Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

پی ٹی آئی کارکنوں کی حکمت عملی سے پولیس چکرا گئی

کارکن اپنی حکمت عملی بدل چکے تھے اور پولیس کو چکرائے رکھا۔ فوٹو: اردو نیوز
پنجاب کے صوبائی دارالحکومت لاہور میں چیئرمین عمران خان کی گرفتاری کے دوسرے روز حالات معمول کے مطابق تھے تاہم پی ٹی آئی کی جانب سے شام کے وقت لبرٹی چوک میں مظاہرے کا اعلان کیا گیا تھا۔
پولیس نے متوقع مظاہرے کو روکنے کے لیے دوپہر کے بعد ہی لبرٹی چوک کو آنے والے چاروں راستوں پر کنٹینر رکھ دیے جس سے گاڑیوں کی آمدورفت کا سلسلہ رک گیا۔ شام تک کوئی کارکن بھی لبرٹی چوک میں نہ پہنچا۔
دوسری طرف عمران خان کی رہائش گاہ پر موجود سینکڑوں کارکن پہلے روز سے ہی موجود ہیں اور انہوں نے کنٹینرز رکھ کر سڑک بلاک کر رکھی ہے۔ یہ کنٹینرز چند روز پہلے ہی زمان پارک میں پہنچائے گئے تھے۔
شام تک جب لبرٹی میں چوک میں کارکن نہ پہنچے تو پولیس نے زمان پارک کو کارکنوں سے خالی کروانے کی کوششوں کا آغاز کر دیا اور اپنی ساری توجہ اس طرف مرکوز کر لی۔
تاہم پولیس کو زمان پارک میں شدید مزاحمت کا سامنا کرنا پڑا۔ مال روڈ سے زمان پارک طرف جانے والی سڑک پر پولیس نے خود کنٹینر رکھے ہوئے تھے اور یہ کنٹینرز تجارتی سامان سے بھرے اور ٹرکوں پر لوڈ تھے، جبکہ ان کے ڈرائیور بھی ساتھ ہی تھے۔
شام آٹھ بجے کے قریب جب زمان پارک میں کارکنوں اور پولیس کے درمیان علاقہ میدان جنگ بنا ہوا تھا تو عین اسی وقت کلمہ چوک سے لبرٹی جانے والے راستے پر بھی کارکن نکل آئے۔
کلمہ چوک سے لبرٹی جانے والے راستوں کو بھی مال بردار کنٹینرز رکھ کے بند کردیا گیا تھا۔ دو سے اڑھائی سو کے قریب کارکنان جن میں سے بیشتر موٹر سائیکلوں پر تھے وہ کلمہ چوک پر قبضہ جما چکے تھے۔ ان کارکنوں نے اپنے چہرے بھی ڈھانپ رکھے تھے۔
ان کارکنوں نے چوک میں کھڑے ٹریفک پولیس کے کنٹینر میں بنے آفس کو آگ لگا دی اور ٹریفک کی آمد و رفت معطل کر دی اور اس کے بعد لبرٹی کی طرف جانے والے راستے پر کھڑے کنٹینرز کو پیٹرول چھڑک کر آگ لگا دی۔
پولیس کو اس وقت خبر ہوئی شعلے فضا میں بلند ہوئے۔ لبرٹی چوک سے کلمہ چوک کے درمیان تقریباً ایک کلومیٹر کا فاصلہ ہے۔
پولیس پیدل کلمہ چوک کی طرف روانہ ہوئی لیکن اس وقت تک دیر ہو چکی تھی۔ مشتعل کارکن جلتے ہوئے کنٹینرز کی دوسری طرف تھے۔ پولیس نے صرف آنسو گیس کے شیل چلانے پر ہی اکتفا کیا۔
جب پولیس کو پی ٹی آئی کے کارکنوں کی حکمت عملی سمجھ آئی تو پنجاب یونی ورسٹی اور برکت مارکیٹ سے کارکنوں کے پیھچے سے نفری اور واٹر کینن بھیجی گئی لیکن کارکن پیچھے سے نفری پہنچنے سے پہلے ہی رفو چکر ہو چکے تھے۔
اسی دوران پیٹرول سے بھرا ایک ٹینکر بھی پھٹ گیا کیونکہ اسے بھی آگ لگائی گئی تھی۔ تاہم پولیس کے مطابق اس سے کوئی جانی نقصان نہیں ہوا، البتہ دھماکے کی آواز دور دور تک سنی گئی۔ ادھر مال روڈ پر کھڑے کنٹینرز کو بھی آگ لگا دی گئی۔ ایک کنٹیر کا ڈرائیور جو بوتل سے پانی پھینک کر آگ بجھانے کی کوشش کر رہا تھا وہ زاروقطار رو بھی رہا تھا۔

پی ٹی آئی کارکنوں کی حکمت عملی سمجھنے میں پولیس کو کافی وقت لگا (فوٹو: اے ایف پی)

اہم بات یہ ہے کہ کلمہ چوک میں جلنے والے مال بردار کنٹینرز سے مسلم ٹاون موڑ کا فاصلہ محض ڈیڑھ کلومیٹر کا ہے جہاں ریسکیو 1122 کا دفتر ہے۔ پولیس نے فائربریگیڈ کی گاڑی سے کلمہ چوک جانے والا راستہ بند کر رکھا تھا۔
پولیس نے روایتی طریقے سے کینال روڈ اور لبرٹی کی طرف جانے والے راستوں کو بند کر رکھا تھا لیکن تحریک انصاف کے کارکن مکمل طور پر اپنی حکمت عملی بدل چکے تھے۔ تین گھنٹے تک پولیس کو چکر دیے رکھا۔ بعدازاں جب پولیس کو معاملے کا پتہ چلا تو تب تک کارکن اپنے گھروں کو جا چکے تھے۔
تاہم پولیس زمان پارک کا علاقہ کارکنوں سے کلیئر کروانے میں تاحال ناکام ہے۔ اس مڈھ بھیڑ میں پولیس نے آنسو گیس جبکہ پی ٹی آئی کارکنوں نے پتھروں، ڈنڈوں اور پیڑول بموں کا آزادانہ استعمال کیا۔

شیئر: