Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

پاکستان میں غیرقانونی ہاؤسنگ سوسائٹیوں کا سدباب کیسے ممکن؟  

دارالحکومت اسلام آباد میں 146 غیرقانونی رہائشی منصوبے موجود ہیں۔ فوٹو: فری پک
میں اٹلی سے آنے والے کزن کو اسلام آباد ایئرپورٹ سے لے کر گجرات کے لیے روانہ ہوا تو سرمایہ کاری کے لیے فکر مند کزن کی توجہ سڑک کے دونوں اطراف لگے آسمان کو چھوتے بل بورڈز پر پڑی جن پر پاکستان میں ہاؤسنگ سوسائٹیوں میں سرمایہ کاری کے لیے بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کو دعوت عام دی گئی تھی۔  
کزن نے ایک دو ہاؤسنگ سکیموں کے دل موہ لینے والے اشتہارات دیکھ کر جب سرمایہ کاری کے بارے میں مشورہ مانگا تو میں نے معمول میں یہ کہہ کر انہیں ٹالنا چاہا کہ یہ تو غیرقانونی ہیں، ان کے پاس تو این او سی ہی نہیں ہے یا پھر ابھی مطلوبہ زمین پوری نہیں ہے۔ 
میری یہ معلومات کیپیٹل ڈویلپمنٹ اتھارٹی (سی ڈی اے) اور راولپنڈی ڈویلپمنٹ اتھارٹی (آر ڈی اے) کی ویب سائٹ پر فراہم کی گئی تفصیلات اور پراپرٹی مارکیٹ میں بعض ڈیلروں کی جانب سے فراہم کی گئی تھیں۔  
سفر جوں جوں آگے بڑھتا رہا ہماری بحث بھی زور پکڑنے لگی کہ آیا پلاٹ خریدنا ہو تو اس کے لیے کیا کرنا چاہیے اور کہاں خریدنا چاہیے۔
اس بحث نے کروٹ اس وقت لی جب اچانک سے میرے کزن نے کہا کہ جب ہاؤسنگ سوسائٹیوں کی اکثریت غیرقانونی، غیر منظور شدہ ہے یا کچھ کے لے آؤٹ پلان منطور نہیں ہوئے تو ان کو اشتہارات کی اجازت کیوں دی جاتی ہے کہ وہ لوگوں کو گمراہ کر سکیں؟ 
اسی مباحثے میں ہم اسلام آباد اور راولپنڈی کی حدود سے نکل کر گوجر خان پہنچ چکے تھے۔ خلاف توقع اب وہاں بھی ہاؤسنگ سوسائٹیوں کا کاروبار چمک اٹھا ہےاور جگہ جگہ اشتہارات کی بھرمار ہے۔
ان سوسائیٹیوں اور ان کے اشتہارات کا یہ سلسلہ کم و بیش پورا راستہ ہی جاری رہا اور اس بارے میں ہماری بات چیت بھی۔ 

اسلام آباد اور راولپنڈی میں غیرقانونی ہاؤسنگ سوسائٹیوں کی صورتحال 


سی ڈی اے کے مطابق غیرقانونی سوسائٹیوں کے خلاف آپریشن شروع کر دیا ہے۔ فوٹو: فری پک

ویسے تو تقریباً ہر شہر میں ہی اب نجی ہاؤسنگ سکیموں کی بھرمار ہے لیکن صرف جڑواں شہروں راولپنڈی، اسلام آباد میں ان کی تعداد سینکڑوں میں ہے۔
 آر ڈی اے حکام کے مطابق ضلع راولپنڈی کی حدود میں مجموعی طور پر 317 غیرقانونی ہاؤسنگ سوسائٹیاں موجود ہیں جن کی منظوری متعلقہ محکموں سے نہیں لی گئی۔ 
جن میں ضلع کونسل راولپنڈی کی حدود میں 134، آر ڈی اے کی حدود میں 88، تحصیل مری میں 57، تحصیل ٹیکسلا میں 28، تحصیل گوجر خان میں 8 اور تحصیل کوٹلی ستیاں میں 3 غیرقانونی یا غیرمنظور شدہ ہاؤسنگ سوسائٹیاں ہیں۔ 
اسی طرح سی ڈی اے حکام کے مطابق وفاقی دارالحکومت میں کل 146 غیر قانونی رہائشی منصوبے موجود ہیں جن میں سے زون 1 میں 20، زون 2 اور 3 میں 7، زون 4 میں 83 اور زون 5 میں 29 غیرقانونی یا غیرمنظور شدہ ہاؤسنگ سوسائٹیاں ہیں۔  
سی ڈی اے حکام کا کہنا ہے کہ وفاقی ترقیاتی ادارے کی انتظامیہ نے اسلام آباد میں غیرقانونی ہاؤسنگ سوسائٹیوں کے خلاف بھرپور آپریشن شروع کر دیا ہے جس کے تحت پہلے مرحلے میں ان سوسائٹیوں کے انتظامی اور تشہیر کے لیے بنائے جانے والے دفاتر کو سربمہر کیا جا رہا ہے۔ 
دوسری جانب پنجاب حکومت نے صوبے بھر میں غیرقانونی ہاؤسنگ سوسائٹیوں کے خلاف کریک ڈاون کا فیصلہ کیا ہے۔ اس سلسلے میں کارروائی صوبے کی تمام ڈویلپمنٹ اتھارٹیوں کے سربراہان پر مشتمل گزشتہ سال بننے والی کمیٹی کی سفارشات کی روشنی میں آگے بڑھائی جائے گی۔  
ترجمان آر ڈی اے حافظ عرفان احمد کا کہنا ہے کہ اس حوالے سے ڈائریکٹر جنرل راولپنڈی ڈویلپمنٹ اتھارٹی محمد سیف انور جپہ کی ہدایت پر ڈائریکٹر میٹرو پولیٹن پلاننگ و ٹریفک انجینیئرنگ نے پارکس اینڈ ہارٹیکلچر اتھارٹی راولپنڈی، چکلالہ کنٹونمنٹ بورڈ، راولپنڈی کنٹونمنٹ بورڈ، ضلع کونسل راولپنڈی اور تحصیل کونسل راولپنڈی سے راولپنڈی ضلع میں نجی ہاؤسنگ سکیموں کی مشروم گروتھ کو روکنے کے لیے تعاون کی درخواست کی ہے۔ 

راولپنڈی انتظامیہ نے غیرقانونی ہاؤسنگ سوسائٹیوں کے دفاتر مسمار کیے ہیں۔ فوٹو: فری پک

راولپنڈی انتظامیہ نے متعدد ہاؤسنگ سوسائٹیوں کے خلاف کریک ڈاون کرتے ہوئے ان کے دفاتر کو مسمار کیا ہے جبکہ درجنوں کے خلاف ایف آئی آر بھی درج کی گئی ہیں۔ 

غیرقانونی ہاؤسنگ سوسائٹیوں کے اشتہارات روکنے کے لیے اقدامات  

ترجمان آر ڈی اے نے بتایا کہ انہوں نے پیمرا سے بھی درخواست کی ہے کہ وہ نجی ٹی وی چینلز کو غیرقانونی ہاؤسنگ سوسائٹیوں کے اشتہارات نشر کرنے سے باز رکھیں۔  
انھوں نے بتایا کہ اس حوالے سے تمام صوبائی محکموں کو ہدایات جاری کی گئی ہیں کہ اگر کسی جگہ پر کوئی بھی ہاؤسنگ سوسائٹی ایڈور ٹائزنگ کے سلسلہ میں اجازت مانگتی ہے تو اس کو اجازت دینے سے پہلے راولپنڈی ڈویلپمنٹ اتھارٹی سے این او سی لینا لازمی ہے۔ اس کی وجہ یہی ہے کہ غیرقانونی ہاؤسنگ سوسائٹیوں کو اشتہار بازی سے روکا جائے تاکہ وہ عوام کو گمراہ کر کے انھیں لاکھوں روپے سے محروم نہ کر سکیں۔  
جب ان کی توجہ ٹیلی ویژن پر چلنے والے نہ صرف جڑواں شہروں بلکہ ملک کے دیگر چھوٹے شہروں میں ہاؤسنگ سوسائٹیوں کے اشتہارات کی جانب مبذول کرائی گئی تو ان کا کہنا تھا کہ دیگر اضلاع کی انتظامیہ اپنی جگہ جبکہ راولپنڈی ڈویلپمنٹ اتھارٹی اپنی جگہ پیمرا سے ان اشتہارات کو رکوانے کے لیے رجوع کر چکے ہیں۔ 

غیرقانونی ہاؤسنگ سوسائٹیوں کی تشہیر روکنے میں پیمرا کا کردار  

اس معاملے پر پیمرا حکام کا کہنا ہے کہ پاکستان میں الیکٹرونک میڈیا پر اشتہارات کے حوالے سے پیمرا قواعد بڑے واضح ہیں۔ الیکٹرونک میڈیا کے 2015 کے ضابطہ اخلاق کے تحت تمام اشتہارات کا پاکستانی قوانین کے مطابق ہونا ضروری ہے۔ پیمرا آرڈینینس کے سیکشن 27 کے تحت ایسے تمام اشتہارات کی ممانعت ہے جو قانونی تقاضے پورے نہ کرتے ہوں۔  

ہاؤسنگ سوسائٹی کی تشہیر کے لیے آر ڈی اے سے اجازت لینا لازمی ہے۔ فوٹو: فری پک

حکام کے مطابق پیمرا نے اپریل 2022 میں ایک فیصلہ دیا جس کے تحت تمام ٹی وی چینلز کو غیرقانونی اور غیرمنظور شدہ ہاؤسنگ سوسائٹیوں کے اشتہارات آن ایئر کرنے سے منع کیا گیا تھا۔
جو چینلز بھی اس پر عمل در آمد نہیں کرتے ان کے خلاف کارروائی کرتے ہوئے جرمانہ اور چینل کے لائسنس کی معطلی کی سزا موجود ہے۔ تاہم یہ سزا صرف اسی صورت میں دی جا  سکتی ہے جب کوئی شہری ان اشتہارات کے خلاف باقاعدہ شکایت درج کرواتا ہے۔

شیئر: