پاکستان میں سنیچر کو پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے چیئرمین عمران خان کی توشہ خانہ کیس میں عدالت میں حاضری اور زمان پارک میں پولیس آپریشن کی خبریں پورے میڈیا پر چھائی رہیں۔
سابق وزیراعظم عمران خان جب اسلام آباد عدالت میں حاضری کے لیے پہنچے تو ان کے حامیوں کی ایک بڑی تعداد وہاں موجود تھی، جس کے باعث پولیس نے عدالت جانے والے راستوں کو بند کر رکھا تھا۔
عدالت کے اطراف حالات اتنی کشیدگی اختیار کر گئے کہ پولیس کو آنسو گیس کے شیل فائر کرنے پڑے، اور اسی دوران مظاہرین اور سکیورٹی اہلکاروں کے درمیان جھڑپیں بھی دیکھنے میں آئیں۔
مزید پڑھیں
-
لائیو: توشہ خانہ کیس، عمران خان حاضری لگوانے کے بعد لاہور روانہNode ID: 751256
ان جھڑپوں کے دوران پولیس نے پی ٹی آئی کے متعدد کارکنان کو بھی حراست میں لے لیا۔ حالات کشیدہ ہونے کے باعث عمران خان اپنی گاڑی سے نکل کر عدالت نہ جا سکے جس کے بعد جج نے انہیں گاڑی میں ہی بیٹھ کر عدالت میں حاضری لگانے کی اجازت دی۔ اس کے بعد وہ واپس لاہور اپنے گھر زمان پارک کے لیے روانہ ہو گئے۔
میڈیا کی طرح سوشل میڈیا پر بھی اسلام آباد کے حالات اور عمران خان کی کورٹ آمد موضوع گفتگو بنے رہے اور پی ٹی آئی کے حامی اور مخالفین آپس میں بحث کرتے ہوئے بھی نظر آئے۔
پاکستان مسلم لیگ (ن) کی سینیئر نائب صدر مریم نواز نے عمران خان پر طنز کرتے ہوئے ایک ٹویٹ میں لکھا کہ ’میرے پاس حاضر ہو کر میری حاضری قبول فرمائی جائے۔‘
میرے پاس حاضر ہو کر میری حاضری قبول فرمائی جائے! pic.twitter.com/qQXJLtRAcb
— Maryam Nawaz Sharif (@MaryamNSharif) March 18, 2023
پی ٹی آئی کارکنان کی جانب سے پتھراؤ اور توڑ پھوڑ کے حوالے سے صحافی اعزاز سید نے ایک ٹویٹ میں سوال کیا کہ ’کیا عمران خان آپ کو کسی جگہ بھی اپنے کارکنوں کو توڑ پھوڑ اور تشدد نہ کرنے کی تلقین کرتے نظر آئے؟ اگر آئے ہیں تو ویڈیو ضرور شیئر کریں۔‘
کیا عمران خان آپکو کسی ایک جگہ بھی اپنے کارکنوں کو توڑ پھوڑ اور تشدد نہ کرنے کی تلقین کرتے نظر آئے ؟ اگر آئے ہیں تو ویڈیو ضرور شئیر کریں ۔۔۔#Islamabad
— Azaz Syed (@AzazSyed) March 18, 2023
پاکستان کے وزیراعظم شہباز شریف بھی پی ٹی آئی کے چیئرمین پر تنقید کرتے ہوئے نظر آئے۔ انہوں نے ایک ٹویٹ میں لکھا کہ ’اگر کسی کو کچھ شبہ تھا تو عمران نیازی نے پچھلے دنوں میں اپنی فسطائیت اور عسکریت پسندی سب سے کے سامنے کھول کر رکھ دی ہے۔‘
If anyone had any doubt, Imran Niazi's antics of the last few days have laid bare his fascist & militant tendencies. From using people as human shields to throwing petrol bombs at police to leading 'jathas' to intimidate judiciary, he has taken a leaf out of the RSS book.
— Shehbaz Sharif (@CMShehbaz) March 18, 2023
عمران خان کی عدالت آمد پر حکومت کو بھی انٹرنیٹ کی معطلی کے سبب تنقید کا سامنا کرنا پڑا۔ اینکر پرسن غریدہ فاروقی نے ای ٹویٹ میں لکھا کہ ’اسلام آباد میں حکومت نے انٹرنیٹ سروس کیوں بند کر رکھی ہے؟ عمران خان خان کی پیشی ہے کوئی دہشتگرد تو نہیں، اتنا خوف کیوں؟‘
اسلام آباد میں حکومت نے انٹرنیٹ سروس کیوں بند کر رکھی ہے!!؟؟ عمران خان کی پیشی ہے کوئی دہشتگرد تو نہیں! اتنا خوف کیوں ہے!!؟ ایکطرف کہتے ہیں عمران عدالتوں میں پیش ہو لاڈلا نہ بنے اور جب پیش ہوتا ہے تو “خصوصی سروس” کے تحت انٹرنیٹ بند کر دیتے ہیں۔ بلی بنی ہوئی ہے حکومت خان کے سامنے۔
— Gharidah Farooqi (@GFarooqi) March 18, 2023
دوسری جانب سوشک میڈیا پر پی ٹی آئی کے حامی عمران خان کی حمایت میں تبصرے کر تے ہوئے نظر آئے۔
پی ٹی آئی کے رکن ڈاکٹر ارسلان خالد نے لکھا کہ ’آج اسلام آباد اور راولپنڈی کے عوام نے باہر آکر ایک بار پھر حکومت کی سازش ناکام بنادی۔‘
انہوں نے الزام لگایا کہ ’سب کو معلوم ہوگیا کہ حکومت کا مسئلہ پیشی نہیں بلکہ اسکے بہانے عمران خان کو نقصان پہنچانا تھا۔‘
آج اسلام آباد/راولپنڈی کے عوام نے باہر آکر ایک بار پھر حکومت کی سازش ناکام بنا دی۔ سب کو معلوم ہوگیا کہ حکومت کا مسلہ پیشی نہیں بلکہ اسکے بہانے عمران خان کو نقصان پہنچانا تھا۔
— Dr Arslan Khalid (@arslankhalid_m) March 18, 2023
پی ٹی آئی کے ایک اور رکن لعل ماہی ملھی نے لکھا کہ ’مریم نواز صبح سے عمران خان کی گرفتاری کے لیے ٹی وی دیکھ رہی تھیں۔ لگتا ہے اب مایوس ہوگئی ہیں۔‘
مریم نواز صبح سے عمران خان کی گرفتاری کے لیے ٹی وی دیکھ رہی تھی۔ اب لگتا ہے مایوس ہو گئی۔ #تم_ہٹاؤ_ہم_لائینگے_عمران#چلو_چلو_اسلام_آباد_چلو#Islamabad#تم_ہٹاؤ_ہم_لائینگے_عمران
— LAL MALHI (@LALMALHI) March 18, 2023