سعودی خانہ بدوش کی 400 دن کی سیاحت پر مشتمل کتاب کی اشاعت
سعودی خانہ بدوش کی 400 دن کی سیاحت پر مشتمل کتاب کی اشاعت
بدھ 4 اکتوبر 2023 19:27
دوران سفر وہ مشترکہ ڈور ڈھونڈنے میں کامیاب ہو گئے جو انسانیت کو باندھ کر رکھتی ہے۔ فوٹو عرب نیوز
سعودی عرب کا خانہ بدوش راکان المقبل ایک ایسا فرد ہے جس نے اپنی زندگی کا آرام و سکون ترک کر کے 400 دنوں تک دنیا کی منفرد سیاحت کا ارادہ کیا۔
عرب نیوز کے مطابق راکان سفری کہانیوں پر مشتمل اپنی شائع ہونے والی پہلی کتاب ' تائہ علی الخریطۃ ' (نقشے میں گمشدہ ) کی ریاض کے بین الاقوامی کتب میلے میں نمائش کر رہے ہیں۔
کتب میلے میں موجودگی پر جذبات کا اظہار کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ مشرق وسطیٰ کے سب سے بڑے کتاب میلے میں روداد بیان کرنے کا موقع ملنا میرے لیے انتہائی خوشی کا باعث ہے۔
نئی اشاعت کے بارے میں انہوں نے کہا کہ یہ سچی کہانیوں پر مشتمل دلچسپ کتاب ہے جس میں انہوں نے اپنی کار بیچ کر اور باقی سب کچھ چھوڑ چھاڑ کر دنیا کا سفر کرنے کا ارادہ کیا۔
راکان المقبل نے اپنے گھر واپس آئے بغیر لگاتار 400 دن سے زیادہ نو مختلف ممالک کا سفر طے کیا۔
المقبل نے بتایا کہ اپنے خاندان، ملازمت اور املاک کو پیچھے چھوڑنا انتہائی مشکل کام تھا اور وہ بھی صرف 800 ڈالر ماہانہ کے محدود بجٹ کے ساتھ۔
بہت سی رکاوٹوں کے باوجود راکان نے مختلف ثقافتوں اور مناظر کے اسرار سے پردہ اٹھاتے ہوئے مسلسل کوشش اور ہمت کی زندگی اپنائی۔
المقبل نے چند ممالک میں 'ہچ ہائیکنگ' کے ذریعے پیدل اور لفٹ لے کر بہت زیادہ مسافت طے کی جس میں تھائی لینڈ سے ملائیشیا تک 1500 کلومیٹر کا سفر بھی شامل ہے۔
کم بجٹ کے باعث انہوں نے ایک سے دوسرے ملک کے لیے بھی نقل و حمل کا کوئی مہنگا ذریعہ استعمال نہیں کیا، جیسے بسیں، کرائے کی کاریں یا ہوائی جہاز وغیرہ۔
المقبل کے سیاحتی سفر کے راستے میں کچھ مشکلیں بھی شامل ہیں، کچھ ممالک میں لوگوں نے انہیں دھمکانے کی بھی کوشش کی گئی جس کا کتاب میں ذکر انہوں نے کم ہی کیا ہے۔
اپنی خانہ بدوشی کی زندگی کے دوران کچھ ملاقاتوں کے ذریعے وہ سطحی اختلافات کے باوجود اس مشترکہ ڈور کو ڈھونڈنے میں کامیاب ہو گئے ہیں جو انسانیت کو باندھ کر رکھتی ہے۔
سعودی خانہ بدوش نے انکشاف کیا کہ میں ہمیشہ کہتا ہوں کہ سفر لوگوں کے لیے کریں جگہوں کے لیے نہیں کیونکہ جگہیں تو وہیں رہ جائیں گی مگر وہاں موجود لوگ چلے جائیں گے۔
میکسیکو کے اپنے قیام کے بارے میں انہوں نے لکھا ہے کہ میکسیکو کی مہمان نوازی اور مہربانی عربوں کی طرح ہے، وہاں میں تین ماہ تک رہا، وہاں عرب ثقافتوں کی مانند بہت سی مماثلتیں پائی جاتی ہیں۔
انہوں نے امید ظاہر کی کہ وہ ضرور ایک دن اپنی کتاب کا انگریزی اور ہسپانوی زبانوں میں ترجمہ بھی پیش کریں گے۔
سعودی عرب کی مزید خبروں کے لیے واٹس ایپ گروپ جوائن کریں