آسٹریلیا کے شہر میلبرن میں مصر کے کھلاڑی محمد زکریا کو ہرا کر ورلڈ جونیئر سکواش چیمپیئن شپ جیتے والے حمزہ خان کا تعلق پشاور کے نواحی علاقے نوے کلے سے ہے۔
حمزہ خان کے ورلڈ ٹائٹل جیتنے کے بعد ان کے پورے گاؤں میں جشن کا سماں ہے اور ان کے گھر میں مبارک بادیں دینے کا سلسلہ جاری ہے۔
گاؤں کے باسی بہت خوش ہیں کیونکہ یہ ٹائٹل 37 سال بعد واپس اسی گاؤں کے پاس آیا ہے۔ نوے کلے کی زمین سکواش کے کھیل کے لیے نہایت زرخیز ہے جہاں سکواش کے سات عالمی چیمپیئن پیدا ہوئے جن میں محب اللہ، قمرزمان، جہانگیر خان، جان شیر خان اور ہاشم خان سمیت دیگر کھلاڑی شامل ہیں۔
حمزہ خان کی کامیابی پر ان کے چچا نعمت اللہ خوشی سے پھولے نہیں سما رہے۔ اردو نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ ’حمزہ کی جیت نے پورے گاؤں کا سر فخر سے بلند کر دیا ہے۔ یہ ٹائٹل 37 سال پہلے اسی علاقے کے بیٹے جان شیر کے پاس تھا اور آج دوبارہ یہ اعزاز ہمارے پاس آیا۔‘
مزید پڑھیں
-
روایتی حریف پاکستان اور انڈیا ایمرجنگ ایشیا کپ کے فائنل میںNode ID: 781546
-
37 برس بعد جونیئر سکواش چیمپئن شپ کا عالمی اعزاز پاکستان کے نامNode ID: 781846
نعمت اللہ کا کہنا تھا کہ ’سارے گاؤں اور محلے کے لوگ مبارکباد دینے کے لیے آ رہے ہیں۔ ہم بہت خوش ہیں۔ حمزہ خان کو سکواش سے عشق ہے، وہ سارا سارا دن پریکٹس کرتا رہتا تھا۔ ہمارے علاقے میں کھلاڑیوں کی کوئی کمی نہیں اگر ان کو سہولیات فراہم کی جائیں تو یقیناً ہر گھر سے حمزہ خان جیسا کھلاڑی پیدا ہوگا۔ حمزہ خان کے پاس مقابلوں کے لیے پیسے نہیں ہوتے تھے۔‘
ورلڈ جونیئر چیمپئن حمزہ خان کے کزن اسد خلیل کے مطابق ’حمزہ کے پاس سہولیات نہیں تھیں لیکن پھر بھی وہ ہمت نہیں ہارا، وہ بسوں اور رکشوں میں بیٹھ کر مقابلوں کے لیے جاتا تھا، باقی کھلاڑیوں کے مقابلے میں حمزہ کے پاس سہولیات نہ ہونے کے برابر تھیں۔‘
انہوں نے کہا کہ ’حمزہ خان کو یقین تھا کہ وہ یہ ٹائٹل اپنے نام کرے گا اور آج الحمد اللہ یہ خواب سچ ثابت ہوا۔‘
