عمر کے پانچ عشرے گزر جانے کے بعد جو چند چیزیں سیکھیں، ان میں سے ایک یہی ہے کہ ہم کچھ نہیں جانتے۔ ہم مختلف علوم، فنون سیکھ لیتے ہیں، اس کے باوجود زندگی میں ہونے والا بہت کچھ ایسا ہے جو ہم نہیں جانتے، نہیں جان سکتے۔ یہی زندگی کا اسرار، تحیر اور جادو ہے۔
زندگی کو اس قدر خوبصورت، پراسرار اور دلچسپ شاید یہ عنصر بناتا ہے۔ ورنہ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ یہ اپنی کشش کھو بیٹھتی۔
سب کچھ توقع اور اندازے کے مطابق ہونے لگے تو شاید ہم میں سے بہت سے مستقبل کو نظر اٹھا کر ہی نہ دیکھیں۔ زندگی کے پرچے میں ان سین Unseenسوالات کا آنا ہی اسے اس قدر اہم،غیر یقینی اورڈرامائی بناتا ہے۔
انگریزی کا مشہور محاورہ You Never Know اپنے اندر ایک خاص کشش اور سچائی رکھتا ہے۔
مزید پڑھیں
-
کس خفیہ سکرپٹ کو کامیابی ملے گی؟ عامر خاکوانی کا کالمNode ID: 832741
دو تین سال پہلے نیٹ فلیکس پر ایک ڈرامہ سیزن دیکھا، اس میں ایک دلچسپ اختراع کی گئی تھی کہ دیکھنے والا اپنی مرضی سے کہانی تبدیل کر سکتا تھا۔ کسی خاص موڑ پر اچانک دو آپشنز سامنے آجاتیں۔ آپ ان میں سے کسی ایک کو کلک کرتے توکہانی کا اگلا منظرنامہ سامنے آتا اور کسی خاص اختتام تک کہانی چلتی۔ اب آپ واپس آ کر دوسری آپشن کلک کریں تو ایک مختلف کہانی چل پڑے گی، اس کا انجام مختلف ہوگا۔
مثال کے طور پر ایک کہانی میں خاتون اغوا ہو گئی، ایک خاص موڑ پر جذباتی مکالمہ شروع ہو گیا، خاتون شدید مشتعل ہو گئی۔ آپشن آئی کہ یہ خاتون اغوا کار کے چہرے پر تھوک دے گی یا پھر غصے میں چلاتی ہوئی بے دم ہو کر گر پڑے گی۔ منہ پر تھوک دینے کی صورت میں اغوا کار کا فوری ردعمل آتا اور وہ جواب میں گولی مار دیتا۔
آگے پھر کہانی چلتی اور شدید زخمی لڑکی جانبر نہ ہو پاتی۔ دوسری آپشن میں کہانی ایک اور طرف مڑ جاتی، پرپیچ واقعات کے بعد انجام اور نکل آتا۔
ابتدا میں یہ بڑا دلچسپ لگا۔ نئی چیز تھی۔ دو چار بار ٹرائی کرنے کے بعد اندازہ ہوا کہ یہاں بھی اکا دکا آپشنز ہی ہیں اور وقت گزرنے کے ساتھ آپ ان میں کشش کھو بیٹھتے ہیں۔ زندگی کے سفر میں البتہ موڑ بھی بہت ہیں اور ناگہانی واقعات کی بھی کمی نہیں۔
کئی سال پہلے ایک چینی کہانی پڑھی تھی، ابن انشا اس کے راوی تھے اور اسے بیان اشفاق احمد نے کیا تھا۔
کہانی کے مطابق قدیم چین کے ایک گاﺅں میں ایک بابا اپنے اکلوتے نوجوان بیٹے کے ساتھ رہتا تھا۔ ان کے پاس ایک بڑا قدآور خوبصورت اعلیٰ نسل کا گھوڑا تھا۔ دور دور تک اس گھوڑے کی دھوم تھی۔ آس پاس کے دیہات، شہروں سے بہت سے رئیس، نواب گھوڑا خریدنے آئے۔
بابا صاف انکار کر دیتا۔ اس کا کہنا تھا کہ یہ گھوڑا نہیں، میری اولاد کی طرح ہے اور بچوں کو بیچا نہیں جاتا۔

گاﺅں میں اس کے خیرخواہ اسے سمجھاتے کہ تم غریب آدمی ہو، قیمتی گھوڑے کی حفاظت نہیں کر پاﺅ گے، اچھے دام لگ رہے ہیں، اسے بیچ دو۔ بوڑھا آدمی یہ مشورے ایک کان سے سن کر دوسرے سے نکال دیتا۔
ایک صبح دونوں باپ بیٹا اٹھے تو معلوم ہوا کہ گھوڑا جس کمرے میں بند تھا، اس کا دروازہ کھلا ہے اور گھوڑا موجود نہیں۔ انہوں نے ادھر ادھر خوب ڈھونڈا، مگر کوئی سراغ نہ ملا۔ گاﺅں والوں کو پتہ چلا تو وہ ہمدردی کرنے آپہنچے۔
بعض نے ہمدردی کی تو کسی نے اپنی نصیحت یاد دلائی کہ تمہیں کہتے تھے گھوڑا بیچ دو، تب تم ماننے کو تیار نہیں تھے، اب دیکھو تم کتنے بدقسمت نکلے۔
یہ بات سن کر بابا ناراض ہوا، خفگی سے بولا، یہ ٹھیک ہے کہ میرا گھوڑا غائب ہوگیا ہے، مگر اس سے میری بدقسمتی کیسے ثابت ہوگئی؟ گاﺅں والوں نے حیرت سے اس دلیل کو سنا اور بولے کہ اتنا مہنگا گھوڑا چوری ہو جانا بدقسمتی نہیں تو اور کیا ہے؟ خیر وہ لوگ تمسخر اڑاتے ہوئے واپس گھروں کو لوٹ گئے۔
چند دنوں بعد وہی گھوڑا گھر لوٹ آیا اور اپنے ساتھ اکیس شاندار جنگلی گھوڑوں کو بھی لے آیا۔ اندازہ ہوا کہ گھوڑا چوری نہیں ہوا تھا، شائد دروازہ ٹھیک سے بند نہیں تھا، اس کے ٹکرانے سے کھل گیا اور گھوڑا نکل کر قریبی جنگل میں چلا گیا۔ وہاں دوسرے گھوڑے اس کے دوست بن گئے، وہ اب انہیں بھی ساتھ لے آیا۔
گاﺅں میں یہ خبر آگ کی طرح پھیل گئی۔ لوگ بھاگے بھاگے مبارکباد دینے آئے۔ انہوں نے کہا کہ واقعی گھوڑے کا جانا تمہاری بدنصیبی نہیں تھی بلکہ خوش نصیبی تھی، اب دیکھو ایک کی جگہ تمہارے پاس 22 شاندار گھوڑے ہوگئے ہیں، تم تو بیٹھے بٹھائے لکھ پتی ہوگئے، کتنے خوش نصیب ہو۔ بابا پہلے تو چپکے سے سنتا رہا پھر بھنا کر بولا، تم لوگ ہمیشہ الٹی سیدھی باتیں کرتے ہو، ٹھیک ہے کہ میرا گھوڑا واپس آ گیا، ساتھ اتنے گھوڑے بھی لایا، مگر کون کہتا ہے کہ یہ میری خوش نصیبی ہے؟
خوش بختی، خوش نصیبی کا اس سے کیا تعلق ؟ لوگ پھر حیران ہوئے کہ عجب بوڑھا ہے، سادہ سی بات سمجھ نہیں آتی۔ خیر وہ اپنا سامنہ لے کر واپس چلے گئے۔
بوڑھے کے بیٹے نے جنگلی گھوڑوں کو سدھانا شروع کر دیا۔ ایک دن ایک سرکش گھوڑے کو سدھانے کی کوشش میں وہ ایسا الٹ کر گرا کہ ران کی ہڈی ٹوٹ گئی۔ گاﺅں والے پھر آئے، افسوس کرتے رہے اور ان میں سے ایک سیانا بولا ، بابا جی آپ ٹھیک کہہ رہے تھے، گھوڑوں کا آنا خوش نصیبی نہیں بلکہ بدنصیبی تھی، تمہارا جوان بیٹا معذور ہو کر بستر پر آگیا، اسے تو ٹھیک ہونے میں کئی ماہ لگ جائیں گے، تب تک تمہاری زمینوں، فصل وغیرہ خیال کون کرے گا؟ تمہاری بدقسمتی کہ یہ سانحہ ہوگیا۔
بوڑھا آدمی ٹھنڈی سانس لے کر بولا، تم لوگوں کی سمجھ میں یہ بات نہیں آسکتی۔ وہ میری خوش نصیبی نہیں تھی اور نہ ہی بدنصیبی ہے۔ تقدیر کے اپنے رنگ ہیں، ہمیں کچھ پتہ نہیں کہ آگے کیا ہونے والا ہے۔ وقت ہی ثابت کرتا ہے کہ کیا درست اور کیا غلط ہوا۔
