون نے سابق چئیرمین نیب کے خلاف شکایت بھیجی ہے۔ خاتون کی شکایت کو چیئرمین نیب کو بھیج کر رپورٹ طلب کی ہے۔‘
مزید پڑھیں
-
چیئرمین نیب کا دور تمام، کن تنازعات کا شکار ہوئے؟Node ID: 673996
-
چئیرمین نیب ریٹائرڈ جسٹس جاوید اقبال نے عہدے کا چارج چھوڑ دیاNode ID: 674121
انہوں نے کہا کہ ’اختیارات کے ناجائز استعمال پر بات ہونی چاہیے۔‘
نور عالم خان نے ارکان سے رائے طلب کی کہ ’کیا ہمیں سابق چئیرمین نیب کو بلانا چاہیے؟ ہمیں ہر ایک کو سننا اور موقع دینا چاہیے۔ دونوں لوگ ہمارے لیے قابل احترام ہیں۔‘
سینیٹر شبلی فراز نے کہا کہ ’نیب قوانین میں جو ترامیم ہو گئی ہیں، نیب غیر فعال ہو گیا ہے۔‘
نور عالم خان نے کہا کہ ’میں چاہتا ہوں کہ نیب مضبوط ہو۔ اگر کوئی شخص بھی اختیارات کا ناجائز استعمال کرے گا تو ہم اس کو نہیں چھوڑیں گے۔‘
انہوں نے ہدایت کی کہ درخواست کی کاپی ارکان کو دے دی جائے۔
اردو نیوز کو دستیاب درخواست میں طیبہ گل نامی خاتون نے اپنے خلاف کیس کا حوالہ دیتے ہوئے لکھا ہے کہ ’میرے خلاف جھوٹا مقدمہ بنایا گیا جس کی وجہ سے میں شدید کرب سے گزری۔ معزز عدالت نے نہ صرف مجھے باعزت بری کیا بلکہ اپنے فیصلے میں نیب کے بارے میں سخت آبزرویشنز بھی دیں۔‘
درخواست گزار خاتون نے عدالت کے فیصلے کا پیرا گراف درخواست میں نقل کیا ہے جس میں عدالت نے لکھا ہے کہ ’کیس خاتون اور ان کے شوہر کے خلاف ذاتی عناد کی بنیاد بنایا گیا تھا جس کا مقصد انہیں سبق سکھانا تھا۔ یہ کیس اختیارات کے ناجائز استعمال کی سب سے بہترین مثال ہے۔‘
عدالت نے اپنے فیصلے میں نیب تفتیشی افسران کی جانب سے ٹرائل میں متعدد قوانین کی خلاف ورزیوں کا بھی ذکر کیا ہے۔
’نیب پہلے بھی ہراساں کرتا رہا ہے‘
درخواست گزار نے لکھا ہے کہ ’نیب پہلے بھی انہیں ہراساں کرتا رہا ہے اور اب بھی جعلی کیسز بنانے کی دھمکیاں دی جا رہی ہیں۔ اس حوالے سے کمیٹی میں پیش ہو کر آڈیو ویڈیو ثبوت بھی فراہم کیے جا سکتے ہیں۔‘
خاتون نے پی اے سی سے اپیل کی ہے کہ انہیں اور سابق چیئرمین نیب جسٹس ریٹائرڈ جاوید اقبال، ڈی جی نیب لاہور شہزاد سلیم کو کمیٹی میں طلب کیا جائے۔ جہاں پر اس کا مدعا سن کر ان کے خلاف کارروائی کا آغاز کیا جائے۔
پبلک اکاونٹس کمیٹی سابق چیئرمین نیب کو بلانے کے حوالے سے تو کوئی فیصلہ نہیں کر سکی تاہم چیئرمین پی اے سی نے خاتون کی جانب سے لگائے گئے الزامات کے بارے میں نیب سے رپورٹ طلب کر لی ہے۔
