پاکستان کے صوبہ پنجاب کی ایک خصوصی عدالت نے حال ہی میں ملک کے وزیراعظم شہباز شریف کے صاحبزادے سلمان شہباز کی جائیداد قُرقی کا حکم دیا ہے۔
عدالتی حکم کے مطابق سلمان شہباز کی چنیوٹ میں 200 کنال زرعی اراضی کو قُرق کیا گیا ہے۔ سپیشل کورٹ سینٹرل کے جج اعجاز اعوان نے نو صفحات پر مشتمل فیصلے میں ڈسٹرکٹ ریونیو آفیسر کو حکم دیا ہے کہ ’وہ سلمان شہباز کی چنیوٹ میں واقع زرعی اراضی کو ضبط کر لیں۔‘
اس کے علاوہ عدالتی حکم میں ’سلمان شہباز کے 13 کمپنیوں میں شیئرز اور 29 بینک اکاؤنٹس بھی قُرق کرنے کا حکم دے دیا گیا ہے۔‘
مزید پڑھیں
-
اسحق ڈار کی جائیداد ضبط‘ بیرون ملک اثاثوں کی تلاش جاریNode ID: 311166
-
اسلام آباد ہائیکورٹ کی اسحاق ڈار کا گھر نیلام کرنے کی اجازتNode ID: 640366
-
پرویز مشرف کی واپسی: ’نواز شریف کے پاس دوسرا راستہ نہیں‘Node ID: 677631
عدالت نے یہ حکم وزیراعظم کے بیٹے کی جانب سے عدالتی ٹرائل کا حصہ نہ بننے پر جاری کیا ہے۔ اس سے قبل انہیں اشتہاری قرار دیا گیا تھا۔
یہ پہلا موقع نہیں کہ کسی سیاستدان یا ان کے خاندان کے کسی فرد کی جائیداد ضبطگی کے احکامات کسی عدالت نے جاری کیے ہوں۔
لیکن اس کے ساتھ دلچسپ بات یہ ہے کہ پاکستان میں گزشتہ چند دہائیوں میں ایسی کوئی مثال موجود نہیں کہ کسی سیاستدان کی جائیداد ضبط ہونے کے بعد اگلے مراحل میں قومی خزانے میں جمع کروائی گئی ہو۔
دیوانی مقدمات کے ماہر اور سپریم کورٹ کے سینیئر وکیل چوہدری اشتیاق احمد نے اردو نیوز سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ گزشتہ 30 سال میں تو ان کے سامنے ایسا کوئی کیس نہیں ہے۔
ان کے مطابق ’اس بات کو سمجھنے کے لیے پاکستان کے عدالتی نظام کو بھی سمجھنا ہوگا۔ جائیداد کو ضبط کرنے اور ریکور کرنے کا سب سے سخت قانون نیب کا ہے۔ سابق صدر پرویز مشرف نے 1999 میں جب نیب آرڈیننس کا اجرا کیا تو اس وقت اس قانون کے تحت بے نظیر بھٹو اور نواز شریف سمیت کئی سیاستدانوں کی جائیدادیں ضبط کی گئیں، لیکن بعدازاں جب وہ مقدمے ختم ہوئے تو جائیدادیں بھی واپس ہو گئیں۔‘
