Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

صدر نے الیکشن کمیشن کے خط پر وزارتِ قانون سے رائے مانگ لی

بدھ کو صدر مملکت نے چیف الیکشن کمشنر کو خط لکھ کر ملاقات کی دعوت دی تھی (فائل فوٹو: اے پی پی)
صدرمملکت ڈاکٹر عارف علوی نے ملک میں عام انتخابات کی تاریخ دینے کے حوالے سے چیف الیکشن کمشنر سکندر سلطان راجا کی جانب سے لکھے گئے خط پر وزارت قانون سے رائے مانگ لی ہے۔
خیال رہے کہ بدھ کو صدر مملکت عارف علوی نے چیف الیکشن کمشنر سکندر سلطان راجا کو خط لکھ کر ملاقات کی دعوت دی تھی جس میں ملک میں عام انتخابات کی تاریخ کے اعلان کے لیے مشاورت کی جانا تھی۔
جمعرات کو چیف الیکشن کمشنر سکندر سلطان راجا نے عام انتخابات کی تاریخ سے متعلق صدر کے خط کا جواب دیا۔
چیف الیکشن کمشنر نے صدر مملکت عارف علوی کو لکھے گئے جوابی خط میں کہا تھا کہ قومی اسمبلی آئین کے آرٹیکل 58 ون کے تحت وزیراعظم کی سفارش پر صدر نے 9 اگست کو تحلیل کی تھی۔
’اب الیکشن ایکٹ کی سیکشن 57 میں 26 جون کو ترمیم کردی گئی ہے، اس ترمیم سے قبل صدر الیکشن کی تاریخ کے لیے کمیشن سے مشاورت کرتا تھا، اب سیکشن 57 میں ترمیم کے بعد الیکشن کمیشن کو تاریخ یا تاریخیں دینے کا اختیار ہے۔‘
خط کے مطابق آئین کے آرٹیکل 48 فائیو کو آئین کے آرٹیکل 58 ٹ وکے ساتھ پڑھا جائے، وزیراعظم کی سفارش پر اسمبلی تحلیل کی جائے تو الیکشن کمیشن کو عام انتخابات کی تاریخ دینے کا اختیار ہے۔

ایوانِ صدر کی جانب سے وزارت قانون و انصاف کے سیکریٹری کے نام خط لکھ کر رائے مانگی گئی ہے (فائل فوٹو: اے پی پی)

چیف الیکشن کمشنر کی جانب سے جوابی خط موصول ہونے کے بعد ایوانِ صدر نے اس پر وزارت ِ قانون و انصاف  کی رائے مانگ لی ہے۔
ایوانِ صدر نے الیکشن کمیشن کے موقف کہ ’الیکشن کی تاریخ دینے کا اختیار صرف الیکشن کمیشن کے پاس ہے‘  پر رائے مانگی ہے۔  
ایوانِ صدر کی جانب سے وزارت قانون و انصاف کے سیکریٹری کے نام خط لکھ کر رائے مانگی گئی ہے۔
قبل ازیں چیف الیکشن کمشنر نے اپنے خط میں کہا تھا کہ ’آئین کے آرٹیکل 48 کی شق 5 غیر رکاوٹ شدہ ہے، صدر 58 ٹو، 48 فائیو کے تحت اختیارات استعمال کرتے ہوئے اسمبلی تحلیل کرے تو وہ الیکشن کی تاریخ دیتا ہے۔‘
’آئین کے آرٹیکل 48 ون کے تحت صدر وزیراعظم کے مشورے پر عمل کرے گا، یہ بات ریکارڈ پر ہے کہ قومی اسمبلی وزیراعظم کے مشورے پر تحلیل کی گئی، لہٰذا آرٹیکل 48 فائیو قابل غور نہیں رہتی لیکن اگر 58 ون کے تحت وزیراعظم کی سفارش پر صدر  اسمبلی تحلیل کرے تو تاریخ دینا الیکشن کمیشن کا اختیار ہے۔‘
خط میں مزید کہا گیا ہے کہ ’آپ کے خط میں دی گئی شرائط موجودہ صورت حال میں لاگو نہیں ہوتیں، ملک میں اس وقت حلقہ بندیاں بھی جاری ہیں، الیکشن کمیشن نے الیکشن ایکٹ کی سیکشن 17 ٹو کے تحت حلقہ بندیاں کرانے کا فیصلہ کیا، الیکشن کمیشن نے امیدواروں، سیاست دانوں اور ووٹرز کے حقوق کو تحفظ دینے کے لیے حلقہ بندیاں کرانے کا فیصلہ کیا۔‘
چیف الیکشن کمشنر نے جوابی خط میں کہا کہ الیکشن کرانا الیکشن کمیشن کی ذمہ داری ہے اور الیکشن کمیشن اس کو سنجیدگی سے لیتا ہے، الیکشن کمیشن نے الیکٹورل روڈ میپ پر سیاسی جماعتوں کو مشاورت کے لیے مدعو کیا ہے۔
’الیکشن کمیشن صدر کو احترام کی نگاہ سے دیکھتا ہے ، مناسب وقت پر قومی معاملات پر صدر سے ملاقات کر کے رہنمائی لینا اعزاز کی بات ہوگی، کمیشن کی رائے ہے کہ موجودہ صورت حال میں ملاقات کے محدود اثرات ہوں گے۔‘

شیئر: