Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

اسمبلی میں واپسی: ’خان صاحب پھر یوٹرن لینے لگے ہیں‘

عمران خان نے پیر کو صحافیوں سے گفتگو میں قومی اسمبلی واپسی کا ارادہ ظاہر کیا (فوٹو: محمد عرفان، ٹوئٹڑ)
پاکستان تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان نے پیر کو صحافیوں سے گفتگو میں عندیہ دیا کہ وہ نگران حکومت کی تقرری کے حوالے سے قومی اسمبلی میں دوبارہ جا سکتے ہیں۔
عمران خان کی یہ گفتگو سوشل ٹائم لائنز پر آئی تو ان کے حامیوں نے اس پر ملے جلے ردعمل کا اظہار کیا جب کہ دیگر افراد میں سے کچھ نے اسے ’خان صاحب کا نیا یوٹرن‘ قرار دے دیا۔
عمران خان کا اپنی گفتگو میں کہنا تھا کہ ان کی جماعت قومی اسمبلی میں واپس جانے کی تیاری کر رہی ہے اور اس حوالے سے کل (منگل) سے مشاورت کا آغاز کیا جا رہا ہے۔
سابق وزیراعظم کے بیان پر گفتگو کا سلسلہ شروع ہوا تو اس پر تنقید کرنے والوں کا کہنا تھا جب قومی اسمبلی سے پارٹی ارکان مستعفی ہو چکے اور عمران خان نے خود ضمنی انتخابات میں چھ حلقوں سے منتخب ہونے کے باوجود حلف نہیں اٹھایا تو اب انہیں اسمبلی جانے کی کیا ضرورت آن پڑی۔
شنیلا عمار سکندر نے لکھا کہ ’خان صاحب پھر یوٹرن لینے لگے ہیں، قومی اسمبلی میں واپسی کا عندیہ یعنی شہباز شریف کی کیا نیندیں حرام کرنیں، اپنی ہوگئی ہیں۔‘

عماد احمد نے ’یوٹرن تو اچھے ہوتے ہیں‘ کہا تو ساتھ ہی یہ بھی لکھا کہ ’کپتان نے گاڑی واپس قومی اسمبلی کی جانب موڑنے کا پلان بنا لیا۔‘
مسلم لیگ ن کی سابق رکن پنجاب اسمبلی حنا پرویز بٹ نے عمران خان پر طنز کرتے ہوئے ’ایک اور یوٹرن‘ کی پھبتی کسی تو جواب میں تحریک انصاف کی ایک سپورٹر نے کہا کہ ’ملک کی بہتری کے لیے اگر یوٹرن لے رہا ہے تو اچھا ہے۔‘

وقاص اعوان نے اسمبلیوں سے باہر رہنے کے نقصانات گنواتے ہوئے جہاں استعفوں کو ’بہت بڑی حماقت‘ کہا وہیں عمران خان کے فیصلے کو ’گڈ یوٹرن‘ قرار دیا۔

پی ٹی آئی کے حامی دکھائی دینے والے ابوذر فرقان نے عمران خان کے اعلان کو ’یوٹرن نہیں سرپرائز‘ کہا تو لکھا کہ ’یا تو استعفے قبول کرو گے یا ہر چیز جو راجہ ریاض کے ذریعے کرنے کا ارادہ بنایا ہے وہ ختم ہو گی۔‘

نادیہ تارڑ نے سوال اٹھایا تو عمران خان کی اسمبلی میں واپسی کا کریڈٹ اپوزیشن لیڈر راجہ ریاض کو دے ڈالا۔ انہوں نے پوچھا کہ ’کیا یہ مانا جائے کہ عمران خان کو اسمبلی واپس لانے کا جو کام بڑے بڑے نہ کر سکے وہ اکیلے راجہ ریاض نے کر ڈالا؟‘
سید اکثر علی شاہ نے بھی کپتان کے فیصلے کو ’ایک اور یوٹرن‘ کے طنز کا موقع بنایا تو کراچی میں ہونے والے حالیہ بلدیاتی انتخابات میں تحریک انصاف کی شکست کا تذکرہ بھی کیا۔

عمران خان نے اپنی جماعت کے قومی اسمبلی کے ارکان کے استعفوں کا اعلان کرتے ہوئے کہا تھا کہ اس اقدام کا مقصد حکومت کو فوری انتخابات پر مجبور کرنا ہے۔ پارٹی ارکان کے استعفے منظور نہ کیے جانے پر تحریک انصاف سربراہ حکومت کو تنقید کا نشانہ بھی بناتے رہے ہیں۔
 

شیئر: