خیبرپختونخوا کے ضلع سوات اور سرحدی علاقوں میں کالعدم تحریک طالبان پاکستان کے شدت پسندوں کی نقل و حرکت سے متعلق خبریں کافی عرصے سے گردش کررہی ہیں مگر اب پشاور کے نواحی علاقوں میں شدت پسندوں کی موجودگی کی اطلاعات سامنے آرہی ہیں ۔
پشاورشہر سے 45 کلومیٹر دور تحصیل حسن خیل کے علاقے شرکیرہ کی ویڈیو سوشل میڈیا پر موضوع بحث بنی ہوئی ہے جس میں مبینہ طور پر ایک مسلح نوجوان جمعہ کی نماز کے بعد مسجد میں کھڑے ہو کر لڑائی کی ترغیب دے رہا ہے۔
مزید پڑھیں
-
کانسٹیبل طارق نے لِفٹ لے کر دو حملہ آوروں کو کیسے دبوچا؟Node ID: 701051
دو منٹ پچاس سیکنڈ کی اس ویڈیو میں شدت پسند نوجوان اپنی پوری تقریر کے دوران اسلحہ تھامے رکھا تھا۔
ویڈیو کی حقیقت کیا ہے؟
سوشل میڈیا پر اس ویڈیو کے وائرل ہونے کے بعد اردو نیوز نے حقیقت جاننے کے لیے حسن خیل کے ایک مقامی شہری سے بات کی۔ نوید احمد (فرضی نام) نے بتایا کہ اس ویڈیو کے بعد علاقے میں خوف کی فضا پھیلی ہے ہر شخص اس کے بارے میں بحث کررہا ہے ۔ نوید کے مطابق ویڈیو میں موجود مسلح جنگجو مقامی رہائشی نہیں لگ رہا تاہم لب و لہجے سے متصل ضم قبائلی اضلاع کا شہری لگ رہا ہے۔
ویڈیو سے پہلے بھی ہمارے گاؤں کے قریب پہاڑی علاقوں میں مسلح افراد کی نقل وحرکت کے بارے میں باتیں چل رہی تھیں جس کے بعد رات کو پولیس اہلکاروں کی ٹیموں نے گشت شروع کر دیا ہے۔
ویڈیو کے بارے میں پولیس کا موقف
اردو نیوز نے مبینہ ویڈیو کے حوالے سے ایس ایس پی آپریشنز کاشف عباسی سے موقف کے لیے رابطہ کیا۔ ایس ایس پی آپریشنز نے بتایا کہ ویڈیو سامنے آنے کے بعد پولیس نے علاقے میں کارروائی شروع کردی ہے۔ ’کچھ افراد کو گرفتار کر لیا گیا ہے جن سے پوچھ گچھ کی جارہی ہے ۔‘
