پاکستانی کی مثالی ایمانداری ، گمشدہ خطیر رقم ہندوستانی کے حوالے کر دی
ہندوستان سے آنےوالے معتمر کا بیگ ائیر پورٹ پر کھو گیا تھا ، پاکستانی نے 25 ریال میں خریدا ، بیگ سے ہزارو ں ریال اور انڈین کرنسی برآمدہوئی
جدہ( ارسلان ہاشمی ) پاکستانی کی ایمانداری نے انڈین معتمر کو اسکی کھوئی ہوئی خطیر رقم لوٹا دی ۔ خورشید اکبر نے بیگ پرانا سامان فروخت کرنے والی مارکیٹ سے 25 ریال میں خرید ا تھا ۔ راولپنڈی سے تعلق رکھنے والے خورشید اکبر نے اردونیوز کو تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ وہ گزشتہ 3 برس سے جدہ کی ایک کمپنی میں الیکٹریشن کے طور پر کام کرتا ہے ۔ ہفتہ وار معمول کے مطابق جمعہ کی چھٹی والے دن ساتھیوں کے ساتھ علاقے کے پاکستانی ہوٹل پر ناشتہ کرنے کے بعد وہاں لگنے والے جمعہ بازارکا چکر لگاتے ہیں ۔ اس دن میں اس امر سے بے خبر تھا کہ قدرت مجھے کس امتحان میں ڈالنے والی ہے ۔ جب ہم بازار پہنچے تو ایک بنگالی اپنا سامان فروخت کرنے کےلئے ریڑھی سے اتار رہا تھا جس میں ایک لیپ ٹاپ کا بیگ بھی تھا ۔ مجھے بیگ کی ضرورت تھی میں نے وہ بیگ اس سے 25 ریال میں خریدا اور اپنی رہائش پر آگیا ۔ نماز جمعہ سے فارغ ہوکر میں نے بیگ چیک کیا تو یہ دیکھ کر شدید حیرت ہوئی کہ بیگ کی اندرونی جیب کچھ پھولی ہوئی ہے جب اسے کھولا تو اس سے ملنے والی کرنسی نے میرے ہوش اڑا دیئے ۔اندرونی جیب سے نوٹوں کا بنڈل نکلا جس میں انڈین کرنسی اور سعودی ریال تھے ۔ نوٹ گنے تو اس میں 58 ہزار انڈین روپے ، 5600 سعودی ریال اور انڈین بینک کے 2 چیک کے علاوہ ایک ٹریولنگ ایجنسی کا کارڈ اور جس شخص کا یہ بیگ تھا اسکا عمرہ کارڈ برآمدہواجس پر اسکی تصویر لگی تھی ۔ رقم دیکھ کر میں پریشان ہو گیا ۔ مجھے یہ فکر تھی کہ یہ امانت جو مجھ پر آپڑی ہے اسے کس طرح اس کے مالک تک پہنچاﺅں ۔ میں اس کے مالک کو نہیں جانتا تھا ۔ سب سے بڑا مسئلہ تھا کہ ہمیں یہ معلوم بھی نہیں تھا کہ یہ بیگ کس طرح مارکیٹ میں پہنچا ۔ میں نے اپنے قابل اعتماد ساتھی حافظ عمران جاوید کو ساری کہانی سناتے ہوئے انہیں رقم اور بیگ دکھایا۔ ہم نے باہمی مشورہ کرکے ہندوستان میں ٹریول ایجنسی کو فون کیا جس کا کارڈ بیگ سے برآمد ہوا تھا ۔ ایجنسی کے ذمہ دار سے پوچھا کہ کیا آپ نذیر صاحب کو جانتے ہیں ؟ مثبت جواب ملنے پر ہمیں امید کی کرن دکھائی دی ۔ میں نے اس سے کہا کہ نذیر صاحب کا نمبر درکار ہے۔ انکا کچھ سامان جدہ میں رہ گیا ہے ۔ ایجنٹ نے 20 منٹ بعد کال کرنے کا کہا ۔ جب میں نے دوبارہ کال کی تو انہوں نے بیگ کے مالک کا نمبر مجھے دے دیا ۔ میں نے فورا ً اس نمبر پر کال کی اور ان سے نام پوچھنے کے بعد کہا کہ آپکا کوئی سامان جدہ میں رہ گیا ہے جس پر انہو ںنے گلوگیر آواز میں کہا جی میرے 2 بیگ کھوگئے ہیں جن میں کافی رقم تھی ۔ میں نے ان سے پوچھا کہ کتنی رقم ہو گی ؟ انہو ںنے جو رقم بتائی وہ کچھ کم تھی۔ میں نے کہا آپ اپنی تصویر بھیجیں تاکہ اس بات کی تصدیق کی جاسکے کہ بیگ آپ کا ہی ہے کیونکہ بیگ سے برآمد ہونے والے ٹور آپریٹر کے کارڈ پر انکی تصویر بھی لگی تھی ۔ ہم نے ان کی جانب سے بھیجی جانے والی تصویر ملائی جو ان کی ہی تھی جس پر یہ یقین ہو گیا کہ قدرت ہماری درست رہنمائی کر رہی ہے۔ نذیر نے بتایا کہ انکا ایک دوست جدہ میں ہی مقیم ہے جس کا نام عبدالرحیم ہے ا ور اسکا نمبر بھیج دیا ۔ عبدالرحیم سے رابطہ کر کے اس سے ملاقات کا وقت مقرر کر لیا جو جمعہ کی نمازکے بعد سہ پہر 3 بجے طے ہوا ۔ میں زندگی میں اتنا پریشان نہیں ہوا جتنا اس دن تھا،ایسا لگ رہا تھا کہ وقت رک گیا ہے ۔ بالآخر میں 3 بجے عبدالرحیم سے ملاقات کے لئے مقررہ جگہ پہنچا میرے ساتھ حافظ عمران جاوید بھی تھے ۔ وہ بھی بے انتہاخوش تھے کہ جو ذمہ داری اللہ تعالیٰ نے ہمارے کندھوں پر ڈالی تھی اس سے بخوبی عہدہ برآ ہونے کا وقت آن پہنچا ہے ۔ عبدالرحیم سے ملے اور اسے رقم اور بیگ حوالے کیا اس وقت خوشی کا جو احساس تھا وہ لفظوں میں بیان کرنے سے قاصر ہوں ۔خورشید نے مزید کہا کہ جس وقت مجھے رقم ملی تھی میں نے اپنی اہلیہ کو بھی اس سے آگاہ کیا تھا۔ انہوںنے دوسرے دن مجھے کہا کہ میں ہر نماز میں دعا کرتی ہوں کہ جلد از جلد بیگ کے مالک سے رابطہ ہو جائے ۔ جب میں نے اہلیہ کو بتایارقم اسکے مالک تک پہنچ گئی ہے تو انہوںنے بھی سکون کی سانس لی۔ دوسری جانب عبدالرحیم نے اردونیوز سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ جب مجھے معلوم ہوا کہ میرے دوست کی رقم مل گئی ہے اور وہ مجھے لینے جانا ہے تو میں نے اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کیا ۔ نذیر ریٹائرڈ اسکول ٹیچر ہیں جو عمرہ پر لوگوں کو لے کر آتے ہیں ۔ اسکی اتنی خطیر رقم گم ہونے سے اسے بے انتہا دشواریوں کا سامنا کرنا پڑرہا تھا مگر رب کریم نے اسکی حلال روزی اس تک لوٹا دی ۔ اس نے مزید کہا کہ خورشید نے جس ایمانداری کا مظاہر ہ کیااس نے ہم سب کو بے حد متاثر کیا ہے ۔ جب نذیر کو ہندوستان میں معلوم ہوا تو اس نے مجھے واقعے کی تفصیلات سے آگاہ کیا، مجھے بھی یقین نہیں آرہا تھا مگرجب عبدالرحیم کا ٹیلی فون موصول ہوا او ر اس سے بات کی تو بے حد خوشی ہوئی ۔ بیگ سے برآمد ہونے والی رقم معمولی نہیں تھی جبکہ خورشید نے بیگ خریداتھا ۔ نذیر نے انڈیا سے مجھے کہا کہ خورشید کو انعام کے طور پر 500 ریال دوں جب میں نے انہیں انعامی رقم دینا چاہی تو اس نے لینے سے انکار کر دیا جب نذیر نے اسے یہ کہا کہ وہ یہ معمولی رقم میری خوشی کےلئے رکھ لے اور اصرار کیا تو خورشید ہماری خوشی کی خاطر مان گیا ۔