Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

’فرائض انجام دینے میں مشکل نہیں‘، پاکستان کی چھ بہترین خواتین پولیس آفیسرز

سوہائے عزیز نے اپنے کیریئر کے دوران اہم کارنامے سرانجام دیے ہیں (فوٹو: فیس بک سوہائے عزیز)
نومبر 2018 میں جب کراچی کے چینی قونصلیٹ پر حملہ کیا گیا تو پولیس نے بھرپور جوابی کارروائی کرتے ہوئے اس کو ناکام بنا دیا۔ 
پولیس کی اس شاندار کارروائی کی قیادت ایک خاتون پولیس آفیسر سوہائے عزیز نے کی تھی۔ سوہائے عزیز ضلع ٹنڈو محمد خان کے گاؤں بھائی خان تالپور سے تعلق رکھتی ہیں۔ انہوں نے 2012  میں سی ایس ایس امتحان میں کامیابی حاصل کر کے پولیس سروس آف پاکستان میں شمولیت اختیار کی۔ تربیت کے بعد وہ حیدرآباد میں اے ایس پی کینٹ تعینات ہوئیں۔  
جب چینی قونصلیٹ پر حملہ ہوا تو اس وقت وہ کراچی میں اے ایس پی کلفٹن تعینات تھیں۔ 
سوہائے عزیز پاکستان کی ان چند بہترین خاتون پولیس آفیسرز میں شامل ہیں، جنہوں نے اپنے کیریئر کے دوران اہم کارنامے سرانجام دیے ہیں۔ اس کا ایک مظاہرہ انہوں نے دہشت گرد حملے میں مقابلہ کر کے کیا۔ 
اردو نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے سوہائے عزیز نے بتایا کہ دوران سروس ان کی تعیناتی کئی ایسے علاقوں میں رہی ہے جہاں اس سے قبل کسی خاتون پولیس آفیسر کی تعیناتی نہیں ہوئی لیکن انہیں اپنے فرائض انجام دینے میں کبھی کسی مشکل کا احساس نہیں ہوا۔ 
سونیا شمروز خان
ایبٹ آباد سے تعلق رکھنے والی سونیا شمروز خان بھی  پولیس کی ان آفیسرز میں شامل ہیں جنہیں اپنی پوسٹنگ کے دوران سنگین چیلنجز کا سامنا کرنا پڑا اور کامیابی حاصل کی۔ 
اس وقت ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر بٹ گرام کے طور پر کام کرنے والی سونیا شمروز خان دو برس پہلے جب چترال میں تعینات ہوئیں تو وہاں خواتین کی خود کشی کے واقعات میں آئے روز اضافہ ہو رہا تھا اور یہ صورت حال  نہ صرف مقامی لوگوں بلکہ قانون نافذ کرنے والے اداروں کے لیے بھی انتہائی پریشانی کا باعث بنی ہوئی تھی۔  
انہوں نے اس مسئلے کو ایک آزمائش کے طور پر لیا اور کچھ ایسے اقدامات کیے جن سے خواتین میں خودکشیوں کی شرح 54 فیصد سے کم ہو کر 14 فیصد پر آ گئی۔ 
اردو نیوز سے گفتگو کرتے  ہوئے سونیا شمروز خان  نے بتایا کہ ’میں نے اس مسئلے کا علم ہوتے ہی اس کی وجوہات کے بارے میں تحقیق شروع کی اور خواتین کے مسائل سے آگاہی کے لیے مختلف مراکز بنائے جہاں ان کو اپنی مشکلات کے بارے میں بتانے کی ترغیب دی گئی۔‘
ان کا کہنا تھا کہ مراکز کے قیام کے بعد خواتین نے وہاں جا کر اپنے مسائل بتانا شروع کیے جس سے بہت سے مسائل حل کر لیے گیے اور خواتین کے ذہنی دباؤ میں کمی آنا شروع ہو گئی۔ اس کے ساتھ ہی خود کشیوں کا رحجان بھی کم ہو گیا۔ 

 سونیا  کے مطابق ان کو بچپن سے ہی پولیس سروس میں آنے کا شوق تھا (فوٹو: کے پی پولیس)

 سونیا  کے مطابق ان کو بچپن سے ہی پولیس سروس میں آنے کا شوق تھا اور اسی شوق کی وجہ سے انہوں نے 2012 میں مقابلے کا امتحان پاس کیا۔ 
چار بچوں کی پیدائش کے بعد پولیس آفیسر بننے والی زرغونہ منظور 
کوئٹہ شہر میں 7 اگست 2011 کی شام ڈی ایس پی منظور ترین اپنی ڈیوٹی مکمل کر کے گھر کی جانب روانہ ہوئے تو سریاب کے علاقے میں گاڑی پر سوار دہشت گردوں نے ان پر حملہ کر دیا جس میں وہ جان سے گئے۔
یہ کہانی شاید یہیں ختم ہو جاتی مگر ڈی ایس پی منظور ترین کی اہلیہ زرغونہ منظور ترین نے ایک دلیرانہ فیصلہ کرتے خود پولیس کی وردی پہننے کا فیصلہ  کیا۔ یوں پشین کے پٹھان خاندان سے تعلق رکھنے والی چار بچوں کی ماں زرغونہ بلوچستان پولیس کا حصہ بننے والی چند خواتین میں شامل ہوئیں۔
زرغونہ ترین اس وقت کوئٹہ میں خواتین کے لیے بنائے گئے پہلے ماڈل پولیس سٹیشن میں بطور ایس ایچ او تعینات ہیں۔ ان کے مطابق جس شعبے میں کام کرتے ہوئے ان کے شوہر نے جان دی تو وہ چاہتی تھیں کہ وہ خود بھی اسی شعبے میں کام کریں اور محسوس کریں کہ ایک پولیس آفیسر کو کن حالات سے گزرنا پڑتا ہے۔  
گلگگت بلتستان کی پہلی خاتون پولیس آفیسر
ہنزہ سے تعلق رکھنے والی طاہرہ یعصوب کے مطابق وہ میڈیکل کالج کی طالبہ تھیں جب انہوں نے پولیس میں جانے کا فیصلہ کیا۔ اپنے اس فیصلے کے حوالے سے انہوں نے کسی کو بھی آگاہ نہیں کیا۔ ٹیسٹ پاس کرنے کے بعد جب ان کی تقرری ہو گئی تو پھر اس سے متعلق اپنے والد کو آگاہ کیا جس پر انہیں حیرت ہوئی۔

طاہرہ یعصوب کے مطابق انہوں نے یہ پروفیشن بطور چیلنج اختیار کیا (فوٹو: پامیر ٹائمز)

ان کے والد نے ان سے کہا کہ وہ پہلے اپنی تعلیم مکمل کریں، اس دوران اگر کچھ خواتین اس شعبے کا حصہ بن جائیں تو وہ بھی یہ کر سکتی ہیں۔ مگر انہوں نے کہا کہ میں پہلے پولیس میں شامل ہوں گی تاکہ باقی خواتین کے لیے راستے کھلیں۔   
طاہرہ یعصوب کے مطابق کوئی بھی ان کے اس فیصلے کے حق میں نہیں تھا مگر انہوں نے یہ پروفیشن بطور چیلنج اختیار کیا کیونکہ اس سے قبل اس شعبے میں خواتین کی نمائندگی پورے ملک میں نہ ہونے کے برابر تھی۔ 1996 میں وہ گلگت بلتستان کی پہلی خاتون پولیس آفیسر تھیں جو اس شعبے میں آئیں۔
ان کے مطابق وہ پولیس میں شمولیت کے بعد گلگت بلتستان میں کئی اہم پوزیشنز پر خدمات انجام دے چکی ہیں۔ طاہرہ یعصوب اس وقت بطور اے آئی جی اسٹیبلشمنٹ گلگت بلتستان تعینات ہیں۔ ان کے پولیس فورس کا حصہ بننے کے بعد اب تک گلگت بلتستان سے 250 سے زائد خواتین پولیس کا حصہ بن چکی ہیں۔ 
پنجاب کی پہلی خاتون ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر 
گوجرانوالہ سے تعلق رکھنے والی عمارہ اطہر نے سی ایس ایس امتحان پاس کرنے کے بعد 2009 میں پولیس سروس میں شمولیت اختیار کی۔ عمارہ کے والد اور شوہر دونوں ہی پولیس کا حصہ ہیں۔ پولیس کا حصہ بننے کے بعد عمارہ پنجاب کی پہلی خاتون آفیسر تھیں جنہوں نے بطور ڈی پی او بہاولنگر میں خدمات انجام دیں۔ دو بچوں کی ماں ہونے کے ساتھ ساتھ پنجاب پولیس کی ویمن کونسل کی چیئرمین تھیں اور اس وقت اے آئی جی ایڈمن اور سکیورٹی سینٹرل پولیس آفس لاہور تعینات ہیں۔ 

پری گل کے مطابق وہ اپنے 10 بھائی بہنوں میں واحد ہیں جنہوں نے ماسٹرز تک تعلیم حاصل کی (فوٹو: ٹوئٹر پری گُل)

بلوچستان کی پہلی خاتون  سی ایس پی پولیس آفیسر  
پری گل بلوچستان کی پہلی خاتون آفیسر ہیں جنہوں نے سی ایس ایس کا امتحان پاس کر کے پولیس سروس آف پاکستان میں شمولیت اختیار کی۔ پری گل کے مطابق وہ اپنے 10 بھائی بہنوں میں واحد ہیں جنہوں نے ماسٹرز تک تعلیم حاصل کی۔
کوئٹہ میں بطور ایس ڈی پی او تعیناتی کسی چیلنج سے کم نہیں تھی، مگر وہ کہتی ہیں کہ ’شوہر اور ساتھیوں کی سپورٹ سے میں نے تمام ذمہ داریاں پوری کیں۔‘
پری گل نے کوئٹہ میں خواتین کا پہلا ماڈل پولیس سٹیشن قائم کرنے میں بھی کردار ادا کیا جبکہ اس وقت وہ ضلع مانسہرہ میں بطور ڈی پی اوفرنٹیئر کور اوگی تعینات ہیں۔

شیئر: