ابتدائی اقساط کو دیکھ کر اندازہ ہوتا ہے میرب اور مرتسم کینفرت محبت میں بدل جائے گی (فوٹو: سکرین گریب)
کہتے ہیں محبت کے بعد کی جانے والی نفرت ہو یا شدید نفرت کے بعد کسی سے محبت ہوجائے دونوں انتہا کی ہوتی ہیں۔ کہیں سچے عشق کے آگے پتھر دل پگھل جاتے ہیں تو کہیں موم جیسے دل فولاد کی شکل اختیار کر لیتے ہیں۔
ان دنوں مقبول ڈراموں میں سے ایک ڈرامہ ’تیرے بن‘ کو ناظرین کی جانب سے کافی پذیرائی مل رہی ہے جس میں اداکار وہاج علی اور یمنیٰ زیدی مرکزی کردار ادا کر رہے ہیں۔
ڈرامے کو نوراں مخدوم نے لکھا ہے اور اسے سراج الحق نے ڈائریکٹ کیا ہے۔ ڈرامے کی دیگر کاسٹ میں بشریٰ انصاری، سہیل سمیر، فرحان علی آغا، فضیلہ قاضی، سبین فاروق، محمود اسلم، حارث وحید، آغا مصطفی اور دیگر شامل ہیں۔
ڈرامے کی کہانی مرتسم (وہاج علی) سے شروع ہوتی ہے جسے ایک متکبر جاگیردار دکھایا گیا ہے لیکن وہ لوگوں کے لیے ہمدردی بھی رکھتا ہے۔
میرب (یمنیٰ زیدی) جو ایک مضبوط لڑکی ہے اور جو وکیل بننا چاہتی ہے اور مرتسم کی طرح اس کا دل بھی اپنے لوگوں کے لیے دھڑکتا ہے۔ وہ بھی اپنےارد گرد کے لوگوں کا خیال رکھتی ہے اور سب سے زیادہ اپنے والد وقاص (فرحان علی آغا) کے دل کے قریب ہوتی ہے۔
پہلی نظر میں ڈرامے کی تھیم کو دیکھ کر جیو ٹی وی کے ہی ماضی کے ڈراموں کا عکس محسوس ہوتا ہے جبکہ وہاج علی کے گیٹ اپ میں ڈرامہ ’بشر مومن‘ میں فیصل قریشی کے کردار کی جھلک بھی نظر آئی۔
سلمیٰ (بشریٰ انصاری) کے کردار میں کچھ نئے پن کا احساس نہیں ہوا جبکہ ڈرامے کی پہلی قسط میں ہی انور (سہیل سمیر) کے کردار نے ڈرامہ قربان میں عمیر رانا کے کردار کی یاد تازہ کردی۔
اگر آپ نے سال 2017 میں میں نشر ہونے والا ڈرامہ ’قربان‘ دیکھا ہو تو آپ کو یاد ہوگا کہ اس ڈرامے میں اسی طرح کے مناظر دکھائے گئے تھے کہ شہر میں رہنے والی آزاد خیال لڑکی پر گاؤں میں موجود خاندان کے بڑے اپنی خاندانی رسم کی بیڑیاں لگانا چاہتے ہیں کیونکہ جاگیردرانہ نظام میں آج بھی عورت کے چار دیواری سے باہر نکلنے اور ماڈرن انداز میں پرورش کو غیرت کی سرزمین پر حملہ سمجھا جاتا ہے۔
یہ سمجھا جانے لگا ہے کہ اگر سین میں خاتون کو تھپڑ مارا جائے تو ڈرامے کی ریٹنگ میں اضافہ ہوگا (فوٹو: سکرین گریب)
جیسا کہ اس ڈرامے میں مرتسم کا ایک ڈائیلاگ ہے کہ ’کوئی اس خاندان کے نام کو بدنام کرے یہ میں برداشت نہیں کروں گا۔‘
ڈرامے میں مرتسم کے چاچا کی بیٹی حیا (سبین فاروق) اُس کے پیار میں دیوانی ہے لیکن مرتسم کی جانب سے اسے مایوسی کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ حیا کا کردار، اس کے ڈائیلاگز اور لہجہ اپ کو سٹار پلس کے ڈراموں کی یاد تازہ کرے گا جس میں سپورٹنگ ایکٹریس خود غرض اور لالچی ہوتھی جو اپنے فائدے کے لیے کسی کو بھی نقصان پہنچا سکتی ہے۔
پہلی قسط سے ہی ایسا دیکھنے کو ملتا ہے کہ میرب مرتسم سے نفرت کرتی ہے اور وہ بھی اسے پسند نہیں کرتا بالکل ایسے جیسے ایک میان میں دو تلوار ہوں کیونکہ دونوں کو اپنے اصول، انا اور اپنی مرضی کا مالک دکھایا گیا ہے۔
جہاں بھابی بیگم کہتی ہیں کہ ’مرتسم کسی کی نہیں مانتا‘ تو ایک اور سین میں میرب کہتی ہے کہ ’جہاں میرب ہوتی وہاں وہی چمکتی ہے۔‘
ڈرامے کی ابتدائی اقساط میں ہی یہ بتا دیا گیا ہے کہ میرب اپنے والدین کی لے پالک بیٹی ہے اور اس کا باپ وقاص کے بجائے انور ہے جس کی خواہش ہے کہ میرب ان کی حویلی میں ہی رہے اسی لیے وقاص پر یہ دباؤ ڈالا جاتا ہے کہ وہ میرب کو مرتسم سے شادی کے لیے راضی کروائے۔
وقاص کو عزت و احترام کی قید میں جکڑا بے بس باپ ہے لیکن میرب جو صحیح اور غلط میں فرق سمجھتی اور خاندان کے دقیانوسی خیالات کو رد کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے وہ بھابھی بیگم کے سامنے مرستم سے شادی کے لیے یہ کہہ کر انکار کر دیتی ہے کہ ’میرے ملک کا قانون اور میرا مذہب مجھے اجازت دیتا ہے کہ میں اپنی پسند سے شادی کروں۔‘
ڈرامے کا ایک اور پہلو یہ ہے کہ جاگیرداروں کی کہانی میں جاگیر حاصل کرنے کی جنگ نہ ہو ایسا بھلا کہاں ہوسکتا ہے۔ بھابی بیگم اپنی گدّی اور جائیداد کو بچانے کے لیے چاہتی ہیں کہ میرب کی شادی مرتسم سے ہوجائے کیونکہ میرب کے اصل والد اور بھابھی صاحبہ کے دیور انور نے وصیت میں اپنی جائیداد اپنی سگی بیٹی کے نام کر دی ہے۔
دوسری جانب حیا مرتسم سے شادی کرکے اماں بیگم کی جگہ لینا چاہتی ہے تاہم جائیداد کی اس جنگ میں مرتسم کو دیکھ کر حیرت ہوئی کہ وہ دقیانوسی متعصب شخص نہیں ہے وہ یہ جاننے کے باوجود کہ اس کے چاچا نے جائیداد اپنی بیٹی کو منتقل کر دی ہے میرب کے لیے اس نے وہی رویہ برقرار رکھا ہوا ہے جبکہ میرب کو بھی مال و دولت کی ہوس نہیں۔
پہلی قسط سے ہی ایسا دیکھنے کو ملتا ہے کہ میرب مرتسم سے نفرت کرتی ہے اور وہ بھی اسے پسند نہیں کرتا (فوٹو: سکرین فریب)
ایسا لگتا ہے کہ ڈراموں کی مقبولیت میں اضافے کے لیے ان میں مصالحہ ڈالنا ہماری مجبوری بن گیا ہے اور یہ سمجھا جانے لگا ہے کہ اگر سین میں خاتون کو تھپڑ مارا جائے تو ڈرامے کی ریٹنگ میں اضافہ ہوگا اس کے باوجود اس مسئلے کئی فنکار آواز اُٹھا چکے ہیں۔
ڈرامے کی حالیہ دو قسطیں صرف مرتسم اور میرب کی شادی کے ہی گرد گھومتی رہیں جبکہ آٹھیوں قسط میں ایک سین پر بڑا تعجب ہوا جس میں حیا کا کردار ادا کرنے والی اداکارہ سبین فاروق مرتسم اور میرب کی شادی کی تقریب میں ڈانس کر رہی ہیں۔
میرب اور مرتسم کی مہندی کی تقریب کے دوران مرتسم کی والدہ اچانک حیا سے کہتی ہیں کہ ’کچھ ہلہ گلہ ہوجائے جس پر حیا (جو پہلے ہی اس شادی سے خوش نہیں) اس میں امراؤ جان کی روح آ جاتی ہے۔
حالانکہ یہ وہ ادب و آداب والا گھرانہ دکھایا گیا جہاں لڑکیوں پر گھر سے باہر نکلنے یہاں تک کہ زیادہ تعلیم حاصل کرنے کی بھی اجازت نہیں دی جاتی ہے۔
ہمارے معاشرے میں بھی دیکھا جائے تو ایسا ہوتا ہے کہ کچھ گھرانوں کی شادیوں میں ہلہ گلہ کرنے لیے گانے بجائے جاتے ہیں اور کئی دن قبل ہی ڈانس پریکٹس کرنے کا آغاز کردیا جاتا ہے لیکن ایسا عموماً ماڈرن گھرانوں میں ہی ہوتا ہے۔
سوشل میڈیا پر بھی ’حیا‘ کے اِس ڈانس پر لوگوں نے حیرانی کا اظہار کیا ہے کہ ’سادہ اور دیسی گھروں میں تو ایسا ڈانس معیوب سمجھا جاتا ہے، پھر دإکھانے کی ضرورت کیا تھی؟‘
ڈرامے کی ابتدائی قسطوں کو دیکھ کر ہی اندازہ ہوتا ہے میرب اور مرتسم کی شدید نفرت محبت میں تبدیل ہوجائے گی لیکن ایسا کب اور کیسے ہوگا اس کے لیے ڈرامہ شائقین کو کچھ انتطار کرنا پڑے گا۔