Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

ڈونلڈ ٹرمپ پر حملہ کرنے والا تھامس کروکس پیچھے کیا راز چھوڑ گیا؟

ووٹر رجسٹریشن کے ریکارڈ سے پتہ چلتا ہے کہ تھامس کروکس ایک رجسٹرڈ ریپبلکن تھا (فوٹو: روئٹرز)
سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ پر انتخابی مہم کے دوران حملہ کرنے والے تھامس کروکس کے بارے میں بتایا جاتا ہے کہ وہ خاموش طبع اور دوسروں سے الگ تھلگ رہنے والا نوجوان تھا، لیکن اس کے جاننے والے لوگوں کو اس طرح کے حملے کی توقع نہیں تھی۔
تھامس کروکس کے ٹرمپ پر حملہ کرنے کے پیچھے کیا نظریاتی محرکات تھے اور اس کی کیا وجوہات تھیں، یہ سب چیزیں ابھی تک ایک معمہ بنی ہوئی ہیں۔
برطانوی خبر رساں ادارے روئٹرز نے اس کی جان پہچان والے لوگوں اور دیگر افراد کے انٹرویوز کیے ہیں۔
کروکس نے الیگینی کاؤنٹی کے کمیونٹی کالج سے مئی میں انجینیئرنگ میں دو سالہ ایسوسی ایٹ ڈگری کے ساتھ گریجویشن کی، اور اسے جاننے والے دو لوگوں نے کہا کہ کروکس کا مستقبل روشن دکھائی دے رہا تھا۔
کالج کے ایک انسٹرکٹر نے اپنی شناخت ظاہر کیے بغیر بتایا کہ انہوں نے کروکس کی اسائنمنٹس دیکھی ہیں اور اس بات پر حیران ہیں کہ ’ایک باضمیر طالب علم جس نے خود کو دوسروں سے ممتاز کیا وہ قاتل کیسے بن سکتا ہے۔‘
انسٹرکٹر نے کہا کہ وہ سوچ سمجھ کر ہوم ورک کرتا تھا اور اس کی ای میلز شائستہ تھیں۔ اس نے معذور لوگوں کے لیے ایک کھلونا دوبارہ ڈیزائن کرنے کے لیے ایک اسائنمنٹ میں مہارت حاصل کی۔ ’اس نے نابینا افراد کے لیے شطرنج کا ایک سیٹ تیار کیا۔ اس نے اسے تھری ڈی پرنٹ کیا۔ اس نے اس پر بریل بنایا۔ اس نے اس شعبے کے ماہرین سے بات کی۔ اس نے واقعی بہت محنت کی تھی۔‘
سیموئل سٹروٹمین نے کروکس کے ساتھ دو آن لائن کلاسز لیں۔ اس نے کہا کہ کروکس نے کبھی بھی لیکچرز میں بات نہیں کی تھی اور اس کا کیمرہ بند رہتا تھا۔
کالج کے ایک ملازم نے، جو کروکس کو جانتا تھا، کہا کہ وہ خاموش لیکن خوشگوار تھا۔ ’یہ بہت بہت غیر متوقع ہے۔‘ ملازم نے کہا کہ کروکس مکینیکل انجینیئرنگ میں اپنا کیریئر بنانے میں دلچسپی رکھتا تھا۔
تھامس کروکس کے گھر میں سیاسی تقسیم تھی۔ ووٹر رجسٹریشن کے ریکارڈ سے پتہ چلتا ہے کہ وہ ایک رجسٹرڈ ریپبلکن تھا۔ اس کے والد لبرل ہیں اور اس کی والدہ ڈیموکریٹ ہیں۔ دونوں سماجی کارکن ہیں۔ جب کروکس 17 سال کا تھا تو اس نے وفاقی انتخابی اعداد و شمار کے مطابق ڈیموکریٹک ٹرن آؤٹ گروپ کے لیے مختص سیاسی ایکشن کمیٹی کو 15 ڈالر کا عطیہ دیا۔

ہائی سکول کے سابق ہم جماعت میکس رچ نے کہا کہ کروکس شرمیلا تھا اور وہ اس طرح کا تشدد کرنے والا نہیں لگتا تھا (فوٹو: اے پی)

اس کے سکول کے کونسلر جم کنیپ نے کہا کہ کروکس شاذ و نادر ہی اس کے ریڈار پر آتا تھا کیونکہ اسے کبھی ان سے کونسلنگ کی ضرورت نہیں پڑی تھی۔ نیپ نے کبھی کبھار دوپہر کے کھانے پر اسے دیکھا کیونکہ وہ اکیلا بیٹھتا تھا۔
’میں نے پوچھا کہ آپ کسی کے ساتھ بیٹھنا پسند نہیں کرتے تو اس نے کہا کہ  نہیں، میں اکیلا ہی ٹھیک ہوں۔‘
ہائی سکول کے سابق ہم جماعت میکس رچ نے کہا کہ کروکس شرمیلا تھا اور وہ اس طرح کا تشدد کرنے والا نہیں لگتا تھا۔
تفتیش کاروں کو میتھیو کروکس کے فون اور کمپیوٹرز کھولنے کے بعد بھی ایسے شواہد ابھی تک نہیں ملے جس سے پتہ چلے کہ وہ کیا سیاسی یا نظریاتی محرکات تھے جس کے سبب میتھیو کروکس نے ٹرمپ کو قتل کرنے کی کوشش کی۔

شیئر: